تجارت میں نفع نہ ہو تو فسخ کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #394Urdu
Vol. 5كتاب المضاربةمضاربت کے احکام کا بیان

Question

دو آدمیوں کے درمیان عقدِ مضاربت کا معاملہ ہوا کہ ایک کا مال اور دوسرا عمل کرے گا، ایک زمین خریدی گئی ایک لاکھ رینڈ میں جس پر چند دکانیں بنانا ہے اور پھر اس سے جو نفع ہوگا وہ دونوں کے درمیان برابر تقسیم ہوگا، تعمیر کا کام تقریباً ایک سال تک جاری رہے گا، اس معاہدہ کے تقریباً پانچ ماہ بعد رب المال اس کو فسخ کرنا چاہتا ہے، اتنی مدت میں راس المال سے تقریباً تیس ہزار رینڈ تعمیر کے کام میں خرچ ہوئے، اب سوال یہ ہے کہ اگر مضارب اس زمین کو اپنے لیے رکھ لے تو رب المال کو کتنا پیسہ واپس کرے گا، دوسرا سوال یہ ہے کہ اب تک کوئی نفع نہیں ہوا تو مضارب کو کیا ملے گا؟ بینوا توجروا ۔

Answer

عقدِ مضاربت میں رب المال اور مضارب دونوں کو اطلاع دے کر فسخ کرنے کا اختیار ہے، اور فسخ کرنے کی صورت میں مضارب کے ذمہ رب المال کو راس المال واپس کرنا ضروری ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں مضارب یا تو زمین کسی اور کو بیچ دے یا خود خرید لے اور راس المال واپس کر دے، اور چونکہ اب تک کوئی نفع نہیں ہوا اس وجہ سے مضارب کو کچھ نہیں ملے گا ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:

وأما صفة هذا العقد فهو أنه عقد غير لازم ولكل واحد منهما أعني رب المال والمضارب الفسخ لكن عند وجود شرطه وهو علم صاحبه لما ذكرنا في كتاب الشركة ويشترط أيضاً أن يكون رأس المال عيناً وقت الفسخ دراهم أو دنانير حتى لو نهي رب المال المضارب عن التصرف ورأس المال عروض وقت النهي لم يصح نهيه، وله أن يبيعها لأنه يحتاج إلى بيعها بالدراهم والدنانير ليظهر الربح فكان النهي والفسخ إبطالاً لحقه في التصرف فلا يملك ذلك. (بدائع الصنائع: ٦/۱۰۹، سعيد).
وفيه أيضاً: والثاني ما يستحقه المضارب بعمله في المضاربة الصحيحة هو الربح المسمى إن كان في المضاربة ربح

فإن لم يكن فيها ربح فلا شيء للمضارب لأن الشرط قد صح فلا يستحق إلا ما شرط وهو الربح ولم يوجد. (بدائع الصنائع: ٦/۱۰۷، سعيد).
وفيه أيضاً: ويجوز شراء رب المال من المضارب وشراء المضارب من رب المال، وإن لم يكن في المضاربة ربح في قول أصحابنا الثلاثة. (بدائع الصنائع: ٦/۱۰۱، سعيد).

اسلامی فقہ میں ہے:
اگر مضاربت کا معاہدہ طے ہو گیا، اور مضارب نے اپنا کام ابھی شروع نہیں کیا تو تمام ائمہ متفقہ طور پر کہتے ہیں کہ دونوں میں سے ہر ایک کو اس معاہدہ کے توڑنے کا اختیار ہے، لیکن اگر اس نے کام شروع کر دیا ہے، تو پھر معاہدہ فسخ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں، اس بارے میں امام مالک رحمه الله فرماتے ہیں کہ اب کسی کو معاہدہ فسخ کرنے کا حق نہیں ہے، مگر امام ابو حنیفہ رحمه الله اور امام شافعی رحمه الله فرماتے ہیں کہ ان دونوں کو ہر وقت یہ اختیار ہے کہ جب چاہیں وہ معاملہ فسخ کر دیں، مگر فسخ کی اطلاع دینی ضروری ہے ۔ (اسلامی فقہ:
۲
/
۳۹۷
) ۔
ہاں اگر راس المال سے خریدی ہوئی زمین کی قیمت بڑھ گئی تو اس میں مضارب کا ربح ثابت ہو گیا، اب بیچنے کے بعد جو قیمت آئے گی اس میں سے راس المال علیحدہ کر کے نفع دونوں کے درمیان تقسیم کیا جائے گا ۔
در مختار میں ہے:

(ولا يعتق عليه) أي المضارب (إن كان في المال ربح)

(فإن فعل

وقع الشراء لنفسه) وإن لم يكن ربح كما ذكرنا (صح) [أي الشرء] للمضاربة، فإن ظهر الربح بزيادة قيمته [أي العبد] بعد الشراء عتق عليه حظه، ولم يضمن نصيب المالك لعتقه لا بصنعه. (الدر المختار: ۵/٦۵۱، سعيد).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.