مضاربت میں ملازم کی تنخواہ کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #376Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةمضاربت کے احکام کا بیان

Question

خالد اور راشد نے بطورِ مضاربت کے ایک تجارت کی خالد کی محنت اور راشد کا راس المال لگایا گیا اور ایک مزید مزدور اور ایک گاڑی خرید کر مختلف شہروں میں مال وغیرہ بیچنا شروع کر دیا گیا اب دریافت طلب مسئلہ یہ ہے کہ؛
(۱) مذکورہ بالا صورت میں اس مزدور کی تنخواہ اور گاڑی کے مصارف کا ذمہ دار کون ہوگا؟
(۲) اگر بالفرض تجارت میں نفع نہ ہوا تو اس صورت میں ان دونوں کے اخراجات کون برداشت کرے گا ۔
مہربانی فرما کر جواب تحریر فرمائیں گے ۔
وجزاكم الله عنا خير الجزاء في الدارين.

Answer

جاننا چاہیے کہ عقدِ مضاربت میں مضارب کی حیثیت "جب اسے مالک نے اپنا مال سپرد کر دیا" فقط امین کی ہے، اور جب اس مال میں تصرف شروع کرتا ہے تو وہ مالک کی طرف سے وکیل ہوتا ہے، اور جو بھی نفع حاصل ہوتا ہے اس میں وہ شریک ہوتا ہے، اس کے علاوہ کسی قسم کے نقصان کا ضامن ٹھہرانے کی شرط باطل ہے، چنانچہ اگر عقد کے وقت نفع کے ساتھ نقصان میں بھی شرکت کرائی گئی تو یہ شرط باطل ہے اور مضارب نقصان میں شریک نہ ہوگا ۔ ملاحظہ فرمائیں:

وحكمها أنه أمين بعد دفع المال إليه ووكيل عند العمل وشريك عند الربح. (البحر الرائق: ۷/۲٦۴، كوئته).

علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

(وبطل الشرط) كشرط الخسران على المضارب. (رد المحتار: ۵/٦۴۸، سعيد).

لہذا صورتِ مسئولہ میں خالد مضارب ہے اور راشد رب المال یعنی مالک ہے، کاروبار کو چلانے کے لیے جو گاڑی اور ملازم رکھا گیا ہے ان دونوں کے جملہ مصارف مالِ مضاربت سے ادا کیے جائیں گے، مضارب یعنی خالد پر شرعاً کوئی خرچ محنت کے سوا لازم نہیں ہے ۔ چنانچہ اگر تجارت میں نفع ہوا تو سب سے پہلے اخراجات منہا کیے جائیں گے، بعد ازاں باقی ماندہ نفع دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا ۔ اور اگر تجارت میں نفع نہیں ہوا تو راس المال سے اخراجات ادا کیے جائیں گے، مضارب ان مصارف کا ذمہ دار نہیں ہوگا ۔
البحر الرائق میں ہے:

وله الإبضاع والإيداع واستئجار العمال للأعمال واستئجار المنازل لحفظ الأموال واستئجار السفن والدواب وله أن يرهن ويرتهن لها. (البحر الرائق: ۷/۲٦۴، كوئته).

نیز مذکور ہے:

(فإن ربح أخذ المالك ما أنفق من رأس المال أي ما أنفقه المضارب فإذا استوفي رأس ماله وفضل شيء اقتسماه، لأن ما أنفقه يجعل كالهالك وأشار المصنف إلى أن للمضارب أن ينفق على نفسه من مال المضاربة في السفر قبل الربح وإلى أنه لو لم يظهر ربح لا شيء على المضارب. (البحر الرائق: ۷/۲۷۰، كوئته).

فتاوی ہندیہ میں ہے:

وسبيل النفقة أن يحتسب من الربح إن كان وإن لم يكن فهي من رأس المال. (الفتاوى الهندية: ۴/۳۱۳).

شرح مجلہ میں ہے:

علي كل حال يكون الضرر والخسارة على رب المال وإذا شرط كونه مشتركاً عليه وعلى المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط، لأن هذا الشرط زائد لا يوجب قطع الشركة في الربح ولا الجهالة فيه فلا يكون مفسداً ويبطل الشرط. (شرح المجلة. لمحمد خالد الأتاسي: ۴/۳٦۴، المادة: ۱٤۲۸).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.