مضاربت فسخ کرنے کا حکم:
Question
زید اور عمرو نے ۲۰۰۲ء میں مضاربت شروع کی، زید (رب المال) کا حصہ ۲۵ فیصد اور عمرو (مضارب) کا حصہ ۷۵ فیصد قرار پایا، ۲۰۰۷ء میں مضارب نے رب المال کو صرف ۳۰۰۰ کا نفع دیا اور کہا کہ اپنا راس المال واپس لے لو، جب بقیہ منافع کا مطالبہ کیا گیا تو مضارب نے کہا کہ آہستہ آہستہ ادا کرتا رہوں گا ۔
سوال یہ ہے کہ مضاربت ختم ہوئی یا نہیں اور بعد میں بقیہ منافع کا لینا صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ رب المال کو اطلاع دے کر عقدِ مضاربت ختم کر سکتے ہیں، اور اگر مضارب کے پاس فی الحال رقم موجود نہ ہو تو بقیہ منافع کا بعد میں وصول کرنا بھی جائز ہے، لیکن اگر مضارب کے پاس موجود ہے تو ٹال مٹول کرنا جائز نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
وأما صفة هذا العقد فهو أنه عقد غير لازم ولكل واحد منهما أعني رب المال والمضارب الفسخ لكن عند وجود شرطه وهو علم صاحبه لما ذكرنا في كتاب الشركة ويشترط أيضاً أن يكون رأس المال عيناً وقت الفسخ دراهم أو دنانير حتى لو نهي رب المال المضارب عن التصرف ورأس المال عروض وقت النهي لم يصح نهيه. (بدائع الصنائع: ٦/۱۰۹، سعيد).
بدایۃ المجتہد میں ہے:
أجمع العلماء على أن اللزوم ليس من موجبات عقد القراض، وان لكل واحد منهما فسخه ما لم يشرع العامل في القراض، واختلفوا إذا شرع العامل، فقال مالك: هو لازم
وقال الشافعي وأبو حنيفة: لكل واحد منهم الفسخ إذا شاء. (بداية المجتهد: ۲/۱۸۱، القول في أحكام القراض، دار نشر الكتب).
فتاوی حقانیہ میں ہے:
عقد مضاربت فریقین میں سے جو بھی چاہے اور جس طرح چاہے ختم کر سکتا ہے، مگر عقد فسخ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ دوسرے ساتھی کو اس سے مطلع کر دیا جائے، لیکن اس فسخ کا اطلاق اس وقت صحیح ہو گا جب مال نقدی کی شکل میں موجود ہو، اگر مال اثاثہ (عروض) کی صورت میں ہو تو پھر مضارب کو اثاثہ فروخت کرنے کا موقع دیا جائے گا تاکہ اصل نفع متعین ہو جائے جس کے لیے عقد ہوا تھا ۔ (فتاوی حقانیہ:
٦
/
۳۵٤
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (اسلامی فقہ:
۲
/
۳۹۷
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.