مالِ حرام سے ہدیہ قبول کرنے کا حکم:

4 min readFatwa Vol 5 #297Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

اگر کسی کافر کے پاس سود کا مال آیا تو اس کی ملکیت میں داخل ہوا یا نہیں؟ اگر کافر نے کسی مسلمان کو سودی مال کا ہدیہ پیش کیا تو مسلمان کے لیے لینے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی مسلمان سودی مال کا ہدیہ دے تو کیا حکم ہے؟

Answer

مسلمان کے پاس سود کا مال آ جائے تو مسلمان اس کا مالک نہیں بنتا بلکہ اس کو لوٹانا ضروری ہے، اگر مال کا مالک معلوم ہو تو مالک کو واپس کر دے اور اگر مالک معلوم نہ ہو تو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے، اور اس مال کو ایک وبال اور مصیبت سے سبک دوشی سمجھ کر صدقہ کر دیا جائے پھر یہ رقم کسی مستحق فقیر مسکین جو صاحبِ نصاب نہ ہو دینا جائز اور درست ہے، لیکن سودی مال کا ہدیہ قبول کرنا جائز اور درست نہیں ۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

لو رأي المكاس مثلاً يأخذ من أحد شيئاً من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام. (فتاوى الشامي: ۵/۹۸، مطلب الحرمة تتعدد، سعيد).

علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:

ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها، لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/۳۸۵، كتاب الكراهية، فصل في البيع، سعيد).

عالمگیری میں ہے:

ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم كذا في الاختيار شرح المختار. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٤۲).

ہاں اگر یقینی طور پر معلوم نہیں کہ یہ مالِ حرام ہے یا مخلوط ہے اور غالب حلال کمائی کا ہے تو پھر ہدیہ قبول کرنے کی گنجائش ہو گی ۔
حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله فقہی عبارات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
ان نصوص سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہو اس غالب کا اعتبار ہے، غالب حلال ہے تو اس کا ہدیہ و ضیافت قبول کرنا جائز ہے لیکن اگر خاص ہدیہ یا طعام کی بابت یقیناً معلوم ہو جائے کہ اس میں کچھ حرام ملا ہوا ہے تو اس کا قبول کرنا حرام ہے اور کھانا بھی حرام مگر امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک خلط و استہلاک ہے اس لیے ان کے قول پر گنجائش ہے جیسا کہ بعض روایات سے ظاہر ہو گا اور اگر غالب آمدنی حرام ہے تو ہدیہ و ضیافت قبول کرنا حرام ہے ہاں اگر اس طعام و ہدیہ کی بابت اطلاع کر دے کہ یہ حلال ہے تو جائز ہے ۔ (امداد الاحکام: ٤/۳۹۹) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (شامی: ۵/۹۸، و امداد الاحکام: ٤/۳۹۷ ۔ ٤۰۰ ۔ و فتاوی عثمانی: ۳/۳۹۵) ۔
لیکن اگر کافر کے پاس سود کا مال آیا تو کافر اس کا مالک بن جائے گا اور اس سے ہدیہ قبول کرنا جائز اور درست ہو گا، جب تک کہ وہ حرام عقلی و قبیح عقلی کا ارتکاب نہ کرے، مثلاً خداع، چوری، ڈاکہ وغیرہ ۔ ہاں کفار کو دار الاسلام میں اسلامی حکومت ربا کی اجازت نہیں دے گی ۔
اس مسئلہ کا اصل مدار اس پر ہے کہ کفار مخاطب بالفروع ہیں یا نہیں، اور اس میں فقہاء کے مابین اختلاف ہے، بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ وہ ابتداء ً فقط مخاطب بالایمان و العقوبات ہیں، مخاطب بالمعاملات نہیں ہیں، جب کہ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ کفار مخاطب بالمعاملات ہیں، بہرحال کفار سود کی رقم کے مالک ہیں، یہی ظاہر ہوتا ہے ۔
دلائل کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: (ابو اب الربا، باب دوم سودی مصارف) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.