ثمن ادانہ کرنے پر مبیع واپس لینے کا حکم:

6 min readFatwa Vol 5 #16Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

زید نے عمر سے قسطوں پر ایک مشین خریدی کہ ماہانہ ۵ سو رینڈ ادا کرے گا کچھ مدت تک قسطیں ادا کرتا رہا پھر بعد میں ادا کرنا چھوڑ دیا جس ادا کرنا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے بائع نے مشین واپس لے لی، اب کیا مشتری سے وصول کی ہوئی قیمت واپس کرے گا یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اولاً مشتری اس مشین کا مالک ہے لہذا اس سے مشین لینا جائز اور درست نہیں تھا، اس کے باوجود اگر بائع نے مشین مشتری کی مرضی سے واپس لے لی تو یہ اقالہ کے حکم میں ہے اور اقالہ میں مبیع واپس کرنے پر ثمن بھی واپس کرنا لازم اور ضروری ہے، ورنہ بدلین کا ایک شخص کی ملک میں جمع ہونا لازم آئے گا جو کہ شرعی قانون کے خلاف ہے۔
ملاحظہ فرمائیں شرح المجلہ میں ہے:

البيع مع تأجيل الثمن وتقسيطه صحيح. أي والتأجيل لا زم، فليس للبائع حبس المبيع حتى يقبضه ولا المطالبة به قبل حلول الأجل. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۱٦٦).

معلوم ہوا کہ بیع بالتقسیط میں مشتری مبیع کا مالک ہے، لہذا بائع اس پر قبضہ نہیں کر سکتا، لیکن اگر واپس لے لی تو اقالہ کے حکم میں ہوگا اور مشتری کا ادا کیا ہوا ثمن واپس کرنا لازم ہوگا۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول

فإن شرطا أكثر منه أو أقل فالشرط باطل ويرد مثل الثمن الأول. (الهداية: ۳/٦۹).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
نقد اور ادھار کی قیمت میں فرق ہونا منع نہیں، مگر قسطیں متعین ہو جائیں، اور پھر یہ نہ ہو کہ کسی قسط کے وقتِ متعین پر وصول نہ ہونے سے مزید اضافہ قیمت میں کیا جائے، یا وصول شدہ ر قوم ہی ضبط ہو جائے اور موٹر سائیکل بھی ہاتھ سے چلی جائے، ایسی صورت ہو تو شرعاً یہ معاملہ درست نہیں، بلکہ اس میں سود اور جوا ہوگا، ان دونوں کی ممانعت نصوص میں مذکور ہے۔ (فتاوی محمودیہ: ۱٦/٤٦، مبوب و مرتب) ۔
آپ کے مسائل میں مذکور ہے:
یہ شرط کہ اگر کسی وجہ سے وہ تین ماہ کی قسطیں ادا نہ کر سکا تو بائع گاڑی اپنے قبضہ میں لے لے گا اور اس کی ادا شدہ قسطیں سوختہ ہو جائیں گی، یہ شرعاً غلط ہے، بائع کو یہ حق ہے کہ اپنی قسطیں قانونی ذرائع سے وصول کر لے، لیکن وہ گاڑی کو اپنے قبضہ میں لینے کا مجاز نہیں اور نہ ادا شدہ قسطوں کو ہضم کرنے کا مجاز ہے۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ٦/۱۵٤)۔
احسن الفتاوی میں ہے:
ادھار کی وجہ سے قیمت لینا جائز ہے، مگر تمام اقساط ادا نہ کرنے کی صورت میں مبیع کی واپسی اور ادا کردہ اقساط ضبط کرنے کی شرط فاسد ہے، اس لیے یہ معاملہ جائز نہیں۔ (احسن الفتاوی: ٦/۵۱۹)۔
ہاں بعض علماء کا قول ہے کہ جب مشتری ثمن ادا نہ کرے تو بائع یک طرفہ عقد فسخ کر کے مبیع کو واپس لے سکتا ہے موجودہ زمانہ میں یہ آسان قول ہے اس پر فتوی دینا زیادہ مناسب ہے۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ومن قال لا خر اشتريت مني هذه الجارية فأنكر الآخر إن أجمع البائع على ترك الخصومة وسعه أن يطأها لان المشتري لما جحد كان فسخاً من جهته إذا الفسخ يثبت به كما إذا تجاحدا فإذا عزم البائع على ترك الخصومة تم الفسخ وبمجرد العزم وإن كان لا يثبت الفسخ فقد اقترن بالفعل وهو إمساك الجارية ونقلها وما يضاهيه ولأنه لما تعذر استيفاء الثمن من المشتري فات رضاء البائع فيستبد بفسخه. (الهداية، ۳/۱٤٦، باب التحكيم).

لیکن ہدایہ کی دوسری عبارت اس کے خلاف معلوم ہوتی ہے، ملاحظہ ہو:

قال: ومن اشترى عبداً فغاب والعبد في يد البائع وأقام البائع البينة أنه باعه إياه فإن كانت غيبته معروفة لم يبع في دين البائع لأنه يمكن إيصال البائع إلى حقه بدون البيع. (الهداية: ۳/۱۰۳، مسائل منثورة).

یعنی مشتری ثمن ادا کرنے سے پہلے غائب ہو گیا اور اس کا ٹھکانہ معلوم ہے تو مبیع بیچ کر ثمن وصول کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ بائع (قاضی کی معرفت) اپنا حق وصول کر سکتا ہے۔
لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں پر ثمن وصول کرنا ممکن ہے کیوں کہ قاضی کے پاس مقدمہ دائر کر کے ثمن وصول کرنا آسان ہے۔ جب کہ موجودہ دور میں یہ صورت ممکن نہیں ہے اگر مقدمہ دائر کریں گے تو کئی سال انتظار کرنا پڑے گا پھر اس کی وجہ سے مقدمہ کے اخراجات وغیرہ عائد ہوں گے۔ اس لیے بہتر صورت یہ ہے کہ پہلی عبارت کی بنا پر یک طرفہ عقد فسخ کر کے مبیع واپس لے لے۔
حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله بھی اسی پر فتوی دیتے تھے۔
اس مسئلہ کی مزید تفصیل آنے والے مسئلہ تحت بھی دیکھی جا سکتی ہے۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.