بینک ملازم کی دعوت قبول کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص بینک یا انشورنس کمپنی میں ملازمت کرتا ہے، وہ اگر کسی کو دعوت دے تو اس کی دعوت قبول کرنا جائز اور درست ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بینک اور انشورنس کمپنی کی وہ ملازمت جو خالص سودی حساب کتاب اور لین دین سے متعلق ہو، ناجائز ہے، اور اس کی تنخواہ بھی حلال نہیں ہے، لہذا ایسے ملازم کے گھر کھانا، اس کی دعوت قبول کرنا یا اس سے ہدیہ قبول کرنا درست نہیں، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ ضیافت یا ہدیہ حلال مال سے ہے تو درست ہے ۔
لیکن اگر اس کی ملازمت بینک میں خالص سودی معاملہ کی نہیں ہے بلکہ چوکیداری، جاروب کشی، ڈرائیونگ وغیرہ غیر سودی معاملہ سے متعلق ہے یا کسی اسلامی شعبہ میں ملازمت کرتا ہے تو پھر اس کے گھر کھانا جائز ہے ۔
نیز آج کل بینک میں سودی لین دین کے علاوہ درآمدات اور برآمدات، بجلی، ٹیلیفون وغیرہ کے بل ادا کیے جاتے ہیں، یعنی حلال کاروبار بھی ہوتا ہے، لہذا بینک کو خالص سودی کاروبار کی جگہ سمجھنا مشکل ہے ۔
تاہم بینک ملازم کی دعوت قبول کرنے سے اجتناب اولی ہے لیکن بالکل حرام اور ناجائز بھی نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: هم سواء. (رواه مسلم: ۲/۲۷، كتاب المساقات والمزارعة، باب الربا).
حضرت جابر
رضي الله عنه
سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اور یہ فرمایا یہ سب گناہ میں برابر ہیں ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:
آكل الربا وكاسب الحرام أهدي إليه أو أضافه وغالب ماله حرام لا يقبل ولا يأكل ما لم يخبره أن ذلك المال أصله حلال ورثه أو استقرضه وإن كان غالب ماله حلالاً لا بأس بقبول هديته والأكل منها كذا في الملتقط. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۳).
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
بینک کی تنخواہ یا حرام آمدنی سے تحفہ یا دعوت قبول کرنا ۔ اس میں اصل قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر آمدنی اگر حرام ہو تو پھر اس مال سے ہر چیز لینا حرام ہے ۔ خواہ تنخواہ ہو، پیسے ہوں لیکن بینک میں جو روپیہ ہوتا ہے وہ اکثر حرام کا نہیں ہوتا اس میں اصل سرمایہ ہوتا ہے ۔ بینک کے مالکین اور دوسرے ڈپازیٹرز کے پیسے ہوتے ہیں اکثریت ان کی ہے، لہذا اکثریت مال حرام کی نہیں ہے، اس لیے اگر کوئی کام جائز کر کے اس کے پیسے لیے جائیں تو جائز ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/
۱۳٦
) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی دار العلوم زکریا، جلدِ پنجم، ص
٦۷۳
۔
٦۷٦
) ۔
جواہر الفتاوی میں ہے:
جس شخص کا ذریعہ آمدنی حرام ہے مثلاً بینک کی ملازمت، انشورنس کی ملازمت، سینماؤں کی آمدنی، گانے والوں کی آمدنی، فوٹوگرافروں کی آمدنی، اگر اس کا کوئی حلال ذریعہ آمدنی نہیں ہے تو اس کے یہاں کھانا پینا، اس کا ہدیہ، تحفہ وصول کرنا اور استعمال کرنا ناجائز و حرام ہے، الا یہ کہ وصول کرنے والا خود مستحق زکوۃ و صدقہ ہو تو پھر گنجائش ہو گی، البتہ جس شخص کے ذرائع آمدنی حلال و حرام دونوں طرح کے ہیں تو اس میں تفصیل ہے، اگر حلال آمدنی اور حرام آمدنی اس کے پاس الگ الگ ہیں، اپنے اخراجات کھانے، پینے، لباس وغیرہ میں حلال آمدنی استعمال کرتا ہے اور اس کی بات پر اعتماد ہے تو اس کے یہاں کھانا، پینا جائز ہے اور حلال مال سے کہہ کر اگر ہدیہ تحفہ دیتا ہے تو اس کا لینا بھی جائز ہے ۔ اور مخلوط ہو تو غالب کا اعتبار ہوگا ۔ (جواہر الفتاوی:
۳
/
۲۹٦
) ۔
امداد الفتاوی میں ہے:
سود کے اختلاط کو حرمت میں اثر ہے، پس اگر نصف یا زائد سود ہے تو سب حرام ہے اور اگر نصف سے کم ہے تو حلال ہے ۔ (امداد الفتاوی: ٤/
۱۱۹
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.