کمپنی کی جانب سے انعام کا حکم:
Question
بعض کمپنیاں اپنی مصنوعات کی ترقی کے لیے دکانداروں کو کچھ انعام دیتی ہیں، مثلاً کمپنی کی جانب سے دکاندار کو سال کے مخصوص ایام میں یہ اطلاع کی جاتی ہے کہ ہماری کمپنی کا جو سامان آپ فروخت کریں اس کے بل کو محفوظ رکھنا اور ہمیں بتلانا ہم ہر چیز پر ایک رقم بطورِ انعام دیں گے ۔
اب یہ انعامی رقم کس کو ملے گی دکان کے مالکان کا کہنا ہے کہ یہ رقم ہمیں ملنی چاہیے، کیوں کہ دکان میں ہمارا سامان فروخت ہوتا ہے، اور عملہ کو ان کی تنخواہ ملتی ہے، لیکن عملہ کی جانب سے یہ مطالبہ ہے کہ یہ انعامی رقم ہمیں ملنی چاہیے کیوں کہ کمپنی نے خود کہا ہے کہ ہم عملہ کے لیے دیتے ہیں ۔
اور اس کی دلیل میں کمپنی کی جانب سے ایک خط بھی پیش کیا جس میں مرقوم ہے کہ یہ انعام آپ کے یہاں کام کرنے والوں کو دیا جائے گا ۔ اب آپ حکمِ شریعت سے مطلع فرما دیں کہ اس انعام کو لینے کا حقدار کون ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
عام عرف اور دستور کے موافق کمپنی یا بائع کی جانب سے جو انعام یا سامان کی خریداری میں رعایت ملتی ہے وہ خریدار یعنی مالکِ دکان کو ملتی ہے، کیوں کہ وہ سامان کی خریداری کی وجہ سے دیا جاتا ہے ۔
امداد الاحکام میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں کہ خریدار کو سال تمام پر جو کمیشن ہر سیکڑہ پر دیا جاتا ہے وہ بائع کی طرف سے تبرع ہے (امداد الاحکام: ۳/۳۸٦) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
اگر خریدی ہوئی چیزوں کے ساتھ ہر خریدار کو انعام کے طور پر مزید کوئی چیز دی جاتی ہے، تو اس کے جائز ہونے میں کوئی شبہ نہیں، یہ فروخت کرنے والے کی طرف سے ایک طرح کا اضافہ ہے، اور فقہاء نے مبیع میں اضافہ کو جائز قرار دیا ہے ۔ (کتاب الفتاوی: ۵/۲٤۹، بعنوان "خریدار کو انعام" ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۱۲٦) ۔
لیکن صورتِ مسئولہ میں خود کمپنی نے کئی مرتبہ اس بات کی وضاحت کر دی ہے کہ یہ انعام آپ کے عملہ کے لیے ہے ۔ لہذا شرعاً اس انعام کے حقدار دکان کے کام کرنے والے ہوں گے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.