ملازم کے لیے تنخواہ کے علاوہ کچھ فیصد مقرر کرنے کا حکم:
Question
ایک صاحب کے متعدد بیٹے ہیں، دو بیٹے والد کے ساتھ تجارت میں مشغول ہیں اور کچھ بیٹے چھوٹے ہیں اور کچھ دینی کاموں میں مشغول ہیں، جو بیٹے کام کرتے ہیں والد صاحب ان کے لیے ان کے عمل کے بدلہ میں تنخواہ مقرر کرنا چاہتے ہیں، لیکن عرف و عادت کے موافق وہ صرف تنخواہ پر خوش نہیں بلکہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ کچھ فیصد بھی چاہتے ہیں، اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ملازم کے لیے تنخواہ کے علاوہ فیصد مقرر کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ کیوں کہ فیصد مضارب یا شریک کے لیے مقرر کیا جاتا ہے اور یہ ملازم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ ملازم کے لیے تنخواہ کے علاوہ فیصد مقرر کرنا ظاہر الروایہ کے مطابق تو جائز نہیں ہے، البتہ متاخرین علماء نے تعامل ناس کی وجہ سے اور ملازموں کو رغبت دینے کے لیے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے۔ ملاحظہ ہو جدید معاشی نظام میں قانونِ اجارہ میں مرقوم ہے:
دوسری صورت یہ ہے کہ آجر اور اجیر کے درمیان باقاعدہ معاہدہ ہو اور یہ طے پآ جائے کہ آجر تنخواہ کے علاوہ (profit) میں سے مثلاً: تین فیصد اجیر کو ادا کرے گا، تو اس صورت میں تنخواہ کے علاوہ نفع میں سے رقم بھی اجرت ہی کا ایک حصہ سمجھا جائے گا، مستاجر کے ادا نہ کرنے کی صورت میں اجیر کو اس رقم کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا، اور عدمِ ادائیگی کی صورت میں اجیر کو عدالتی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا، یہ صورت بھی شرعاً جائز ہے اور اس کے جواز میں بھی کوئی شبہ نہیں۔
لیکن یہاں یہ سوال ہوتا ہے کہ جب اجرت کا ایک حصہ فیصد کے حساب سے متعین ہوا ہے اور فیصد کے حساب سے جو رقم بنے گی، اس کا ابھی حتمی علم نہیں ہے، تو اس طرح اجرت میں جہالت ہوئی، اور اجرت میں جہالت سے عقد میں فساد پیدا ہو جاتا ہے، لہذا یہاں بھی عقد اجارہ میں فساد پیدا ہوگا، جس کی وجہ سے عقد فاسد ہونا چاہیے۔
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہر طرح کی جہالت موجبِ فساد نہیں ہے بلکہ وہ جہالت جو کہ مفضی الی النزاع (یعنی لڑائی جھگڑے کا سبب) ہو وہ موجبِ فساد ہوتی ہے، لہذا اس مسئلہ میں اگر چہ اجرت میں جہالت ہے کیوں کہ اجرت کا ایک حصہ فیصد کے حساب سے متعین ہے جس کی حتمی مقدار پتا نہیں ہے، لیکن یہ جہالت باہمی نزاع کی طرف لے جانے والی نہیں ہے، کیوں کہ اس جہالت پر تعامل جاری ہے۔
چنانچہ فقہاء کرام نے ایسی بہت ساری صورتوں کو جن میں اجرت حقیقۃً مجہول ہے مگر عرفِ عام میں اسے مجہول نہیں سمجھا جاتا، اور اس سے نزاعات پیدا نہیں ہوتے، جائز قرار دیا ہے، مثلاً: دلال کی اجرت کسی خاص عدد کے ساتھ مقرر نہیں کی جاتی، بلکہ فیصد کے تناسب سے طے کی جاتی ہے، مگر اس جہالت کے باوجود یہ معاملہ فقہاء کرام نے اسی لیے جائز قرار دیا کہ وہ باہمی نزاع کا سبب نہیں اور لوگوں میں اس کا بکثرت رواج ہے۔
جیسا کہ علامہ شامی رحمه الله نے رد المحتار میں فرمایا ہے:
قال في التاتارخانية: وفي الدلال والسمسار: يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز وجوزوه لحاجة الناس إليه. (رد المحتار: ٦/٦۳، سعيد).
پھر تفصیلی بحث کے بعد آخر میں مرقوم ہے: لہذا مستاجر کے منافع میں اجیر کی حصہ داری والا معاملہ بھی جائز ہوگا۔ (جدید معاشی نظام میں اسلامی قانونِ اجارہ، از ص
۱۹٤
۔
۲۰۵
، ط: ادارۃ المعارف کراچی)۔
مالی معاملات پر غرر کے اثرات، میں مرقوم ہے:
فیصد اجرت مقرر کرنے کی ایک صورت اجر "ملازم رکھنے والا" کے منافع میں حصہ داری کی ہے، اس صورت کا حاصل یہ ہے کہ آجر اپنے منافع میں کچھ فیصد اجیر کو بھی دیتا ہے۔ مثلاً: ایک شخص نے کسی کو اپنے کاروبار میں اس شرط پر ملازم رکھا کہ اتنی تنخواہ کے علاوہ حاصل ہونے والے نفع میں سے بھی پانچ فیصد دیا جائے گا اور یہ رقم بھی اجرت کا حصہ سمجھی جائے گی۔ عام طور پر تاجر حضرات اپنے کاروبار کو زیادہ ترقی دینے کے لیے یہ صورت اختیار کرتے ہیں کیوں کہ اس طرح کرنے سے ملازم کاروبار کو ترقی دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوشش کرتا ہے۔
اجیر کو اس طرح نفع میں شریک کرنے کی دو صورتیں ہیں:۔
پہلی صورت یہ ہے کہ آجر انعام کے طور پر اجیر کو نفع کی کچھ مقدار دے اور پہلے سے یہ انعام ان کے درمیان طے نہ ہو، یہ صورت جائز ہے کیوں کہ یہ مالک کی طرف سے دیا گیا انعام ہے لہذا اگر آجر کسی وقت یہ انعام نہ دے تو اجیر کو مطالبہ کرنے کا حق حاصل نہ ہوگا اور نہ ہی اجیر عدالتی چارہ جوئی کر سکے گا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ آجر اور اجیر کے درمیان باقاعدہ یہ معاہدہ طے ہو کہ آخر ماہ میں تنخواہ کے علاوہ نفع میں سے کچھ فیصد مثلاً: پانچ فیصد اجیر کو ادا کیا جائے گا۔ اس صورت میں تنخواہ کے علاوہ یہ رقم بھی اجرت کا حصہ سمجھی جائے گی اور نہ ادا کرنے کی صورت میں اجیر کو عدالتی چارہ جوئی کا حق بھی حاصل ہوگا۔
اس صورت میں اگر چہ جہالت پائی جاتی ہے لیکن چونکہ فیصد کے حساب سے اجرت مقرر کرنا باہمی نزاع کا باعث نہیں بنتا اس لیے یہ صورت بھی جائز ہے۔ (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص
۹۱
، از ڈاکٹر مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب، ط: ادارۃ المعارف)۔
ہر جہالت مفسدِ عقد نہیں بلکہ جو نزاع کا سبب بنے وہ مفسدِ عقد ہے ملاحظہ ہو جمہرۃ القواعد میں ہے:
الجهالة لست مانعة لذاتها، بل لكونها مفضية إلى النزاع، وهذا أصل مهم ينبغي التعويل عليه في الأحكام، فإن به حل كثير من المشكلات، وليعلم أن أحكام المعاملات الشرعية على أصلين عادلين:
الأول: منع كل ما فيه ظلم وأكل لأموال الناس بالباطل.
الثاني: منع ما يؤدي إلى الاختلاف والنزاع بسبب الجهالة، فإذا انتفي ما يؤدي إلى الظلم والنزاع بسبب الجهالة، صح التعامل، والعرف أصل عظيم يرجع إليه في ذلك بعد الشرع. (جمهرة القواعد الفقهية في المعاملات المالية: ۱/۳۱۹، تحت القاعدة: الجهالة إنما توجب الفساد إذا كانت مفضية إلى النزاع المشكل).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.