مسابقہ میں شرکت اور حرام کاروباری کمپنی کی طرف سے انعام حاصل کرنے کا حکم:
Question
کیا درجِ ذیل شرائط کے ساتھ مسلمان گھوڑ دوڑ میں حصہ لے سکتے ہیں؟
۱ ۔ اپنا ذاتی گھوڑا خریدنا ہے ۔
۲ ۔ (NHA) یعنی گھوڑ دوڑ کی آتھورٹی میں جا کر گھوڑا رجسٹر کرنا ہے ۔
۳ ۔ گھوڑے کو مشق کرانے کے لیے ایک مشاق رکھنا ہے ۔
٤ ۔ مشاق گھوڑے کو مسابقہ کے لیے منتخب کرے گا کہ کس درجہ کی دوڑ میں جا سکتا ہے، پھر داخلہ فیس ۹۰ رینڈ سے ٤۰ ہزار رینڈ تک ہوتی ہے ۔
۵ ۔ اگر گھوڑا ایک سے پانچ نمبر میں کامیاب ہوتا ہے تو انعام دیا جاتا ہے، یہ انعام کبھی بطورِ جوا مقرر ہوتا ہے اور کبھی کسی ثالث کمپنی کی طرف سے ہوتا ہے ۔ اب دریافت طلب امر حسبِ ذیل ہیں:
کیا بلا شرط لگائے فقط داخلہ فیس ادا کر کے گھوڑ دوڑ میں شرکت کی اجازت ہے یا نہیں؟ اگر کوئی مسلمان شرکت کر کے کامیاب ہو تو کمپنی سے انعام حاصل کرنا درست ہے یا نہیں جب کہ آج کل اکثر غیر مسلم کمپنیاں حرام کاروبار میں ملوث ہیں ۔ بینوا بالبرہان توجروا عند الرحمن ۔
Answer
بصورتِ مسئولہ گھوڑ دوڑ میں داخلہ فیس دے کر حصہ لینا اور کامیاب ہونے پر ثالث کمپنی کی طرف سے انعام حاصل کرنا جائز ہے، کیوں کہ داخلہ فیس کے بدلہ میں ان کی تیار کردہ جگہ میں گھوڑا دوڑانے کا حق حاصل ہو جاتا ہے، نیز اس کے عوض مقابلہ دیکھنے اور وہاں بیٹھنے وغیرہ کی سہولیات بھی مل جاتی ہیں، لہٰذا جو انعام ملے گا وہ داخلہ فیس کے عوض نہیں سمجھا جائے گا، پھر یہ انعام مقابلہ کرنے والوں کی طرف سے نہیں دیا جاتا بلکہ ثالث کی طرف سے ہے جس نے مسابقہ میں حصہ نہیں لیا، ہاں اگر مسابقہ کرنے والوں نے آپس میں شرط لگائی ہو تو یہ انعام جوا میں داخل ہو کر نا جائز ہوگا ۔
غیر مسلم کمپنیوں کی طرف سے انعام حاصل کرنا جائز ہے، وجہ یہ ہے کہ غیر مسلم سودی لین دین کر کے، بیع باطل و فاسد وغیرہ یا شراب، خنزیر بیچ کر جو بھی مال حاصل کرتے ہیں وہ ان کی ملک میں داخل ہو جاتا ہے، اور مسلمان ان سے بطورِ ہدیہ وہ مال قبول کر سکتے ہیں، ہاں اگر چوری، غصب اور ڈاکہ زانی وغیرہ سے حاصل کریں تو اس کا لینا جائز نہیں اور کمپنیاں ایسا نہیں کرتیں ۔
البتہ اگر یہ انعام مسلمان کی طرف سے دیا جائے اور اس کا اکثر و بیشتر کاروبار حرام ہو تو ان سے وہ مال انعام میں لینا جائز نہیں، اگر انعام حاصل کیا، تو اگر مالک معلوم ہو تو مالک کو لوٹانا ضروری ہے ورنہ بلا نیتِ ثواب صدقہ کر دیا جائے ۔ اور اگر مسلم کمپنی کا اکثر و بیشتر کاروبار حلال ہو تو پھر لینا اور استعمال کرنا جائز ہے ۔
دلائل اور حوالہ جات ترتیب وار درجِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
قال في البحر الرائق: والمسابقة بالفرس والإبل والأرجل والرمي جائزة، لقوله: لا سبق إلا في خف أو نعل أو حافر وأذن رسول الله ﷺ لسلمة بن الأكوع أن يسابق رجلاً كان لا يسابق أبداً فسبقه سلمة بن الأكوع وقال الزهري: كانت المسابقة بين أصحاب رسول الله ﷺ بالخيل والركاب والأرجل ولأن الغزاة يحتاجون إلى رياضة خيلهم وأنفسهم، وحرم شرط الجعل من الجانبين لا من أحد الجانبين
ولو قال واحد من الناس لجماعة من الفرسان أو للاثنين فمن سبق فله كذا من مال نفسه أو قال للرماة من أصحاب الهدف فله كذا جاز لأنه من باب التنفيل فإذا كان للتنفيل من بيت المال كالسلب ونحوه يجوز فما ظنك بخالص ماله. (تكملة البحر الرائق: ۸/۵۵۵، مسائل شتي، ط: دار المعرفة).
وقال في البدائع: وكذلك ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض على استعداد أسباب الجهاد خصوصاً من السلطان فكانت ملحقة بأسباب الجهاد. (بدائع الصنائع: ٦/۲۰٦، سعيد).
(وكذا في فتاوى الشامي: ٦/٤٠٣، سعيد، والفتاوى الهندية: ٦/٤٤٥، وتبيين الحقائق: ٦/٢٢٧، ط: إمداديه، ملتان).
کفار سے مالِ حرام ہدیہ و انعام میں قبول کرنا جائز اور درست ہے ۔ ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
وإذا باع المسلم خمراً وأخذ ثمنها، وعليه دين، فإنه يكره لصاحب الدين أن يأخذه وإن كان البائع نصرانياً فلا بأس به. (الهداية: ٤/٤٧٠).
علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:
وأما الخمر والخنزير فقد قيل: الحرمة بخطاب خاص في حق المسلمين وهو قوله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر﴾ [المائدة: ۹۰] إلى قوله تعالى: ﴿فهل أنتم منتهون﴾ [المائدة: ۹۱]، وقيل: ليس من ضرورة الحرمة سقوط المالية والتقوم فالمال قد يكون حراماً وقد يكون حلالاً وإنما تنبني المالية على التمول وهم يتمولون ذلك. (المبسوط: ٥/٣٩، إدارة القرآن).
منتخباتِ نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
غیر مسلم آپس میں سودی کاروبار اور سودی لین دین بھی کرتے ہیں، بہت سی بیع باطل و فاسد بھی کرتے ہیں، شراب بھی بناتے اور بیچتے ہیں، اور اس کی قیمت لیتے ہیں، خنزیر بھی بیچ کر اس کی قیمت لیتے ہیں، پھر مسلمانوں کو یہ پیسے مزدوری میں انعام وغیرہ میں دیتے ہیں، اور ان سب پیسوں کا حرام ہونا معلوم ہونے کے با وجود اس پیسوں کا لینا اس وقت تک شرعاً جائز و غیر مکروہ شمار ہوتا ہے جب تک کہ یہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ چیز جس کو فروخت کر رہا ہے یہ بعینہٖ وہی چیز ہے جس کو چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر لایا ہے یا جو قیمت دے رہا ہے یہ بعینہٖ وہی روپیہ ہے جس کو چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر مثلاً لایا ہے، (یعنی بعینہٖ چوری، ڈاکہ وغیرہ کا ہو تو جائز نہیں) غرض ان سب کا لے لینا اور استعمال کر لینا سب درست رہتا ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمِ جواز کیوں ہے تو اس کی وجوہ متعدد ہیں، متعدد شرعی ضوابط اس کی بنیاد ہیں، مثلاً: (الف) تبدیل ملک سے حکماً تبدیل عین ہو جاتا ہے یا (ب) خلط و استہلاک کا ضابطہ جو مسلَّم ہے جس محکمہ کے اصحابِ حل و عقد خالص غیر مسلم ہوں یا مشترک ہوتے ہوں، اقتدارِ اعلی غیر مسلم کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنے طور پر سودی کاروبار کر کے نفع حاصل کر کے، کوئی رقم حاصل کر لے، اور بطورِ تبرع کسی مسلمان ملازم کو دیں تو اس کا لینا جائز رہے گا، اور بمد انعام داخل ہو کر طیب و حلال شمار ہوگا. (منتخباتِ نظام الفتاوی، ص ٤٦٨، ط: اصلاحی کتب خانہ) ۔ مزید ملاحظہ ہو : (امداد الاحکام: ٤/٤٩٠) ۔
مسلمان سے حرام اور سودی مال کا ہدیہ قبول کرنا جائز نہیں ۔ ملاحظہ ہو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
لو رأي المكاس مثلاً يأخذ من أحد شيئاً من المكس ثم يعطيه آخر ثم يأخذ من ذلك الآخر آخر فهو حرام. (فتاوى الشامي: ٥/٩٨، مطلب الحرمة تتعدد، سعيد).
علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں:
ويردونها على أربابها إن عرفوهم وإلا تصدقوا بها، لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه. (فتاوى الشامي: ٦/٣٨٥، كتاب الكراهية، فصل في البيع، سعيد).
عالمگیری میں ہے:
ولا يجوز قبول هدية أمراء الجور لأن الغالب في مالهم الحرمة إلا إذا علم أن أكثر ماله حلال بأن كان صاحب تجارة أو زرع فلا بأس به لأن أموال الناس لا تخلو عن قليل حرام فالمعتبر الغالب، وكذا أكل طعامهم كذا في الاختيار شرح المختار. (الفتاوى الهندية: ٥/٣٤٢).
ہاں اگر یقینی طور پر معلوم نہیں کہ یہ مالِ حرام ہے یا مخلوط ہے اور غالب حلال کمائی کا ہے تو پھر ہدیہ قبول کرنے کی گنجائش ہو گی ۔ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله فقہی عبارات نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں:
ان نصوص سے معلوم ہوا کہ جس شخص کی آمدنی حلال اور حرام سے مخلوط ہو اس میں غالب کا اعتبار ہے، غالب حلال ہے تو اس کا ہدیہ و ضیافت قبول کرنا جائز ہے لیکن اگر خاص ہدیہ یا طعام کی بابت یقیناً معلوم ہو جائے کہ اس میں کچھ حرام ملا ہوا ہے تو اس کا قبول کرنا حرام ہے اور کھانا بھی حرام مگر امام ابو حنیفہ رحمه الله کے نزدیک خلط و استہلاک ہے اس لیے ان کے قول پر گنجائش ہے جیسا کہ بعض روایات سے ظاہر ہوگا اور اگر غالب آمدنی حرام ہے تو ہدیہ و ضیافت قبول کرنا حرام ہے ہاں اگر اس طعام و ہدیہ کی بابت اطلاع کر دے کہ یہ حلال ہے تو جائز ہے. (امداد الاحکام: ٤/٣٩٩) ۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (شامی: ٥/٩٨، و امداد الاحکام: ٤/٣٩٧ ۔ ٤٠٠ ۔ و فتاوی عثمانی: ٣/٣٩٥) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.