بینک کی تعریف

2 min readFatwa Vol 5 #113Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (٤): مرابحه اور بينك سے متعلق احكام كا بيان

Question

بینک کی تعریف

Answer

"بینک" ایک ایسے تجارتی ادارے کا نام ہے جو لوگوں کی رقمیں اپنے پاس جمع کر کے تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر ضرورت مند افراد کو قرض فراہم کرتا ہے، آج کل روایتی بینک ان قرضوں پر سود وصول کرتے ہیں، اور اپنے امانت داروں کو کم شرح پر سود دیتے ہیں، اور سود کا درمیانی فرق بینکوں کا نفع ہوتا ہے ۔
بینک لوگوں کو اپنی امانتیں جمع کرانے کی دعوت دیتا ہے، (جو فقہی طور پر قرض ہی ہوتا ہے) ان کو اردو میں "امانتیں" عربی میں "ودائع" اور انگریزی میں "Deposits" ڈپازٹ کہتے ہیں، ڈپازٹ کی کئی قسمیں ہیں:
(۱) "Current Account" (کرنٹ اکاؤنٹ) اس کو عربی میں "الحساب الجاری" اور اردو میں "مدرواں" کہتے ہیں، اس میں رکھی ہوئی رقم پر سود نہیں ملتا ہے، اس اکاؤنٹ میں رکھی ہوئی رقم کسی وقت بھی، جتنی مقدار میں چاہیں بغیر کسی پابندی کے نکلوائی جا سکتی ہے ۔
(۲) "Saving Account" (سیونگ اکاؤنٹ) جس کو عربی میں "حساب التوقیر" اور اردو میں "بچت کھاتا" کہتے ہیں، اس میں رقم نکلوانے پر عموماً مختلف پابندیاں ہوتی ہیں، اس پر بینک سود دیتا ہے ۔
(۳) "Fixed Deposit" فکس ڈپازٹ جس کو عربی میں "ودائع ثابتۃ" کہتے ہیں، اس میں مقررہ مدت سے پہلے رقم واپس نہیں لی جا سکتی، اس میں بھی بینک سود دیتا ہے، اور سود کی شرح مدت کے مطابق ہوتی ہے، طویل مدت میں شرح زیادہ ہوتی ہے، اور کم مدت پر شرح کم ہوتی ہے ۔
بینک کے وظائف: ۔
بینک سرمایہ جمع کرنے کے بعد کئی وظائف ادا کرتا ہے، مثلاً تمویل، تخلیق زر، برآمد، در آمد میں واسطہ بننا وغیرہ، جن کی تفصیلات، اسلام اور جدید معیشت و تجارت وغیرہ کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.