گاڑیوں کی کمپنی کے ساتھ عقدِ مضاربت کا حکم:

4 min readFatwa Vol 9 #417Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

موریشس میں ایک کمپنی قائم کی گئی ہے؛ لوگ پیسے دیتے ہیں اور کمپنی بطورِ وکالت گاڑیوں کی تجارت کرتی ہے، پیسے دینے کے بعد کم از کم چھ ماہ رکھنا ضروری ہے اس سے پہلے موکل نہیں لے سکتا ہے، چھ ماہ کے بعد نفع نقصان کا حساب کتاب ہوتا ہے، کمپنی کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ راس المال پر سالانہ چھ فیصد نفع کمائے، پھر چھ ماہ بعد اگر چھ فیصد سے کم نفع حاصل ہوا تو راس المال مع منافع موکل کو دے دیا جاتا ہے اور اگر چھ فیصد پر زیادہ ہوگا تو وکیل کا ہوگا، نقصان کی صورت میں راس المال کے تناسب سے کمی ہو گی، بہر صورت وکیل کمپنی چلانے کی فیس وصول کرتا ہے ۔ کیا یہ معاملہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ ایک طرف سے عمل ہے اور دوسری طرف سے مال ہے لہٰذا یہ عقدِ مضاربت ہے وکیل مضارب ہے اور موکل رب المال ہے اور مضاربت میں مضارب کا منافع کے فیصد کے ساتھ اجرت لینا جائز اور درست ہے، زمانہ حال کے مفتی حضرات کے نزدیک شریک اجیر بن سکتا ہے ۔
البتہ نفع کی تقسیم کا جو طریقہ ہے وہ بظاہر صحیح نہیں، اس کو اس طرح صحیح کر لیا جائے کہ جو بھی کمپنی کو نفع ہوگا وہ فیصد کے اعتبار سے تقسیم کیا جائے گا، اور اس کے لیے فیصد مقرر کر لیے جائیں، اور خدانخواستہ اگر نقصان ہو جائے تو رب المال اس کے ذمہ دار ہوں گے، کمپنی (مضارب) اس کی ذمہ دار نہ ہو گی ۔
نیز عقدِ مضاربت کو مؤقت بھی کر سکتے ہیں کہ چھ ماہ سے قبل کوئی بھی پیسے واپس نہیں لے سکتا اور چھ ماہ بعد واپس کیے جائیں گے لیکن پہلے سے معاہدہ کر کے اس پر دستخط کروا لیے جائیں ۔
ملاحظہ ہو در مختار میں مرقوم ہے:

المضاربة

وشرعاً عقد شركة في الربح بمال من جانب رب المال وعمل من جانب المضارب. وفي رد المحتار: قوله وشرعاً عقد شركة، قال في النهاية: ومن يحذو حذوه أنها دفع المال إلى غيره ليتصرف فيه ويكون الربح بينهما على ما شرطا. (الدر المختار مع رد المحتار: ٥/٦٤٥، سعيد).
وفيه أيضاً: وشرطها:

وكون الربح بينهما شائعاً فلو عين قدراً فسدت، وكون نصيب كل منهما معلوماً عند العقد. (الدر المختار: ٥/٦٤٨، سعيد).

اسلام اور جدید معاشی مسائل میں مذکور ہے:
اگر عقدِ مضاربہ میں داخل ہوتے وقت ہی فریقین اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ کوئی فریق بھی ایک معینہ مدت کے اندر چند مخصوص حالات کے علاوہ مضاربہ کو ختم نہیں کرے گا تو یہ بات بظاہر شریعت کے کسی اصول کے خلاف معلوم نہیں ہوتی، بالخصوص اس حدیث کی روشنی میں ؛ جس میں یہ آیا ہے کہ:

المسلمون على شروطهم إلا شرطاً أحل حراماً أو حرم حلالاً. (رواه الترمذي، رقم: ١٣٥٢، وقال: هذا حديث حسن صحيح).
(اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٥/٤٧، ط: ادارۂ اسلامیات) ۔
شریک اجیر بن سکتا ہے اور اس کے لیے منافع کے فیصد کے علاوہ ماہانہ تنخواہ مقرر کی جا سکتی ہے ۔ ملاحظہ ہو : (احسن الفتاوی: ٧/٣٢٨، سعید) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.