کریکٹ میں کامیابی پر کمپنی کی طرف سے انعام حاصل کرنے کا حکم:
Question
بعض مسلمان کریکٹ کھیلتے ہیں، اس کی وجہ سے انہیں ماہانہ تنخواہ ملتی ہے، پھر جب دوسرے ممالک کے ساتھ میچ میں کامیاب ہوتے ہیں تو انہیں بعض کمپنیاں انعام دیتی ہیں تو کیا اس انعام کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ عموماً کمپنیاں سودی کاروبار میں ملوث ہوتی ہیں ۔ بینوا توجروا ۔
Answer
غیر مسلم کمپنیاں جو سود وغیرہ میں ملوث ہوتی ہیں، ان کی طرف سے مسلمان کریکیٹر کو انعام ملے تو اس کا لینا اور استعمال کرنا درست ہے، کیوں کہ غیر مسلم سود وغیرہ مال کے مالک بن جاتے ہیں، نیز یہ انعام کمپنی یعنی ثالث کی طرف سے ہے اس وجہ سے وہ قمار سے بھی نکل جائے گا اور اس کا لینا جائز اور درست ہوگا ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ولأبي حنيفة رحمه الله أن أهل الذمة لا يلتزمون أحكامنا في الديانات وفيما يعتقدون خلافه في المعاملات
الخ. (الهداية: ۲/۳۳۸).
وفيه أيضاً: وإذا باع المسلم خمراً وأخذ ثمنها، وعليه دين، فإنه يكره لصاحب الدين أن يأخذه، وإن كان البائع نصرانياً فلا بأس به. (الهداية: ٤/٤۷۰).
علامہ سرخسی رحمه الله مبسوط میں فرماتے ہیں:
وأما الخمر والخنزير فقد قيل: الحرمة بخطاب خاص في حق المسلمين وهو قوله تعالى: ﴿يا أيها الذين آمنوا إنما الخمر والميسر﴾ [المائدة: ۹۰] إلى قوله تعالى: ﴿فهل أنتم منتهون﴾ [المائدة: ۹۱]، وقيل: ليس من ضرورة الحرمة سقوط المالية والتقوم فالمال قد يكون حراماً وقد يكون حلالاً وإنما تنبني المالية على التمول وهم يتمولون ذلك. (المبسوط: ۵/۳۹، إدارة القرآن).
منتخباتِ نظام الفتاوی میں مرقوم ہے:
غیر مسلم آپس میں سودی کاروبار اور سودی لین دین بھی کرتے ہیں، بہت سی بیع باطل و فاسد بھی کرتے ہیں، شراب بھی بناتے اور بیچتے ہیں، اور اس کی قیمت لیتے ہیں، خنزیر بھی بیچ کر اس کی قیمت لیتے ہیں، پھر مسلمانوں کو یہ پیسے مزدوری میں انعام وغیرہ میں دیتے ہیں، اور ان سب پیسوں کا حرام ہونا معلوم ہونے کے با وجود اس پیسوں کا لینا اس وقت تک شرعاً جائز و غیر مکروہ شمار ہوتا ہے جب تک کہ یہ یقین نہیں ہوتا کہ یہ چیز جس کو فروخت کر رہا ہے یہ بعینہٖ وہی چیز ہے جس کو چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر لایا ہے یا جو قیمت دے رہا ہے یہ بعینہٖ وہی روپیہ ہے جس کو چرا کر یا ڈاکہ ڈال کر مثلاً لایا ہے، (یعنی بعینہٖ چوری، ڈاکہ وغیرہ کا ہو تو جائز نہیں) غرض ان سب کا لے لینا اور استعمال کر لینا سب درست رہتا ہے، اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکمِ جواز کیوں ہے تو اس کی وجوہ متعدد ہیں، متعدد شرعی ضوابط اس کی بنیاد ہیں، مثلاً: (الف) تبدیل ملک سے حکماً تبدیل عین ہو جاتا ہے یا (ب) خلط و استہلاک کا ضابطہ جو مسلَّم ہے جس محکمہ کے اصحابِ حل و عقد خالص غیر مسلم ہوں یا مشترک ہوتے ہوں، اقتدارِ اعلی غیر مسلم کے ہاتھ میں ہو اور وہ اپنے طور پر سودی کاروبار کر کے نفع حاصل کر کے، کوئی رقم حاصل کر لے، اور بطورِ تبرع کسی مسلمان ملازم کو دیں تو اس کا لینا جائز رہے گا، اور بمد انعام داخل ہو کر طیب و حلال شمار ہوگا ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی، ص ٤٦۸، ط: اصلاحی کتب خانہ)۔ مزید ملاحظہ ہو: (امداد الاحکام: ٤/٤۹۰)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.