بند ڈبوں میں مجہول مبیع کی تجارت کا حکم:
Question
ایک کمپنی بند ڈبوں میں برتن فروخت کرتی ہے، مشتری ان بند ڈبوں کو بڑے شوق سے خریدتے ہیں، ان ڈبوں میں اتنا تو معلوم ہے کہ برتن ہیں، لیکن یہ معلوم نہیں کہ برتن بڑے ہیں یا چھوٹے، اعلی کوالٹی کے ہیں یا ادنی، جیسے بھی ہو مشتری کی قسمت ہے، ہاں اگر ان میں سے کوئی عیب دار برتن ہو یا ٹوٹا ہوا ہو تو وہ واپس ہو سکتا ہے، اس عقد میں بظاہر خیارِ رؤیت ہونا چاہیے کیوں کہ مشتری نے چھپی ہوئی چیز کو خریدا لیکن اس میں خیارِ رؤیت نہیں، ہاں خیارِ عیب ہے ۔ شرعاً اس عقد کا کیا حکم ہے؟ اور اگر ناجائز ہو تو اس کی تصحیح کی کوئی شکل نکل سکتی ہے یا نہیں؟
Answer
مذکورہ بالا عقد میں دو خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے عقد فاسد ہوگا۔ (۱) ایک یہ کہ مبیع مجہول ہے ۔ (۲) غیر مرئی چیز کے خریدنے کے بعد خیارِ رؤیت ملنا چاہیے جو یہاں نہیں، اگر دیکھنے سے پہلے مشتری
"رضيت"
کہہ دے پھر بھی خیارِ رؤیت ساقط نہیں ہوتا، جب کہ یہاں خیارِ رؤیت کا سوال ہی نہیں ۔
(۱) فسادِ عقد کی پہلی خرابی مبیع کی جہالت ہے اس کا جواب یہ ہے کہ تجارت میں وہ جہالت مفسدِ عقد ہے جو
"مفضية إلى المنازعة"
ہو، لیکن جو
"مفضية إلى المنازعة"
نہ ہو اور عرفِ عام میں مروج ہو وہ قابل تحمل ہے اور مفسدِ عقد نہیں ہے ۔
صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
والأثمان المطلقة لا تصح إلا أن تكون معروفة القدر والصفة لأن التسليم والتسلم واجب بالعقد وهذه الجهالة مفضية إلى المنازعة فيمنع التسليم والتسلم، وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز هذا هو الأصل. (الهداية: ۳/۲۰).
صاحبِ ہدایہ کی عبارت سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ ہر جہالت مفسدِ عقد نہیں ہے، بلکہ وہ جہالت جو نزاع پیدا کر دے وہی خاص طور پر مفسدِ عقد ہے ۔
شرح المجلہ میں ہے:
وفي الهندية جهالة المبيع أو الثمن مانعة لجواز البيع إذا كان يتعذر معها التسليم وإن كان لا يتعذر لا يفسد العقد كما لو باع صبرة معينة ولم يعرف قدر كيلها أو باع أثواباً معينة ولم يعرف عددها، وإنما يفسد البيع بالجهالة الفاحشة إذا كان محتاجاً إلى تسليم المبيع وإلا فلا يفسد. (شرح المجلة، لسليم رستم باز، ۱/۱۰۲، دار الكتب العلمية).
حاشیۃ الطحطاوی میں ہے:
قوله معرفة قدر هو في المصنف منون يشمل قدر المبيع والثمن قال في البحر: وأشار بالمعرفة إلى أن الشرط العلم بهما دون ذكرهما كما في الإيضاح فلو كان المبيع مجهولاً جهالة فاحشة ولم يجربها العرف لا يصح البيع. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۳/۱۲، كوئته).
فتاوی عالمگیری میں ہے:
فإن كان مجهولاً جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد، وإلا، فلا. (الفتاوى الهندية: ٤/٤۱۱، كتاب الإجارة).
فتاوی شامی میں ہے:
قوله وشرط لصحته معرفة قدر مبيع وثمن ككر حنطة وخمسة دراهم أو أكرار حنطة فخرج مالو كان قدر المبيع مجهولاً أي جهالة فاحشة، فإنه لا يصح وقيدنا بالفاحشة لما قالوه لو باعه جميع ما في هذه القرية أو هذه الدار والمشتري لا يعلم ما فيها لا يصح لفحش الجهالة، أما لو باعه جميع ما في هذا البيت أو الصندوق أو الجوالق فإنه يصح لأن الجهالة يسيرة. (فتاوى الشامي: ٤/۵۲۹، كتاب البيوع، سعيد).
علامہ عینی رحمه الله (۷٦۲ ۔ ۸۵۵ م) فرماتے ہیں:
وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز أي جواز العقد هذا أي كون الجهالة المفضية إلى المنازعة مانعة هو الأصل أي في كتاب البيوع بالإجماع لأن شرعية المعاملات لقطع المنازعات المفضية إلى الفساد. (البناية في شرح الهداية: ۳/۱۵).
شاہ صاحب (۱۳۵۲ م) فیض الباری میں فرماتے ہیں:
قلت: إن الناس يعاملون في أشياء تكون جائزة فيما بينهم على طريق المروءة والإغماض، فإذا رفعت إلى القضاء يحكم عليها بعدم الجواز
وذلك لأن العقود على نحوين: نحو: يكون معصية في نفسه، وذا لا يجوز مطلقاً، ونحو آخر: لا يكون معصية وإنما يحكم عليه بعدم الجواز لا فضاء ه إلى المنازعة فإذا لم تقع فيه منازعة جاز. (فيض الباري: ۳/۲۸۹، كتاب الوكالة).
علی احمد الندوی "جمہرۃ القواعد الفقہیہ" میں فرماتے ہیں:
الجهالة ليست بمانعة لذاتها، بل لكونها مفضية إلى النزاع، وهذا أصل مهم ينبغي التعويل عليه في الأحكام، فإن به حل كثير من المشكلات، وليعلم أن أحكام المعاملات الشرعية مبنية على أصلين عادلين:
الأول: منع كل ما فيه ظلم وأكل لأموال الناس بالباطل.
الثاني: منع ما يؤدي إلى الاختلاف والنزاع بسبب الجهالة، فإذا انتفى ما يؤدي إلى الظلم والنزاع بسبب الجهالة، صح التعامل، والعرف أصل عظيم يرجع إليه في ذلك بعد الشرع. (جمهرة القواعد الفقهية في المعاملات المالية: ۱/۳۱۹، تحت القاعدة: الجهالة إنما توجب الفساد إذا كانت مفضية إلى النزاع المشكل).
حضرت مفتی ولی حسن صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ جو جہالت نزاع کا سبب ہو وہ منع ہے اور جو جہالت نزاع کا سبب نہیں بنتی وہ منع نہیں ہے ۔
(درس الهداية: الجزء الثالث، ص ۲۹).
(۲) فسادِ عقد کی دوسری خرابی رؤیت کا نہ ہونا ہے تو اس کی توجیہ یہ ہو سکتی ہے کہ آج کل دکانوں میں تجارت بیع تعاطی کے طور پر ہوتی ہے جس میں ایجاب و قبول کا نام و نشان تک نہیں ہوتا، یعنی عقد میں خیارِ رویت کی نفی شامل نہیں ہو گی، بایں وجہ اگر بند ڈبوں کی خریداری بیع تعاطی کے ساتھ ہو اور مشتری نے لینے سے پہلے یا بعد میں وعدہ کیا ہو کہ میں دیکھنے کے بعد واپس نہیں کروں گا تو مشتری کو اپنے وعدہ کا پاس و لحاظ رکھنا چاہیے ۔
شرح مجلہ میں ہے:
لو ذكر البيع بلا شرط، ثم ذكر الشرط على وجه العدة، جاز البيع ولزم الوفاء بالوعد، إذ المواعيد قد تكون لا زمة فيجعل لا زماً لحاجة الناس. (شرح المجلة، فصل في حق البيع بشرط، ۲/٦۱).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.