PIL کمپنی سے منافع حاصل کرنے کا حکم:
Question
ہماری حکومت نے پرائیویٹ سیکٹر (private sector) کو ایک کمپنی کھولنے کا حکم دیا جس کے ذمہ باہر سے ایندھن درآمد کرنا ہے، چنانچہ اس وقت کی موجودہ ایندھن کمپنیوں (مثلاً: بی پی، اِنجن وغیرہ) نے ایک کمپنی شروع کی جس کا نام پی آئی ایل (PIL) رکھا، ہر ایندھن کمپنی پی آئی ایل (PIL) میں برابر حصہ دار ہے اور ان کے منتخب ممبران پی آئی ایل (PIL) کمپنی کے بارڈ آف دائرکٹر (Board of Directors) پر اپنی کمپنی کی نمائندگی کرتے ہیں، پی آئی ایل کمپنی ایندھن درآمد کر کے ملک کی ایندھن کمپنیوں کو ایندھن بیچ کر نفع کماتی ہے، چونکہ بہت بڑی رقوم میں پیسوں کی لین دین ہوتی ہے اس لیے پی آئی ایل کمپنی ٤۵ دن کا فیکس ڈپازٹ اکاؤنٹ میں پیسہ جمع کر کے اپنے بائع کو پیسہ ادا کرتی ہے نیز اس اکاؤنٹ میں پیسہ رکھ کر پی آئی ایل کمپنی سود بھی حاصل کرتی ہے، چنانچہ پی آئی ایل (PIL) کمپنی کا منافع ٦۰ فیصد سود سے حاصل ہوتا ہے اور ٤۰ فیصد ایندھن فروخت کر کے، نیز جن کمپنیوں کے پی آئی ایل کمپنی میں شیئرز ہیں ان کو بھی منافع دیا جاتا ہے ۔ اب اس کے متعلق درجِ ذیل چند سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:
۱ ۔ کیا ایندھن کمپنیاں پی آئی ایل کمپنی سے منافع وصول کر سکتی ہیں؟
۲ ۔ کیا ایندھن کمپنیوں کے لیے یہ بات درست ہے کہ ٤۰ فیصد نفع لے کر ٦۰ فیصد کسی غریب کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دے؟
۳ ۔ ایندھن کمپنیوں کے دائرکٹرز کو کام کرنے کے عوض پی آئی ایل کمپنی سے الاونس (Allowance) ملتا ہے، جب کہ یہ بات معلوم نہیں ہے کہ الاونس کا کتنا حصہ حلال سے ہے اور کتنا حرام سے، کیا دائرکٹرز کے لیے یہ الاونس لینا جائز ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ پی آئی ایل (PIL) کمپنی کی غالب آمدنی یعنی ٦۰ فیصد حرام اور سود سے ہے اور قلیل مقدار یعنی ٤۰ فیصد حلال سے ہے، اور علما نے لکھا ہے کہ جس کمپنی کی غالب کمائی حرام ہو اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں الا یہ کہ نفع کی اتنی مقدار یعنی ٦۰ فیصد صدقہ کر دی جائے، پھر بھی شیرز ہولڈر کے لیے لازم ہے کہ سالانہ اجلاس میں سود کے خلاف آواز اُٹھائے اور اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کرے، نیز پی آئی ایل کمپنی کو پابند کیا جائے کہ سود کے علاوہ کسی اور اکاؤنٹ میں اپنی رقوم جمع کرائے تاکہ سود سے بچیں، اگر غیر سودی اکاؤنٹ میں جمع کراتے ہیں تو تمام منافع حلال ہوں گے ۔
۳ ۔ کسی مسلمان دائرکٹر کے لیے جائز نہیں ہے کہ سودی کمائی سے الاونس حاصل کرے، ہاں اگر معلوم ہو جائے کہ کتنا فیصد سود ہے تو پھر اتنی مقدار صدقہ کر دے تو باقی حلال ہوگا، تاہم اس قسم کے معاملہ سے اجتناب اولی ہے، کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ ہر قسم کے سودی معاملہ سے اجتناب کر دے ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله ﷺ، آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال: وهم سواء. (صحيح مسلم: ۲/۲۷).
فتاوی ہندیہ میں مرقوم ہے:
غلب علي ظنه أن أكثر بياعات أهل السوق لا تخلو عن الفساد فإن كان الغالب هو الحرام يتنزه عن شرائه ولكن مع هذا لو اشتراه يطيب له المشتري شراء فاسداً إذا كان عقد المشتري الأخير صحيحاً كذا في القنية. (الفتاوى الهندية: ۵/۳٦٤).
قال الإمام الحموي: ووجهه أن كون الغالب في السوق الحرام لا يستلزم كون المشتري حراماً، لجواز كونه من الحلال المغلوب، والأصل الحل. (غمز عيون البصائر شرح الأشباه والنظائر: ۱/۳۰۹).
مفتی تقی صاحب رقم طراز ہیں: شیئرز کی خرید و فروخت کے لیے چار شرطیں ہیں:
۱ ۔ اصل کاروبار حلال ہو ۔
۲ ۔ اگر کمپنی کچھ سودی لین دین کرتی ہو تو کمپنی کی سالانہ میٹنگ میں آواز اُٹھائی جائے ۔
۳ ۔ جب منافع تقسیم ہو اس وقت کا نفع جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہو اس کو صدقہ کر دے ۔ (فقہی مقالات: ۱/۱۵۱) ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں مرقوم ہے:
آج جنتی کمپنیاں اس وقت قائم ہیں، ان میں سے اکثر کمپنیاں ایسی ہیں کہ ان کا بنیادی کاروبار تو حرام نہیں ہے، مثلاً: ٹیکسٹائل کمپنیاں ہیں، آٹو موبائل کمپنیاں ہیں، وغیرہ ۔ لیکن شاید ہی کوئی کمپنی ایسی ہو گی جو کسی نہ کسی طرح سودی کاروبار میں ملوث نہ ہو، یہ کمپنیاں دو طریقے سے سودی کاروبار میں ملوث ہوتی ہیں:
پہلا طریقہ یہ ہے کہ یہ کمپنیاں فنڈ بڑھانے کے لیے بینک سے سود پر قرض لیتی ہیں، اور اس قرض سے اپنا کام چلاتی ہیں ۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کے پاس جو زائد اور فاضل رقم ہوتی ہے، وہ سودی اکاؤنٹ میں رکھواتی ہیں، اور اس پر وہ بینک سے سود حاصل کرتی ہیں، وہ سود بھی ان کی آمدنی کا ایک حصہ ہوتا ہے ۔
ایسی کمپنیوں کے بارے میں موجودہ دور کے علماء کرام کی رائیں مختلف ہیں ۔ علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ کمپنیاں حرام کاموں میں ملوث ہیں، لہٰذا ایک مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اس کمپنی کے ساتھ حرام کام میں حصہ دار بنے
علماء کرام کی دوسری جماعت کا یہ کہنا ہے کہ اگر چہ ان کمپنیوں میں یہ خرابی پائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود اگر کسی کمپنی کا بنیادی کاروبار مجموعی طور پر حلال ہے تو پھر دو شرطوں کے ساتھ اس کمپنی کے شیئرز لینے کی گنجائش ہے ۔ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله اور میرے والد ماجد حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمه الله کا یہی موقف ہے، اور ان دونوں حضرات کی اتباع میں، میں بھی اسی موقف کو درست سمجھتا ہوں ۔ وہ دو شرطیں یہ ہیں:
۱ ۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ شیئرز ہولڈر اس کمپنی کے اندر سودی کاروبار کے خلاف آواز ضرور اُٹھائے، اگر چہ اس کی آواز مسترد ہو جائے اور میرے نزدیک آواز اُٹھانے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ کمپنی کی جو سالانہ میٹنگ ہوتی ہے، اس میں یہ آواز اُٹھائے کہ ہم سودی لین دین کو درست نہیں سمجھتے، سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں، اس لیے اس کو بند کیا جائے ۔ اب ظاہر ہے کہ موجودہ حالات میں یہ آواز نقار خانے میں طوطی کی آواز ہوگی، اور یقیناً اس کی یہ آواز مسترد ہوگی، لیکن جب وہ یہ آواز اُٹھائے تو حضرت تھانوی رحمه الله کے قول کے مطابق ایسی صورت میں وہ انسان اپنی ذمہ داری پوری ادا کر دیتا ہے ۔
دوسری شرط یہ ہے کہ جب منافع تقسیم ہو، تو وہ شخص انکم اسٹیٹ منٹ کے ذریعہ یہ معلوم کرے کہ آمدنی کا کتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے ۔ مثلاً فرض کیجیے کہ اس کمپنی کو کل آمدنی کا ۵ فیصد حصہ سودی ڈپازٹ میں رقم رکھوانے سے حاصل ہوا ہے، تو اب وہ شخص اپنے نفع کا پانچ فیصد حصہ صدقہ کر دے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل، جلدِ سوم، ص ۲۱ ۔ ۲۳) ۔
امداد الاحکام میں مذکور ہے:
اگر ملازم کو یہ معلوم ہو جائے کہ یہ تنخواہ جو مجھے دی گئی ہے یہ بیع فاسد کے ثمن سے دی گئی ہے یا سود کی آمدنی سے، جب تو اس کا لینا درست نہیں، اور اگر سب مخلوط ہو اور اس کو معلوم نہیں کہ یہ تنخواہ بیع صحیح کی قیمت سے ہے یا فاسد کی تو وہ تنخواہ حلال ہے ۔ (امداد الاحکام: ۳/۵۳۳) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا: ۵/۲۲٤، ط: زمزم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.