ثمن ادانہ کرنے پر بائع کا یک طرفہ فسخ کرنے کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی قیمتی زمین کسی مشتری کو متعین ثمن پر فروخت کر دی مشتری نے چھ ماہ بعد رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا اور ثمن کا کچھ حصہ بطورِ ڈپازٹ ادا کر دیا، چھ ماہ بعد اس سے کئی مرتبہ ثمن کا مطالبہ ہوا لیکن وہ نہیں دے رہا ہے اور اقالہ بھی نہیں کر رہا ہے، کافی مدت کے بعد بائع نے عقد فسخ کر کے کسی اور کے ہاتھ اس زمین کو فروخت کر دی کیا یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں؟
Answer
ہمارے حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله اور مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمه الله اس قسم کے واقعہ میں یک طرفہ طور پر بیع فسخ کرنے کا فتوی دیا کرتے تھے جب مشتری اقالہ بھی نہیں کرتا اور ثمن بھی نہیں دیتا تو بائع یک طرفہ طور پر بیع کو فسخ کر سکتا ہے، ایک مرتبہ بنوری ٹاؤن کے دار الافتاء میں حضرت حکیم اختر صاحب دام مجدہ کی وساطت سے ایک استفتاء آیا جس میں سوال مذکور میں جو صورت ہے اس سے ملتی جلتی صورت تھی، مستفتی کا نام کنایات میں لکھا تھا حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله نے مختصر جواب بغیر حوالہ کے لکھا کہ یک طرفہ طور پر بائع فسخ کر سکتا ہے، ایک دو دن کے بعد پھر سوال آیا کہ چونکہ زید خود مفتی ہے اس لیے اس کو حوالہ درکار ہے ۔ حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله نے ہدایہ ثالث کی درجِ ذیل عبارت تحریر فرمائی: ۔
ولأنه لما تعذر استيفاء الثمن من المشتري فات رضا البائع فيستبد بفسخه. (الهداية: ۳/۱٤۷، كتاب أدب القاضي، مسائل شتى من كتاب القضاء).
اس کے بعد کوئی سوال نہیں آیا، یہ سوال حضرت مفتی رشید صاحب رحمه الله کی طرف سے تھا اور انہوں نے اس جواب سے اتفاق فرما کر یہی مسئلہ احسن الفتاوی: ٦/۵۰٦، میں تحریر فرمایا۔
اس عبارت کو اگر چہ صاحبِ ہدایہ نے ایک خاص مسئلہ کے ذیل میں نقل کیا ہے لیکن یہ ایک اصول کا درجہ رکھتی ہے۔
اشکال اور جواب:
اشکال: لیکن اس پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ جس مسئلہ میں یک طرفہ طور پر فسخ کا ذکر ہے، اس میں مشتری بیع سے منکر ہے اس لیے بائع یک طرفہ فسخ کر سکتا ہے، کیوں کہ مشتری کی طرف سے تو بیع ختم ہو گئی۔ جب کہ صاحبِ ہدایہ نے اسی صفحہ پر تحریر فرمایا:
لأن أحد المتعاقدين لا يتفرد بالفسخ. (الهداية: ۳/۱٤۷، مسائل شتى من كتاب القضاء).
اسی طرح شرح مجلہ للاتاسی میں: ۲/۲۵۸ پر لکھا ہے جہاں دوسرا فریق عقد کا اقراری ہو لیکن ثمن ادا نہیں کرتا ہے تو فریق آخر فسخ نہیں کر سکتا ہے۔
نیز بدائع الصنائع میں مرقوم ہے:
ونوع لا يرتفع إلا بالإقالة وهو حكم كل بيع لا زم وهو البيع الصحيح الخالي عن الخيار. (بدائع الصنائع: ۵/۳۰٦، سعيد).
محترم حضرت مولانا مفتی محمد تقی صاحب نے بھی اس کے موافق تحریر فرمایا ہے، یعنی یک طرفہ فسخ نہیں ہو سکتا۔ (فتاوی عثمانی: ۳/٦۲۱)۔
الجواب: لیکن اگر ہدایہ کی عبارت پر غور کیا جائے اور محشی حضرات کے کلام کی روشنی میں اس کو ملاحظہ کیا جائے تو یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہو جا ئیگی کہ اصل مدار ثمن کی وصول یا بی پر ہے جب ثمن کی وصول یا بی ممکن نہ ہو یا انتہائی درجہ مشکل ہو تو یک طرفہ فسخ کی اجازت ہو گی۔
عنایہ میں ہے:
لما تعذر استيفاء الثمن يستبد وههنا لما أقر المشتري في مكانه بالشراء لم يتعذر الاستيفاء فلا يستبد بالفسخ. (العناية على هامش فتح القدير: ۷/۳۳٤، دار الفكر).
یعنی مشتری ثمن کا اقرار کرتا ہے تو ثمن کی وصولی ممکن ہے اس لیے بیع کو یک طرفہ طور پر فسخ نہیں کر سکتے ہیں، چونکہ پرانے زمانہ میں اسلامی قضا کا نظام موجود تھا اور مظلوم کی داد رسی بآسانی ہو سکتی تھی تو ثمن وصول ہو سکتا تھا لیکن موجودہ دور میں ٹال مٹول کرنے کی وجہ سے ثمن کی وصول یا بی ناممکن کی طرح ہے اور عدالت میں جانا دامت کے سوا کچھ نہیں، اور سالہا سال اپنے آپ کو پریشان کرنے کے مترادف ہے۔
نیز بدائع کی عبارت میں جو بیع لازم میں فسخ کی صورت صرف اقالہ لکھی ہے یہ عام حالات میں تو قابل عمل ہے لیکن جہاں ثمن یا مبیع کی وصولی ممکن نہ ہو وہاں یک طرفہ فسخ ہو سکتا ہے، اگر بیع میں غلام مشتری کے قبضہ سے پہلے بھاگ جائے تو عقد مکمل ہونے کے باوجود قاضی عقد کو فسخ کر سکتا ہے۔ کما فی الدر مع الرد: (٤/۲۹۲، سعید)۔
حضرت مفتی محمد تقی صاحب دام فضلہ نے اس مذکورہ بالا مسئلہ میں یک طرفہ طور پر فسخ کو درست نہیں سمجھا لیکن حضرت کی دوسری کتاب میں گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
ملاحظہ ہو تکملہ فتح الملہم میں ہے:
فإن الخادع يجب عليه ديانة أن يفسخ البيع أو يقيل المخدوع إذا طلب منه الإقالة وقد صرح به في الدر المختار والشامي. (تكملة فتح الملهم: ۱/۳۳۳).
حضرت نے تقریر ترمذی میں فرمایا ہے: لیکن متاخرین حنفیہ مالکیہ کے قول پر فتوی دیتے ہیں اس لیے آج کل دھوکہ فریب عام ہے لہذا دھوکا دے کر کوئی شخص اگر کم دام میں خرید لے یا زیادہ دام میں فروخت کر لے تو جس شخص نے دھوکا کھایا ہے اس کو خیارِ فسخ ملنا چاہیے جیسا کہ امام مالک رحمه الله کا مذہب ہے چنانچہ آج کل فتوی اسی پر ہے لہذا دھوکا کھانے والے کو خیارِ مغبون حاصل ہوگا۔ (تقریر ترمذی: ۱/۱٦۹)۔
فیض الباری میں علامہ انور شاہ کشمیری رحمه الله فرماتے ہیں:
إن الغرر إما قولي أو فعلي فإن كان الغرر قولياً فالإقالة واجبة بحكم القاضي وإن كان الثاني تجب عليه الإقالة ديانة،
وهكذا أقول فيما إذا اشتري سلعة، فلم يؤد ثمنها حتى أفلس، أنه يكون فيه أسوة للغرماء عندنا قضاء، ويجب عليه أن يرد المبيع إلى البائع خفية ديانة، فإنه أحق به، لكنه حكم الديانة دون القضاء. (فيض الباري: ۳/۲۳۲).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.