ایک مشتری کو مبیع دکھا کر دوسرے کو فروخت کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 5 #10Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

اگر کسی نے خریدار کو ایک فریزر فروخت کیا وہ فریزر بطورِ نمونہ رکھا ہوا تھا چونکہ مشتری نے قیمت ادا نہیں کی اس لیے فریزر نہیں لے گیا، بائع نے وہ فریزر دوسرے شخص کو فروخت کر دیا یہ سوچ کر کہ جب مشتری آ جائے گا تو اس کو گودام سے دوسرا فریزر دے دوں گا، کیا اس طرح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

اگر مشتری نے یہ کہا تھا کہ مجھے یہی فریزر پسند ہے دوسرا نہیں لوں گا تو پھر بائع اس کو نہیں بیچ سکتا، مگر مشتری کے آنے سے مایوس ہو جائے تو یک طرفہ عقد فسخ کر کے اس کی قیمت وصول کر لے، اور اگر بائع نے صرف نمونہ دکھایا تھا اصل مبیع کو نہیں دکھایا تھا تو یہ بیع نہیں وعدہ بیع ہے، اور اگر عقد بھی کر لیا تھا تو جب مشتری آ جائے تو اس کو دوسرا فریزر دے دے، ہاں غیر مرئی چیز کی بیع کی وجہ سے مشتری کو خیارِ رؤیت حاصل ہوگا، اور بطورِ نمونہ دکھائے جانے والے فریزر کی بیع نہیں ہو گی ۔
ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:

قال ومن اشتري عبداً فغاب والعبد في يد البائع وأقام البائع البينة أنه باعه إياه فإن كانت غيبته معروفة لم يبع في دين البائع لأنه يمكن إيصال البائع إلى حقه بدون البيع وفيه إبطال حق المشتري وإن لم يدر أين هو بيع العبد وأوفي الثمن لأن ملك المشتري ظهر بإقراره فيظهر على الوجه الذي أقر به مشغولاً بحقه وإذا تعذر استيفاؤه من المشتري يبيعه القاضي فيه كالراهن إذا مات والمشتري إذا مات مفلساً والمبيع لم يقبض. (الهداية: ۳/۱۰۳).
وفي الهندية: من اشتري شيئاً لم يره فله الخيار إذا رآه إن شاء أخذه بجميع ثمنه وإن شاء رده سواء رآه على الصفة التي وصفت له أو على خلافها كذا في فتح القدير وهو خيار يثبت حكماً لا بالشرط كذا في الجوهرة النيرة. (الفتاوى الهندية: ۳/۵۷، ۵۸).

تنبیہ: یک طرفہ طور پر فسخ کرنے کی مزید تفصیل آگے آ رہی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.