اسلامی بینک کا طریقۂ کار:
Question
اسلامی بینک کا طریقۂ کار:
Answer
بینک کی سرگرمیوں کو عام طور پر دو بنیادی حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔
(۱) ذمہ داری والا حصہ: ۔
اس حصہ میں سودی بینک اپنے ڈیپازیٹر سے رقوم وصول کرتا ہے اور اس مقصد کے لیے مختلف طرح کے اکاؤنٹ متعارف کرواتا ہے ۔ بنیادی طور پر دو طرح کے اکاؤنٹ ہوتے ہیں: ۔
(الف) غیر نفع بخش اکاؤنٹ، اسے کرنٹ اکاؤنٹ سے موسوم کیا جاتا ہے ۔
(ب) نفع بخش اکاؤنٹ، اس میں سیونگ اکاؤنٹ، فکس ڈیپازٹ وغیرہ شامل ہیں ۔
(الف) غیر نفع بخش یعنی کرنٹ اکاؤنٹ کا تعارف:
کرنٹ اکاؤنٹ کے طور پر جو رقم اسلامی بینک وصول کرتا ہے، شرعی طور پروہ بلا سود قرض ہوتا ہے، کیوں کہ اکاؤنٹ ہولڈر کو اس بات کی گارنٹی دی جاتی ہے کہ اس کی رقم ضرور واپس ہو گی، اور ہر مضمون رقم قرض کہلاتی ہے، اور اس پر کوئی اضافی رقم بھی نہیں ملتی، فقط اصل رقم واپس ہوتی ہے، لہذا یہ بلا سود قرض کے مترادف ہے ۔
(ب) نفع بخش اکاؤنٹ کا تعارف:
کرنٹ اکاؤنٹ کے علاوہ دوسرے اکاؤنٹس مثلاً سیونگ اکاؤنٹ اور فکس ڈیپاذٹ وغیرہ کے لیے اسلامی بینک جو رقم وصول کرتا ہے، وہ مضاربہ یا مشارکہ کی بنیاد پر ہوتی ہے ۔ جس میں ڈیپازیٹر کی حیثیت رب المال "سرمایہ فراہم کرنے والے افراد" یا خوابیدہ شریک کی ہوتی ہے، اور اسلامی بینک کی حیثیت مضارب یا عملی شریک کی ہوتی ہے ۔
اسلامی بینک اپنے تمویلی طریقوں مثلاً مرابحہ، اجارہ اور مشارکہ وغیرہ کے ذریعہ جو نفع کماتا ہے اس کا متناسب حصہ اپنے ڈیپازیٹر کو دیتا ہے جو پہلے سے طے ہوتا ہے، مثلاً یہ طے ہوتا ہے کہ بینک جو بھی نفع حاصل کرے گا اس کا پچاس فیصد بینک کو اور پچاس فیصد ڈیپازیٹر کو ملے گا ۔ اور شرعی اعتبار سے ڈیپازیٹر کی رقم بینک کے پاس بطورِ امانت ہوتی ہے، یعنی اگر بینک کی کسی تعدی اور کوتاہی یا غفلت کے بغیر وہ رقم ہلاک ہو جائے تو بینک اس کا ذمہ دار نہیں ۔
یہ بھی یاد رہے کہ اسلامی بینک اپنے ڈیپازیٹر سے سرمایہ لیتے وقت اسے ہر حال میں واپسی کی گارنٹی نہیں دے سکتا، اور نہ ہی شروع میں حتمی طور پر نفع ملنے کی مقدار بتا سکتا ہے ۔ بلکہ ڈیپازیٹر سرمایہ کے تناسب سے نسبت متعین کر کے حتمی طور پر بتلانا جائز بھی نہیں ہے ۔ اس سے شرکت فاسد ہو جاتی ہے ۔ اور اسلامی بینک کو عام طور پر یہ معلوم بھی نہیں ہوتا ہے کہ وہ اس سرمایہ پر کتنا نفع کمائے گا ۔
ہاں اپنے کسی ٹرم کے اختتام پر ڈیپازیٹر کو حاصل ہونے والے نفع میں متناسب حصہ دے تو اس حاصل ہونے والے نفع کی اصل رقم سے نسبت معلوم کر کے بیان کرنا شرعاً ناجائز نہیں ۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ اسلامی بینک نفع تقسیم کرنے کے بعد اگر یہ اعلان کرتا ہے کہ اس نے اس سال اپنے ڈیپازیٹر کو دس فیصد نفع دیا تو یہ طریقہ شرعی اصول سے متصادم نہیں ۔ لیکن اگر شروع میں یہ کہ دے کہ ہم سرمایہ کا اتنا فیصد نفع دیں گے تو یہ شرعاً ناجائز ہے ۔
(۲) دوسرا حصہ، اثاثہ جاتی حصہ ہے: ۔
اس حصہ میں بینک اپنے تمویل کار کو مختلف تمویلی سہولیات فراہم کرتا ہے ۔
یعنی بینک ان لوگوں کو تمویلی سہولیات فراہم کرتا ہے جو اپنی مختلف مالی ضروریات کے لیے بینک سے رابطہ کرتے ہیں: ۔
اسلامی بینک میں کلائنٹ (بینک سے لون لینے والے) کی مختلف ضروریات کے پیش نظر مختلف معاملات انجام دیے جاتے ہیں ۔
آج کل عام طور پر تین طرح کے معاملات زیادہ رواج پذیر ہیں: ۔
(۱) مرابحہ ۔ (۲) اجارہ ۔ (۳) مشارکہ متناقصہ ۔ ان کے علاوہ بعض اوقات سلم اور استصناع کے ذریعے بھی تمویلی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ۔
(۱) مرابحہ: ۔
مرابحہ دراصل بیع کی ایک قسم ہے جس میں سامان والا شخص خریدار کو یہ بتلاتا ہے کہ یہ سامان مجھے کتنے میں پڑا اور میں اس پر کتنا منافع رکھ کر آپ کو فروخت کر رہا ہوں ۔
اسلامی بینکوں میں انجام پانے والا مرابحہ درجِ ذیل مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:
(الف) جامع معاہدہ: ۔ پہلے مرحلے میں کلائنٹ اور بینک آپس میں ایک جامع معاہدہ کرتے ہیں، اسے جنرل ایگریمنٹ کہا جاتا ہے، اس میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ کلائنٹ کتنی رقم تک سامان بینک سے خریدے گا، بینک خریدے گئے سامان پر کتنا نفع لے گا، ادائیگی کا طریقۂ کار کیا ہوگا وغیرہ ۔
(ب) مطلوبہ سامان کی خریداری: اس کے بعد بینک وہ سامان مارکیٹ سے خریدتا ہے، جسے بعد میں کلائنٹ کو فروخت کرنا ہوتا ہے، عام طور پراس مقصد کے لیے کلائنٹ کو مطلوبہ سامان کی خریداری کا وکیل بنایا جاتا ہے، لیکن ہمیشہ ایسا ہونا ضروری نہیں ۔
(ج) خریدے گئے سامان پر قبضہ اور بینک کو اطلاع: اگر خریداری کے لیے کلائنٹ کو وکیل بنایا جائے تو وہ مطلوبہ سامان کی خریداری کے بعد اس پر قبضہ کرتا ہے اور بینک کو یہ اطلاع دیتا ہے کہ میں نے آپ کے وکیل ہونے کی حیثیت سے یہ سامان خرید کر اس پر قبضہ کر لیا ہے، چونکہ شرعاً وکیل کا قبضہ موکل کا قبضہ ہوتا ہے، اس لیے یہ سمجھا جائے گا کہ شرعاً یہ موکل یعنی بینک کے قبضہ میں ہے، چنانچہ اس مرحلے پر قبضہ کے سارے احکام جاری ہوتے ہیں، خصوصاً یہ حکم کہ اگر کلائنٹ کی کسی تعدی کے بغیر سامان ہلاک ہو گیا تو یہ نقصان بینک کا ہوگا، کلائنٹ کا نہ ہوگا ۔
(د) مرابحہ کا انعقاد: اس کے بعد کلائنٹ بینک کو یہ پیشکش کرتا ہے کہ وہ یہ سامان اسے متعینہ قیمت پر جس میں لاگت اور بینک کا نفع شامل ہو فروخت کر دے اور وہ اس کی قیمت کی ادائیگی فوراً یا مخصوص مدت کے بعد کرے گا، جب بینک اسے قبول کر لیتا ہے تو مرابحہ وجود میں آ جاتا ہے اور کلائنٹ پر اس کی قیمت کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے ۔ بینک اس واجب الاداء قیمت کے بدلے کلائنٹ سے کچھ ضمانتیں لیتا ہے ۔
(۲) اجارہ: ۔
شرعی اصطلاح میں اجارہ کسی چیز یا شخص کی متعین اور جائز منفعت کو متعین اجرت کے بدلے دینے کا نام ہے ۔
سودی اور اسلامی بینک کے اجارہ میں فرق: ۔
اجارہ کا معاملہ سودی اور اسلامی دونوں بینکوں میں ہوتا ہے، اس لیے یہاں دونوں کے درمیان پائے جانے والے فرق بیان کیے جاتے ہیں ۔
اس وقت کنوینشنل بینکوں میں اجارہ کا جو طریقۂ کار رائج ہے، اس میں درجِ ذیل تین خرابیاں پائی جاتی ہیں:
(الف) ایک ہی عقد کے اندر بیع اور اجارہ کے دو معاملے ہوتے ہیں، یعنی جو اقساط کلائنٹ مدت اجارہ کے دوران ادا کرتا ہے، انہیں ابتداء میں تو اجارہ کی اقساط شمار کیا تا ہے، لیکن جوں ہی کرایہ داری کی مدت پوری ہوتی ہے تو یہ اقساط قیمت سمجھی جاتی ہیں اور مطلوبہ چیز خود بخود کلائنٹ کی ملکیت میں آ جاتی ہے، اسے فقہی اصطلاح میں صفقتان فی صفقۃ" کہتے ہیں جو کہ شرعاً جائز نہیں ہے ۔
(ب) اجارہ پر دی گئی چیز سے متعلق تمام ذمہ داریاں مستاجر کے ذمہ ہوتی ہیں، حالانکہ شرعاً صرف استعمال سے متعلق ذمہ داریاں مستاجر پر ڈالی جا سکتی ہیں، جیسے گاڑی کی سروس کرانا، آئل تبدیل کرانا وغیرہ جب کہ وہ ذمہ داریاں جن کا تعلق اس چیز کے مالک ہونے سے ہے، وہ مؤجر کے ذمہ ہوتی ہیں، جیسے ٹیکس ادا کرنا ادا کرنا، کسی ناگہانی آفت کی وجہ سے وہ تباہ ہو جائے تو اس کی مرمت کرانا وغیرہ ۔
(ج) اجارہ پر دی گئی چیز کلائنٹ کے حوالے کرنے سے پہلے ہی اس کا کرایہ لگنا شروع ہو جاتا ہے حالانکہ شرعاً مستاجر سے اس وقت تک کرایہ لینا جائز نہیں جب تک مطلوبہ چیز اس کے حوالہ نہ کر دی جائے ۔
اس کے برعکس اسلامی بینکوں کے اجارہ میں مذکورہ بالا شرعی خرابیوں کو درجِ ذیل طریقہ پر دور کیا جاتا ہے؛
(الف) ابتداء میں صرف اجارہ کا معاملہ ہوتا ہے، اور اجارہ پر دی گئی چیز بینک ہی کی ملکیت میں رہتی ہے، پھر اجارہ کی مدت ختم ہونے کے بعد کلائنٹ کو اختیار ہے کہ اسے متعین قیمت پر خرید لے یا بینک کو واپس کر دے، اول الذکر شکل میں بینک مستقل عقد کے ذریعہ وہ چیز کلائنٹ کو فروخت کرتا ہے، اور بعض مرتبہ ایک مستقل عقد کے ذریعہ بینک وہ چیز کلائنٹ کو ہبہ کر دیتا ہے ۔ اس سے صفقتان فی صفقۃ والی خرابی لازم نہیں آتی ۔
(ب) اسلامی بینکوں کے اجارہ کے معاملات میں یہ بات صراحتاً مذکور ہوتی ہے کہ مستاجر صرف وہ ذمہ داریاں برداشت کرے گا جو گاڑی کے استعمال سے متعلق ہیں، اسے "صیانہ عادیہ" کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہے جب کہ گاڑی کے مالک ہونے کی حیثیت سے تمام ذمہ داریاں بینک برداشت کرتا ہے، چنانچہ اس کے ٹیکس، انشورنس، تکافل اور حادثہ کی صورت میں اگر گاڑی کو کوئی نقصان پہنچے تو اس کا ازالہ بینک کے ذمہ ہوتا ہے ۔
(ج) اسلامی بینک جب تک کرایہ داری کا معاملہ کر کے مطلوبہ چیزکلائنٹ کے حوالے نہیں کر دیتا، اس وقت تک کرایہ وصول نہیں کرتا ۔
(۳) مشارکہ متناقصہ: ۔
موجود ہ اسلامی بینکوں میں رائج تیسرا بڑا تمویلی طریقہ "مشارکہ متناقصہ" کا ہے، جس کے ذریعے عام طور پر مکانات کے لیے تمویل کی جاتی ہے، اس لیے اسے عام طور پر "ہوم مشارکہ" بھی کہا جاتا ہے، یہ طریقہ کار بنیادی طور پر تین مراحل پر مشتمل ہوتا ہے:
(۱) پہلے مرحلے میں اسلامی بینک اور اس کا کلائنٹ مشترکہ طور پر ایک مکان خریدتے ہیں جس میں عام طور پر بینک کا حصہ کلائنٹ کے حصے سے زیادہ ہوتا ہے، مثلاً ایک مکان مشترکہ طور پراس طرح خریدا گیا کہ اس میں اسی فیصد حصہ بینک کا ہے اور بیس فیصد کلائنٹ کا ہے ۔
(۲) بینک کے حصے کو چھوٹے چھوٹے یونٹس میں تقسیم کر لیا جاتا ہے، مثلاً مذکورہ مثال میں بینک کے مملوکہ حصے کے اسی یونٹس بنائے گئے، کلائنٹ بینک کے مملوکہ یونٹس ایک ایک کر کے خریدتا رہتا ہے جس کے نتیجہ میں کلائنٹ کی ملکیت بڑھتی جاتی ہے جب کہ بینک کی ملکیت کم ہو جاتی ہے ۔
(۳) جتنے یونٹس بینک کی ملکیت میں ہوتے ہیں، کلائنٹ کرایہ داری کے معاہدہ کے تحت انہیں اپنے تصرف میں رکھنے اور استعمال کرنے کی وجہ سے انکا کرایہ ادا کرتا رہتا ہے، چونکہ کلائنٹ مستقل طور پر یونٹ خرید رہا ہوتا ہے، اس لیے کرائے کی مقدار میں بھی کمی آتی رہتی ہے، آخر کار جب کلائنٹ بینک کے مملوکہ سارے یونٹس خرید لیتا ہے تو وہ سارے مکان کا مالک بن جاتا ہے ۔
گویا اس طریقہ کار میں بنیادی طور پر تین کام ہوئے:
(۱) مشترکہ طور پر مکان کی خریداری ۔
(۲) ایک شریک کا دوسرے شریک کے مملوکہ حصے کو کرایہ پر لینا ۔
(۳) ایک شریک یعنی کلائنٹ کا دوسرے شریک یعنی بینک کے حصے کو خریدنا ۔
اس عقد کے درست ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کوئی معاملہ دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہو، چنانچہ مذکورہ طریقہ کار میں کوئی معاملہ دوسرے کے ساتھ مشروط نہیں ہوتا بلکہ کلائنٹ اپنے طور پریک طرفہ وعدہ کرتا ہے کہ اگر بینک مطلوبہ مکان خرید لے تو وہ بینک کا حصہ اجارہ پر لے کراس کا کرایہ ادا کرے گا نیز وہ بینک کے حصے کے مختلف یونٹس کو مرحلہ وار خرید لے گا ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (اسلام اور جدید معاشی مسائل، جلد پنجم، و اسلامی بینکاری اور متفقہ فتوے کا تجزیہ، واسلام اور جدید معیشت و تجارت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما، قال:
قدم النبي صلي الله عليه وسلم المدينة
وهم يسلفون بالثمر السنتين والثلاث،
فقال: "من أسلف في شيء ففي كيل معلوم
ووزن معلوم إلى أجل معلوم".
(رواه البخاري).
وعن أبي حسان، قال: قال ابن عباس رضي الله تعالى عنهما:
أشهد أن السلف المضمون إلى أجل مسمي
قد أحله الله تعالى في الكتاب وأذن فيه،
قال الله عزوجل:
﴿يا ايها الذين آمنوا إذا تداينتم بدين إلى أجل
مسمي فاكتبوه﴾ الآية.
(أخرجه الحاكم).
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.