بیٹے کے نام بینک میں رقم رکھنے سے ہبہ کا حکم:
Question
ایک شخص نے اپنی کچھ رقم ٹیکس سے بچنے کے لیے اپنے بیٹے کے نام پر بینک میں رکھی، اب بیٹے کے نام پر ہونے کی وجہ سے بیٹا مالک سمجھا جائے گا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ بینک میں رکھنے کا مقصد تملیک الابن نہ ہو بلکہ کسی مصلحت کی وجہ سے رکھی ہے تو بیٹا مالک نہیں بنا، ہاں اگر تملیک مقصود ہو تو بیٹا مالک بن گیا ۔
ملاحظہ ہو حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اگر فی الواقع زید نے یہ مکان اپنی زوجہ کی ملک نہ کیا تھا بلکہ کسی مصلحت سے کاغذات سرکاری میں اس کا نام لکھوا دیا تھا تو یہ مکان زوجہ کی ملک نہیں ہوا اور بعد اس کی وفات کے اس کے وارثوں کا اس میں حق نہ ہوگا، بلکہ بدستور زید کی ملک میں رہے گا کاغذاتِ سرکاری میں کسی کا نام درج ہو جانے سے شرعاً اس کی ملک ثابت نہیں ہوتی جب تک کہ مالک اپنی رضا سے اس کو مالک نہ بنائے اور قبضہ نہ کرائے،
وهذا كله ظاہر من عامة کتب الفقه
۔ (امداد المفتین، جلد دوم، ص
۷۳۸
، کتاب الہبہ، دار الاشاعت) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (فتاوی عثمانی:
۳
/
٤٤۵
) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.