ثالث کی طرف سے انعام حاصل کرنے کا حکم:
Question
ایک اسکول میں فنکشن ہو رہا ہے اس میں ہال میں بیٹھنے بلکہ اس اسکول کی مدد کے لیے ۵۰ رینڈ داخلہ فیس ہے، اس اسکول کے مالک کی طرف سے نہیں بلکہ کسی ثالث کی طرف سے قرعہ اندازی کے ذریعہ ایک یا چند انعامات ملتے ہیں مثلاً موبائل فون ملتا ہے اگر فیس جمع کرانے والے کو یہ انعام مل جائے تو اس کا لینا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ فیس جمع کرانے والے کو اگر یہ انعام مل جائے تو اس کا لینا دو وجہ سے جائز اور درست ہے ۔
(۱) یہ انعام ۵۰ رینڈ فیس کے بدلے میں نہیں ملتا اس لیے کہ ۵۰ رینڈ تو داخلہ کی فیس ہے اور بالفاظِ دیگر اسکول کی مدد کے لیے ہوتے ہیں، انعام کا بدل نہیں ہوتے اس وجہ سے جائز اور درست ہے ۔
(۲) جواز کی دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ انعام ثالث کی طرف سے ہے نہ کہ اس اسکول کے مالک کی طرف سے، اور ثالث کی طرف سے انعام لینا جائز اور درست ہے ۔
ملاحظہ ہو بدائع الصنائع میں ہے:
وكذلك (أي لا بأس به) ما يفعله السلاطين وهو أن يقول السلطان لرجلين: من سبق منكما فله كذا فهو جائز لما بينا أن ذلك من باب التحريض على استعداد أسباب الجهاد خصوصاً من السلطان. (بدائع الصنائع: ٦/۲۰٦، كتاب السباق، سعيد. وفتاوى الشامي: ۵/۳۵٤، سعيد).
اس عبارت میں بادشاہ ثالث کے درجہ میں ہے تو جس طرح بادشاہ کا انعام دینا جائز ہے اسی طرح صورتِ مسئولہ میں ثالث کا انعام دینا بھی جائز ہوگا ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
مشروط معاوضہ گھڑ دوڑ کی جائز صورت ایک یہ ہے کہ فریقین جو اپنے اپنے گھوڑے دوڑا کر بازی لگا رہے ہیں آپس میں کسی کو کسی سے کچھ لینا دینا نہ ہو، بلکہ حکومت وقت یا کسی تیسرے شخص یا جماعت کی طرف سے بطورِ انعام کوئی رقم آگے بڑھنے والے کے لیے مقرر ہو تو یہ جائز اور درست ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: جلد دوم، ۷۱) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جواہر الفقہ: ۲/۳۵٦) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.