اقالہ میں مبیع کے نقصان کا تاوان لینے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #422Urdu
Vol. 9باب… )۱۰( تجارت سے متعلق متفرق مسائل کا بیان

Question

ایک شخص نے دوسرے سے گاڑی خریدی، ٤۵ دن برابر استعمال کی، اس عرصہ میں اس نے گاڑی کو خراب کیا مثلاً ویل خراب ہوے اور ایک طرف کا دروازہ خراب ہوا، پھر کہتا ہے کہ مجھے نہیں چاہیے، بائع نے غصہ میں آ کر واپس لے لی، اب کیا بائع ٤۵ دن کا کرایہ اور ویل اور دروازے کی قیمت طلب کر سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ مشتری نے جب گاڑی خریدی، اور اس کو چلایا گھمایا پھرایا تو اب اس کو واپس نہیں کرنا چاہیے تھا، لیکن اب مشتری نے واپس کی اور بائع نے لے لی اگر چہ غصہ میں لی، تو اقالہ منعقد ہو گیا، اور اقالہ کے لیے ثمن اول کا ذکر ضروری نہیں ہے، نیز جب بائع نے اقالہ کر لیا تو اب ویل اور دروازے کی قیمت لینے کا حق نہیں، کیوں کہ چلاتے وقت مشتری گاڑی کا مالک تھا، اور اس نے اپنی ملک میں تصرف کیا تھا، اسی طرح ٤۵ دن کے کرایہ کے مطالبہ بھی حق نہیں ہے ۔
ہاں مشتری اگر قیمت میں سے کچھ رقم بطورِ تبرع بائع کے پاس چھوڑ دے تو درست ہے، لیکن اگر نہ چھوڑے تو بائع کو آخرت میں بے حساب ثواب ملے گا، ان شاء اللہ تعالی، کیوں کہ اقالہ سے انکار کا حق حاصل ہونے کے باوجود واپس لینا ثواب کا کام ہے، مزید برآں اس کو کار استعمال کرنے کا ثواب بھی ملے گا ۔
اقالہ خود ایک ثواب کا کام ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں فضیلت وارد ہوئی ہے:

عن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله ﷺ: من أقال نادماً بيعته أقال الله عثرته يوم القيمة، قال الشيخ شعيب الارنؤوط: إسناده صحيح على شرط مسلم. (صحيح ابن حبان: ۱۱/٤۰٤/۵۰۲۹، ط: مؤسسة الرسالة).

در مختار میں مرقوم ہے:

وتصح أيضاً

بالتعاطي ولو من أحد الجانبين كالبيع وهو الصحيح بزازية، قوله هو الصحيح، بزازية: عبارتها قبض الطعام المشتري وسلم بعض الثمن ثم قال بعد أيام أن الثمن غال فرد البائع بعض الثمن المقبوض، فمن قال: البيع ينعقد بالتعاطي من أحد الجانبين جعله إقالة وهو الصحيح. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵/۱۲۰، سعيد).

شرح المجلہ میں مرقوم ہے:
واستفيد من قوله الإقالة كالبيع، أن القبول فيها كما يكون بالقول يكون بالفعل الدال على القبول كالبيع، فلو أوجب أحد المتقابلين وصدر من الآخر فعل يدل على القبول تمت الإقالة

الإقالة بالتعاطي القائم مقام الإيجاب والقبول صحيحة. (شرح المجلة ۲/۷۸، وكذا في الفتاوى الهندية: ۳/۱۵۷).

اقالہ میں ثمن اول کا ذکر نہ کیا ہو پھر بھی ثمن اول پر اقالہ صحیح ہو جائے گا ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں ہے:

وتصح بمثل الثمن الأول وبالسكوت عنه، المراد أن الواجب هو الثمن الأول سواء سماه أولا. (فتاوى الشامي: ۵/۱۲۵، سعيد).
قال في شرح المجلة: وقوله وينفسخ البيع، أي يجب رد مثل الثمن الأول حالاً سواء تقايلا على مثل الثمن الأول أو سكتا عن بيانه وقت الإقالة. (شرح المجلة: ۲/۷۷).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.