نابالغ بچے کا ہدیہ قبول کرنے کا حکم:
Question
استاذ نابالغ بچے کا ہدیہ قبول کر سکتا ہے یا نہیں؟
Answer
اگر کوئی چیز بچوں کو استعمال کے لیے دی جائے تو والدین کی اجازت سے دوسروں کو دینا جائز ہے بنا بریں استاذ کو قبول کرنا بھی جائز ہوگا۔
ملاحظہ ہو امداد المفتین میں ہے:
لڑکے جو انعام دیتے ہیں دو شرطوں سے جائز ہے اول یہ کہ اگر لڑکے خود بالغ ہیں تو اپنی رضا سے دیں اور اگر نابالغ ہیں تو ان کے والدین کا راضی ہونا شرط ہے، (والدین کے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ والدین کا مال ہے) دوسرے یہ کہ مدرس اپنا طرز ایسا نہ ڈالے جس سے طلبہ کو یہ معلوم ہو کہ اگر انعام نہ دین گے تو ہمیں نقصان پہنچے گا۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص۷۳۳، کتاب الہبہ و الصدقہ، دار الاشاعت)۔
شرح مجلہ میں ہے:
لو أحضر الصغير لأحد هدية وقال له أرسلني أبي بهذه الهدية لك فلذلك الشخص تناول تلك الهدية ما لم يقع في قلبه أن الصغير المذكور كاذب في قوله هذا. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۲/۳۹۸، دار الكتب العلمية بيروت).
وفي جامع أحكام الصغار: وفي هبة الملتقط: صبي أهدي وقال: إني أرسل إليك بهذه الهدية يحل له التناول إلا أن يقع في قلبه أنه كاذب. (جامع أحكام الصغار: ۱/۱۸۳، في مسائل الهبة). (وكذا في الفتاوى الهندية: ٤/۳۹۳، قبول الهدية من الصغير).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.