ماں کا بیٹے کو مکان ہبہ کرنے کا حکم:

1 min readFatwa Vol 5 #286Urdu
Vol. 5كتاب الهبةعاریت اور امانت کے احکام

Question

میری ماں نے مجھے ایک گھر دیا جو ہندوستان میں ہے جب کہ وہ زندہ اور صحت مند تھی اب میری ماں کا انتقال ہو گیا ہے تواب گھرکا کیا حکم ہے؟ میری بہن زندہ ہے کیا اس کا حصہ اس گھر میں ہے یا نہیں؟

Answer

بصورتِ مسئولہ اگر آپ کی والدہ نے آپ کو مکان ہبہ کر کے قبضہ دیا ہو یا آپ کے کسی وکیل کو قبضہ دیا ہو تو یہ گھر آپ کا ہے، اس میں کسی اور کا حصہ نہیں ۔
ملاحظہ ہو عالمگیری میں ہے:

ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغاً هكذا في المحيط، والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك والإذن تارة يثبت نصاً وصريحاً وتارة يثبت دلالة. (الفتاوى الهندية: ٤/۳۷۷، الباب الثاني فيما يجوز من الهبة ومالا يجوز).

شرح مجلہ میں ہے:

لو وهب أحد جميع أمواله في حال صحته لأحد ورثته وسلمه إياها وتوفي بعد ذلك فليس لسائر الورثة المداخلة في الهبة المذكورة، (علي أفندي)، مثلاً لو وهب من كان له عدة أولاد جميع أمواله لا حدهم في حال صحته وسلمه إياها كانت صحيحة (البزازية). (درر الحكام شرح مجلة الأحكام: ۲/٤۳۳، المادة: ۸۷۹).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.