مضارب پر نقصان کے تاوان کا حکم:
Question
حامد اور محمود دونوں نے تجارت شروع کی، معاہدہ میں لکھا کہ ۵ لاکھ روپے راس المال کے طور پر محمود دے گا، اور حامد تجارت کرے گا، حاصل شدہ نفع میں ہے سے ۷۵ فیصد محمود لے گا، اور ۲۵ فیصد نفع حامد کو ملے گا، اگر کوئی نقصان ہوگا تو فقط محمود برداشت کرے گا، معاہدہ کے مطابق دو سال سے تجارت کر رہے تھے، کچھ عرصہ پہلے چند لوگوں نے حامد سے مال خریدا اور لا پتا ہو گئے، اور رقم ادا نہیں کی، اب محمود حامد سے نقصان کا مطالبہ کرتا ہے، جب کہ معاہدہ میں اس کے خلاف مرقوم ہے، اور حامد پوری وسعت کے مطابق صحیح طریقہ پر تجارت کر رہا تھا، اس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں تھی، اب شرعاً کیا حکم ہے؟
Answer
عقدِ مضاربت میں مضارب جو مال رب المال سے حاصل کرتا ہے اس میں وہ امین ہے، اور تصرف کے لحاظ سے وہ وکیل بھی ہے، یعنی سرمایہ لگانے والے کا وہ نمائندہ ہے، اور امین کی حیثیت سے سرمایہ کی حفاظت کرنا لازم اور ضروری ہے، لیکن اگر اتفاق سے اس سرمایہ میں نقصان آ جائے یا ضائع ہو جائے تو مضارب اس کا ذمہ دار نہیں، لیکن اگر یہ ثبوت مل جائے کہ اس نے قصداً مال کو ضائع کیا ہے، تو پھر وہ ذمہ دار ہوگا، نیز رب المال کے شرائط کی مخالفت کی ہے تب بھی ذمہ دار ہوگا ۔
مذکورہ بالا حکمِ شرعی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے صورتِ مسئولہ کا حکمِ شرعی یہ ہے کہ نقصان کی تلافی اولاً حاصل شدہ نفع سے کی جائے گی، اور اگر نفع نہیں ہوا یا نقصان نفع سے زیادہ ہے اور حامد نے تجارت میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے، تو حامد نقصان کا ذمہ دار نہیں، بلکہ محمود نقصان برداشت کرے گا ۔
نیز اگر معاہدہ میں نقصان کی شرط مضارب پر عائد کی گئی ہوتی تو پھر بھی مضارب اس کا ذمہ دار نہیں، اور مضاربت بھی فاسد نہیں ہوتی، بلکہ شرط خود باطل ہو جاتی ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:
(ويملك المضارب في المطلقة) التي لم تقيد بمكان أو زمان أو نوع (البيع)
(بنقد ونسيئة متعارفة). وفي رد المحتار: قوله بنقد ونسيئة ولو اختلفا فيهما فالقول للمضارب في المضاربة. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦٤۸، كتاب المضاربة، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
وما هلك من مال المضاربة فهو من الربح، دون راس المال، فإذا زاد الهالك على الربح فلا ضمان على المضارب لأنه أمين. (الهداية: ۳/۲٦٦).
(وكذا في الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦۵٦، سعيد).
ہدایہ میں ہے:
وغير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسدها ويبطل الشرط كشرط الوضيعة على المضارب. (الهداية: ۳/۲۵۸. وكذا في الدر المختار: ۵/٦٤۸).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
صورتِ مذکورہ میں عقدِ مضاربت صحیح ہے لیکن کل نقصان فقط روپیہ دینے والے کے ذمہ ہوگا، (مضارب) کام کرنے والے کے ذمہ اس میں سے کچھ نہ ہوگا ۔
وفي رد المحتار: قوله بطل الشرط كشرط الخسران على المضارب. (
جدید معاملات کے شرعی احکام:
۲
/
۳۳
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.