کمپنی کو بطورِ مضاربت مال دینے کا حکم:
Question
ایک شخص نے کسی کمپنی کو کچھ رقم دی ٹینک خریدنے کے لیے، وہ کمپنی ٹینک خرید کر اپنے منیجر کے حوالہ کرتی ہے اور کمپنی کا منیجر اس ٹینک کو دوسرے ٹینکوں کے ساتھ اجرت پر دیتا ہے، پھر حاصل شدہ نفع آپس میں تقسیم کرتے ہیں، اس طور پر کہ تقریباً ۱۵ فیصد منیجر لیتا ہے اور ۵ فیصد کمپنی لیتی ہے، اور بقیہ نفع ٹینک کے مالکوں کے درمیان تقسیم ہوتا ہے، شرعاً اس عقد کی گنجائش ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ یہ معاملہ عقدِ مضاربت کا ہے، اس طور پر کہ ٹینک کے مالکان حضرات رب المال کے حکم میں ہے، اور کمپنی، منیجر وغیرہ مضارب کے حکم میں ہیں، اور مالِ مضاربت کو دوسروں کے مال کے ساتھ ملا کر تجارت کرنا رب المال کی صراحۃً اجازت سے یا یہ کہنے سے کہ اپنی رائے پر عمل کرو جائز اور درست ہے، اور آپس میں نفع فیصد کے اعتبار سے متعین ہے، لہذا یہ عقدِ مضاربت صحیح اور درست ہے ۔
عالمگیری میں ہے:
الأصل أن ما يفعله المضارب ثلاثة أنواع نوع يملكه بمطلق المضاربة وهو ما يكون من باب المضاربة وتوابعها ومن جملته التوكيل بالبيع والشراء للحاجة
ونوع لا يملكه بمطلق العقد ويملكه إذا قيل له اعمل برأيك وهو ما يحتمل أن يلحق به فيلحق به عند وجود الدلالة وذلك مثل دفع المال مضاربة أو شركة إلى غيره وخلط مال المضاربة بماله أو بمال غيره. (الفتاوى الهندية: ٤/۲۹۱، باب فيما يملك المضارب من التصرفات).
در مختار میں ہے:
ولا يملك المضاربة والشركة والخلط بمال نفسه إلا بإذن. وفي رد المحتار: قوله والخلط بمال نفسه أي أو غيره كما في البحر الا أن تكون معاملة التجار في تلك البلاد أن المضاربين يخلطون، ولا ينهونهم فإن غلب التعارف بينهم في مثله وجب أن لا يضمن كما في التاتارخانية. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/٦٤۹، كتاب المضاربة، سعيد).
فتاوی قاضيخان میں ہے:
وللمضارب أن يعمل ما هو من عادات التجار وهو
واستئجار الأجراء لحفظ المال واستئجار الدواب للحمل واستئجار المكان والسفر. (فتاوى قاضيخان بهامش الفتاوى الهندية: ۳/۱٦٦، فصل فيما يجوز للمضارب على المضاربة). (وكذا في البحر الرائق: ۷/۲٦٤، كوئته).
شرح مجلہ میں ہے:
الثاني أن يكون جزء اً شايعاً قل أو كثر كالنصف أو الثلث لأن الشركة في الربح إنما تتحقق به حتى لو شرطا لاحدهما مائة من الربح مثلاً أو مائة مع الثلث أو الثلث إلا مائة والباقي للآخر لم تجز المضاربة لأنه يؤدي إلى قطع الشركة في الربح لجواز أن لا يربح إلا ذلك القدر. زيلعي، وحاشية للشلبي. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي: ٤/۳۳۳، تحت المادة: ۱٤۱۱).
مزید ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام:
۲
/
۲۳
) ۔
چونکہ آج کل مضاربت میں دوسرے اموال کے ساتھ مال ملانا معروف ہے، لہذا اجازت کی ضرورت نہیں ہے، جیسا کہ شامی کی عبارت سے واضح ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.