بعض مبیع اپنے لیے مخصوص کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 5 #23Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

اگر کوئی شخص دوسرے سے شاپنگ مول (shopping complex) خریدے، اور بائع بوقتِ عقد یہ شرط لگا دے کہ اس مول میں مجھے ایک دکان بغیر کرایہ کے ملے گی، کیا ایسی شرط لگانا جائز ہے یا نہیں؟

Answer

مقتضائے عقد کے خلاف شرط لگانا مفسدِ عقد ہے، لہذا مذکورہ بالا عقد صحیح نہیں ہوا ۔ ہاں جواز کی صورت یہ ہے کہ پورے کمپلیکس کی بیع میں ایک مخصوص دکان کو مستثنی قرار دے وہ دکان بائع کی ہو گی اور باقی دکانیں مشتری کی ہوں گی، پھر وہ دکان بائع اپنی ملکیت کے طور پر استعمال کرتا رہے، اس کا کرایہ بھی نہیں ہوگا ۔
جیسے پھلوں کا ڈھیر بیچتے وقت ان میں سے دس کلو اپنے لیے مستثنی کر دے تو یہ جائز ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:

ولا يجوز أن يبيع ثمرة ويستثني منها أرطالاً معلومة خلافاً لمالك رحمه الله لأن الباقي بعد الاستثناء مجهول بخلاف ما إذا باع واستثنى نخلاً معيناً لأن الباقي معلوم بالمشاهدة قال: قالوا: هذه رواية الحسن رحمه الله وهو قول الطحاوي رحمه الله، أما على ظاهر الرواية ينبغي أن يجوز لان الأصل أن ما يجوز إيراد العقد عليه بانفراده يجوز استثناؤه من العقد وبيع قفيز من صبرة جائزة فكذا استثناؤه. (الهداية: ۳/۲۷، كتاب البيوع).
وللاستزادة: انظر فتاوى الشامي: ٤/۵۵۸، ۵۵۹، سعيد. والقول الراجح: ۲: ۱۰).

جواز کی ایک اور صورت علامہ شامی رحمه الله نے جامع الفصولين سے نقل فرمائی ہے وہ یہ ہے:
عقد مکمل ہو جانے کے بعد بائع مشتری سے وعدہ کر لے کہ تم مجھے ایک دکان بلا کرایہ دو گے، اگر مشتری منظور کر لے گا تو پھر دکان دینا اس پر لازم ہو جائے گا، اس لیے کہ ایسا وعدہ واجب الوفاء ہوتا ہے ۔

وقال في شرح المجلة: فلو ألحق الشرط الفاسد بالعقد، قيل: يلتحق عند الإمام وقيل: لا، وهو الصحيح

نقل (ابن عابدين رحمه الله) عن جامع الفصولين أيضاً أنه لو ذكر البيع بلا شرط، ثم ذكر الشرط على وجه العدة جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لا زمة، فيجعل لا زماً لحاجة الناس، ويظهر لي أنه متى وقع الشرط بعد العقد لا يكون إلا على وجه العدة، وحكمه أنه يجب الوفاء به. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، فصل في حق البيع بشرط: ۲/٦۰).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.