مبیع کی قیمت بڑھ جانے پر فسخ کرنے کا حکم:

9 min readFatwa Vol 5 #24Urdu
Vol. 5كتاب البيوعباب (۱، ۲، ۳): جائز اور ناجائز خرید و فروخت کے احکام

Question

ایک شخص نے بوقتِ حاجتِ شدیدہ اپنا ایک مکان اپنی بہن اور بہنوئی کو دوسرے تین بھائیوں اور اپنی بیوی کی موجود گی میں دو لاکھ بیس ہزار معجل قیمت پر بیچا، پھر البرکہ بینک کے پاس معاملہ پہنچا بینک نے کاغذات طلب کیے لیکن مکان کے کاغذات نہ ہونے کی وجہ سے پوری رقم ادا نہ ہو سکی اور البرکہ بینک نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لینے سے انکار کر دیا، تو بائع اور مشتری دونوں نے آپس میں معاملہ طے کر لیا اور مشتری نے ۵۰ ہزار رینڈ نقد ادا کر دیے اور باقی قسطوں پر کر دیے گئے ہر ماہ کی قسط متعین نہ تھی بلکہ مشتری کی صواب دید پر موقوف تھی، اب بائع نے اپریل ۲۰۰۸ میں قیمت لینے سے منع کیا لیکن بعد میں مشتری نے ۲۵ اپریل کو بینک کے واسطہ سے چیک بھیجا تو بائع نے وصول کر لیا اور اس کا کہنا ہے کہ قیمت بہت کم ہے مکان کی ویلیو زیادہ ہے لہذا میں اس قیمت پر راضی نہیں ہوں ۔ جب کہ مشتری پانچ قسطیں ادا کر چکا ہے اور صرف ٤۰ ہزار باقی رہ گئے ہیں ۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شریعت کی نگاہ میں اس مکان کا مالک کون ہے؟ کیا بائع کو بیع فسخ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟

Answer

صورتِ مسئولہ میں جانبین سے رضامندی کے ساتھ ایجاب و قبول ہو گیا، لہذا بیع تام ہو گئی اور مشتری مکان کا مالک بن گیا اب بائع کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے، اور جو قیمت معجل تھی وہ بائع نے خود اپنی رضامندی سے قسطوں پر کر دی کیوں کہ البرکہ بینک نے مکان کے کاغذات طلب کیے اور بائع کے پاس موجود نہ تھے لہذا پوری قیمت وصول نہ ہو سکی ۔
(۲) دوسری بات یہ ہے کہ جائداد مثلاً مکانات، زمین، دیگر اشیاء اور ضرورت کی چیزیں بلکہ اشیائے خوردنی میں بھی روز بروز ترقی ہوتی ہے اور کافی مہنگی ہو رہی ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قیمت کے بڑھنے کی وجہ سے فروخت شدہ مکان واپس طلب کرے بلکہ جو قیمت طے ہوئی ہے اسی پر عقد برقرار رہے گا یہاں تک کہ پوری قیمت ادا کر دی جائے ۔
(۳) نیز خرید و فروخت میں عاقدین کے عقد کے وقت بازاری قیمت کا اعتبار ہوتا ہے عقد ہو جانے کے بعد قیمت بڑھ جائے یا کم ہو جائے اس سے عقد پر کوئی فرق نہیں پڑتا، بلکہ عاقدین آپس میں جو بھی ثمن طے کر لیں اسی کا اعتبار ہوگا اگر چہ بازاری قیمت اس سے کم ہو یا زیادہ، قسطیں بھی طے شدہ ثمن کے مطابق ہی ادا کر دی جائیں گی اس میں تبدیلی نہیں ہو گی مگر مشتری اپنی طرف سے کچھ زیادہ دے دے تو اس کا احسان ہے اور یہ جائز ہے ورنہ بائع کو طے شدہ ثمن سے زیادہ وصول کرنے کا حق نہیں ہے ۔
(٤) جب بائع نے قسطوں کو مشتری کی صواب دید پر چھوڑ دیا کوئی وقت متعین نہیں کیا تب بھی عقد صحیح اور درست ہے اور مشتری کو اختیار رہے گا کہ وہ ماہانہ جتنا ادا کرنا چاہے ادا کر دے، لیکن کچھ نہ کچھ ادا کرنا ضروری ادا کرنا ضروری ہوگا، ہاں پوری قیمت عقد کے وقت متعین ہونا ضروری ہے تاکہ بعد میں جھگڑا نہ ہو جائے جیسا کہ صورتِ مسئولہ میں کل قیمت دو لاکھ ۲۰ ہزار متعین ہے تو یہ عقد بالکل صحیح ہے ۔
(۵) پانچ قسطیں وصول کرنے کے بعد صرف ٤۰ ہزار رہ گئے اب یہ کہنا کہ میں راضی نہیں ہوں، صحیح نہیں ہے اور اس سے عقد پر کوئی اثر مرتب نہیں ہوگا ۔
دلائل ملاحظہ فرمائیں، قرآن کریم میں ہے:

﴿يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوآ أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم﴾. (سورة النساء، الآية: ۲۹).

بخاری شریف میں ہے:

حدثنا أبو النعمان قال حدثنا حماد بن زيد قال حدثنا أيوب عن نافع عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال قال النبي ﷺ: "البيعان بالخيار ما لم يتفرقا أو يقول أحدهما لصاحبه اختر وربما قال: أو يكون بيع خيار. (صحيح البخاري: ۱/۲۸۳، باب من لم يوقت الخيار هل يجوز البيع، كتاب البيوع).

عمدۃ القاری میں ہے:

أي بخيار البيعين ما لم يتفرقا، قال عبد الله بن عمر بن الخطاب رضي الله عنه وقد مضي أن ابن عمر رضي الله عنه كان إذا اشتري شيئاً يعجبه فارق صاحبه، وروي الترمذي من طريق ابن فضيل عن يحيي بن سعيد: وكان ابن عمر رضي الله عنه إذا ابتاع بيعاً وهو قاعد قام ليجب له، وقد ذكرنا عن مسلم نحوه. (عمدة القاري: ۸/۳۸۵، كتاب البيوع، دار الحديث، ملتان).

ترمذی شریف میں ہے:

ومعني قول النبي ﷺ إلا بيع الخيار معناه أن يخير البائع المشتري بعد إيجاب البيع فإذا خيره فاختار البيع فليس له خيار بعد ذلك في فسخ البيع وإن لم يتفرقا هكذا فسره الشافعي رحمه الله وغيره. (ترمذي شريف: ۱/۱۵۰، باب ما جاء البيعان بالخيار ما لم يتفرقا).

مذکورہ بالا روایت اور اس کی شرح سے معلوم ہوتا ہے کہ آپس میں رضامندی سے عقد کر لینے کے بعد کسی کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے ۔
صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:

وإذا حصل الإيجاب والقبول لزم البيع ولا خيار لواحد منهما إلا من عيب أو عدم رؤية. (الهداية: ۳/۲۰، كتاب البيوع).

ہدایہ میں ہے:

ولا يجوز البيع إلى قدوم الحاج وكذلك إلى الحصاد والدياس

إلى قوله بخلاف ما إذا باع مطلقاً ثم أجل الثمن إلى هذه الأوقات حيث جاز لأن هذا تأجيل في الدين وهذه الجهالة فيه متحملة. (الهداية: ۳/٦۱، باب البيع الفاسد).

شرح مجلہ میں ہے:

وفي جامع الفصولين: الرواية المحفوظة أنه لو باع مطلقاً ثم أجل الثمن إلى حصاد ودياس لا يفسد ويصح الأجل، ووجهوه بأن التأخير بعد البيع تبرع فيقبل التأجيل إلى الوقت المجهول. (شرح المجلة لمحمد خالد الأتاسي، ۲/۱٦۸، الفصل الثاني في بيان المسائل المتعلقة بالبيع بالنسيئة والتأجيل، كوئته).

فقہی مقالات میں ہے:
قسطوں پر بیع کا مطلب وہ بیع ہے جس میں بیچنے والا اپنا سامان خریدار کو اسی وقت دے دے، لیکن خریدار اس چیز کی قیمت فی الحال ادا نہ کرے، بلکہ وہ طے شدہ قسطوں کے مطابق اس کی قیمت ادا کرے، لہذا جس بیع میں
مذکورہ بالا صورت پائی جائے اس کو "بیع بالتقسیط" کہیں گے، چاہے اس چیز کی طے شدہ قیمت اس کی بازاری قیمت کے برابر ہو یا کم یا زیادہ ۔ (فقہی مقالات، ۱/۸۲، میمن اسلامک پبلشرز) ۔
جدید فقہی مسائل میں ہے:
ادھار قیمت قسط وار بھی ہو سکتی ہے اور ایک مشت بھی، صرف اس قدر ضروری ہے کہ اجل (مدتِ ادائیگی) اور ثمن (قیمت) اس درجہ متعین ہو جائے کہ نزاع کا اندیشہ نہ رہے، آج کل بالاقساط خرید و فروخت کا رواج جس درجہ بڑھ گیا ہے، غالباً گزشتہ ادوار میں اتنا زیادہ اس کا رواج نہیں تھا، پھر بھی فقہاء کے یہاں قسطوں میں قیمت کی ادائیگی کا ذکر ملتا ہے، شامی نے ایسے ہی ایک معاملہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

"ومن باع سلعة بثمن

على أن تعطيني كل يوم درهماً وكل يوم درهمين". (منحة الخالق، ۵/۲۸۰).

شامی نے اس طرح کے بعض اور معاملات کا بھی ذکر کیا ہے:
خود امام شافعی رحمه الله (۱۵۰ ۔ ۲۰٤ ھ) رقم طراز ہیں:

"ومن كانت عليه دنانير منجمة أو دراهم فأراد أن يقبضها جملة فذلك له. (كتاب الام، ۳/۳۳).

غرض قسط وار قیمت میں خرید و فروخت شریعت کے عام اصول و قواعد کی روشنی میں بلا شبہ جائز ہے اور بظاہر اس میں فقہاء کا اختلاف بھی نظر نہیں آتا ۔ (جدید فقہی مسائل: ٤/۲۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.