تجارت کو فروغ دینے کے لیے قرعہ اندازی کے ذریعہ انعام کا حکم:
Question
اکثر ممالک میں بڑی بڑی دکانوں میں یہ طریقہ رائج ہے کہ زیادہ سے زیادہ چیزوں کو فروخت کرنے اور اپنی تجارت کو عروج پر لانے کے لئے انعامات کی قرعہ اندازی کرتے ہیں اور جس کے نام کا قرعہ نکلتا ہے اس کو نقد یا جنس کی شکل میں انعام ملتا ہے ۔ خریداری میں خریدار پوری قیمت ادا کرتا ہے لیکن انعام الگ ہوتا ہے جو سیکڑوں خریداروں میں سے چند کو ملتا ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسا انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں جب کہ بعض مفتی حضرات فرماتے ہیں کہ ایسا انعام سود اور قمار پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے؟
Answer
بصورت مسئولہ ایسا انعام مقرر کرنا اور قرعہ اندازی میں نام نکلنے پر اس کا حاصل کرنا جائز اور درست ہے ۔ نہ یہ سود میں داخل ہے اور نہ یہ قمار اور جوا ہے ۔ سود اس وجہ سے نہیں ہے کہ فقہاء کے ہاں سود اس زیادتی کو کہتے ہیں جو کسی عوض کے بدلہ میں نہ ہو اور وہ زیادتی عقد میں مشروط ہو ۔
ملاحظہ فرمائیں صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه. (الهداية: ۳/ ۷۸).
اور اس کو قمار اس وجہ سے نہیں کہہ سکتے ہیں کہ قمار کی تعریف فقہاء نے یہ فرمائی ہے کہ جانبین سے مال کی شرط لگائی جائے ۔
تعليق الملك بالخطر من الجانبين.
البتہ درجِ ذیل شرائط کو ملحوظ رکھا جائے:
(۱) بائع ثمن مثل پر سامان فروخت کر رہا ہو ۔ یعنی جس قیمت پر عام دکانوں میں سامان فروخت ہوتا ہے وہی قیمت ہو ۔ اگر بائع نے انعام کی وجہ سے قیمت میں اضافہ کیا ہے تو پھر یہ جائز اور درست نہیں ہوگا اور یہ معاملہ قمار میں داخل ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
اگر خریدی ہوئی اشیاء انعامی کوپن کی وجہ سے بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جا رہی ہو جب کہ وہی چیز انعامی کوپن کے بغیر کم قیمت پر مل رہی ہو تو اس صورت میں متوقع انعامات کے حاصل کر نے کی جستجو کرنا ناجائز اور حرام ہے ۔ اس سے بچنا ضروری ہے کیوں کہ ایسی صورت میں یہ قمار میں داخل ہو جائے گا جو شرعاً حرام ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام ج: ۱ / ۱۲٦، واسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤ / ۷٦) ۔
(۲) بعض حضرات نے یہ شرط بھی لگائی ہے کہ مشتری انعام حاصل کرنے کی غرض سے نہ جائے ۔ اصل مقصد خریداری ہو پھر انعام مل گیا تو یہ جائز ہوگا اور اگر انعام ہی کی غرض سے گیا تو یہ قمار ہے ۔ حضرت مفتی شفیع صاحب رحمه الله جواہر الفقہ میں فرماتے ہیں:
لیکن اب مدار نیت پر رہ جاتا ہے جو شخص موہوم انعام کی غرض سے یہ ٹکٹ خریدتا ہے وہ ایک گنا قمار کا ارتکاب کر رہا ہے اور جس کے پیش نظر صرف نمائش میں جانا ہو انعام کی ہوس پیش نظر نہیں پھر اتفاقا انعام بھی مل گیا وہ قواعد کی رو سے قمار کے حکم سے نکل گیا ۔ (جواہر الفقہ: ٤ / ۵٦٦) ۔
مولانا خالد سیف اللہ صاحب فرماتے ہیں:
اگر خریدنے والے کا مقصد سامان خریدنا تھا اس کے ساتھ انعامی کوپن مل گیا اور اتفاق سے کوپن میں اس کا نام نکل آیا تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور اگر اصل مقصود ہی انعامی کوپن حاصل کرنا تھا اور اسی مقصد کے لئے سامان خریدا تھا تو یہ صورت جائز نہ ہو گی بلکہ یہ جوا کے حکم میں ہوگا ۔ (کتاب الفتاوی: ۵ / ۲٤۹) ۔
البتہ مفتی احسان اللہ شائق صاحب نے اس صورت کو بھی جائز قرار دیا ہے ۔ ملاحظہ ہو: (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱ / ۱۲٦) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ عدمِ جواز والوں کا قول مبنی بر احتیاط ہے اور جواز والوں کا قول رخصت پر محمول ہوگا ۔
انعامی کوپن حاصل کرنا نہ سود ہے اور نہ قمار میں داخل ہے، اس کے چند دلائل اور نظائر حسبِ ذیل ملاحظہ فرمائیں:
حضرت مفتی نظام الدین صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
جب یہ حقیقت ہے کہ چاہے اس کے نمبرات نکلیں یا نہ نکلیں اس کا جمع کیا ہوا روپیہ پورا پورا ملے گا اور جب چاہے واپس لے سکتے ہیں اور اس روپیہ کے ضائع ہونے کا ڈر نہیں ہے تو اس معاملہ میں قمار تو نہ ہوا، رہ گیا نمبرات نکل آنے پر جو زائد رقم ملے گی اس کا شرعی حکم کہ وہ رقم سود میں شمار ہو گی یا نہیں؟ جب روپیہ جمع کرتے وقت یہ معاملہ ہوتا ہے کہ اس پر واپسی کے وقت کچھ زائد رقم نہیں ملے گی اور معاملہ غیر سودی ہوگا اور یہ معاملہ سودی نہ ہوگا ۔ پھر جب اس زیادتی کے ملنے کا یقین بھی نہیں ہوتا اور نہ اس کا مطالبہ ہی ہوتا ہے اور نہ سب کو وہ زیادتی مل ہی جاتی ہے بلکہ محکمہ محض اپنی صواب دید اور محض اپنے ضابطہ کے مطابق کچھ نمبرات کے لئے زائد رقم دینے کا اعلان کرتا ہے اور جن کا نام نکلتا ہے صرف ان کو دے دیتا ہے اور کسی شخص کو اس زائد رقم کے لئے مطالبہ کرنے کا حق بھی نہیں ہوتا ہے اس لئے اب اگر کسی کے نمبرات نکل آنے پر کچھ زائد رقم مل جانے سے چاہے ایک پونڈ پر سو پونڈ زیادتی کا حساب کیوں نہ آ جائے اس زیادتی کو ربا شرعاً نہ کہیں گے
ان تمام بحثوں کے بعد یہ بات منقح ہو کر سامنے آ گئی کہ یہ زیادتی منجانب محکمہ تبرع ہے اور تبرع جائز ہوتا ہے ممنوع نہیں، لہذا یہ زیادتی لینا جائز ہو گا ۔ ہاں اگر کوئی تقوی اختیار کرے تو یہ الگ اور اولی بات ہو گی ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱ / ۱۹٤) ۔
حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمه الله فرماتے ہیں:
اس تملیک کو مطلق بھی رکھا جا سکتا ہے اور کسی شرط کے ساتھ مشروط بھی کیا جا سکتا ہے، مثلاً میرے مرنے کے بعد میرا فلاں مکان تمہارے لئے وصیت ہے یہ مطلق کی مثال ہے اور یہ کہنا کہ اگر تم اگلے سال حج کر لو تو میں اپنے مرنے کے بعد فلاں مکان کی تمہارے لئے وصیت یہ مطلق کی مثال ہے اور یہ کہنا کہ اگر تم اگلے سال حج کر لو تو میں اپنے مرنے کے بعد فلاں مکان کی تمہارے لئے وصیت کرتا ہو ں یہ مشروط کی مثال ہے پس اگر اس نے حج کر لیا تو وصیت کر نے والے کی موت کے بعد جس چیز کی وصیت کی گئی اس کا وہ مالک ہو جائے گا ۔ (مجموعہ قوانین اسلامی ص ۲٤۸) ۔ (اس وصیت کی صورت میں بھی ایک جانب سے تعلیق الملک علی الخطر ہے ۔ پھر بھی اس کو جائز قرار دیا ہے ۔ کیوں کہ دونوں جانب سے مال مشروط نہیں ہے، خلاصہ یہ ہے کہ قمار اس وقت ہے جب جانبین سے شرط پائی جائے) ۔
حضرت مفتی تقی صاحب فرماتے ہیں:
شرط صرف یہ ہے کہ جو چیز بیچی جا رہی ہے وہ ثمن مثل پر بیچی جائے اب وہ بائع اگر قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی کو انعام دے گا تو یہ تبرع ہے جو جائز ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤ /۷۷) ۔
مفتی اعجاز احمد صمدانی صاحب فرماتے ہیں:
اس چوتھی شرط سے ان بہت سی انعامی اسکیموں کا حکم معلوم ہو جاتا ہے جو تجارتی کمپنیاں اپنی مصنوعات کو فروغ دینے کے لئے جاری کرتی ہیں ۔ ان اسکیموں کے اندر اگر تجارتی کمپنیاں اپنی مصنوعات کی وہی بازاری قیمت کا مطالبہ کرتی ہے جو انعامی اسکیم نہ ہونے کی صورت میں بھی طلب کی جاتی ہو تو وہ صورت قمار میں داخل نہیں ہے کیوں کہ اس صورت میں خریدار دی ہوئی رقم کا پورا معاوضہ حاصل کر چکا ہے اب اگر اس کا انعام نہ بھی نکلے تو اس کا کوئی نقصان نہیں اور اگر کچھ انعام نکل آئے تو یہ کمپنی کی طرف سے محض انعام ہو گا جس کا لینا جائز ہو گا ۔ (مالی معاملات پر غرر کے اثرات، ص: ۳۸۷) ۔
نیز قرعہ اندازی بھی جائز اور درست ہے ۔ کیوں کہ قرعہ اندازی ہراس موقع پر جائز ہے جہاں کسی واجب حق کا ابطال لازم نہ آئے بلکہ اس کے ذریعہ یا تو حقوق کی تمییز وافر از مقصود ہو یا ابتدائی تبرع اور احسان کا معاملہ ہو اور اس میں قرعہ اندازی تطییبِ قلوب کی خاطر کی جائے ۔ اور بصورتِ مسئولہ انعام میں ابتدائی تبرع ہے کسی کا کوئی واجب حق نہیں ہے ۔
ملاحظہ ہو تکملہ فتح القدیر میں ہے:
قوله: (والقرعة لتطييب القلوب إزاحة الميل) قال الشراح: هذا جواب الاستحسان، والقياس يأباها
ولكنا تركنا القياس هاهنا بالسنة والتعامل الظاهر من لدن رسول الله ﷺ إلى يومنا هذا من غير نكير منكر
ألا يري أن يونس عليه السلام في مثل هذا استعمل القرعة مع أصحاب السفينة
وكذلك زكريا عليه السلام استعمل القرعة مع الأحبار في ضم مريم إلى نفسه
وكان رسول الله ﷺ يقرع بين نسائه إذا أراد السفر تطييباً لقلوبهن. (تكملة فتح القدير: ۹/٤٤۰، دار الفكر، وكذا في العناية على هامش فتح القدير: ۹/٤٤۰).
فتاوی عثمانی میں ہے:
اور قرعہ اندازی تقسیم انعامات کے لئے جائز ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳ / ۳٤۲) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
اشکالات اور جوابات:
اشکال (۱): بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس میں نام کا نکلنا مشکوک ہے لہذا یہ تعلیق الملک بالخطر ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔
ملاحظہ ہو شرح مجلہ میں ہے:
وأما الذي لا يصح تعليقه بالشرط شرعاً فضابطه كل ما كان من التمليكات سواء كان مبادلة المال بمال من الطرفين أو لا كالبيع والإجارة والاستئجار والقسمة والهبة. (شرح مجلة: ۱/۲۳٤).
الجواب: اولاً تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ
"تعليق الملك بالخطر"
کی صورت اس وقت ممنوع ہے جب کہ جانبین سے مال مشروط ہو کیوں کہ یہ نص قرآنی کی وجہ سے قمار میں داخل ہے ۔
قال الله تعالى: ﴿
إنما الخمر والميسر
رجس من عمل الشيطان، فاجتنبوه﴾. (المائدة: ۹۰). والميسر القمار. وقال في التعريفات الفقهية: القمار مصدر قامر هو كل لعب يشترط فيه غالباً أن يأخذ الغالب شيئاً من المغلوب وأصله أن يأخذ الواحد من صاحبه شيئاً فشيئاً في اللعب ثم عرفوه بأنه تعليق الملك على الخطر والمال في الجانبين. (التعريفات الفقهية، ص: ۱۷۷، بيروت).
وفي معجم لغة الفقهاء: القمار
تعليق الملك على الخطر والمال من الجانبين (معجم الفقهاء، ص: ۳٦۹).
وفي تيسير الكريم الرحمن في تفسير كلام المنان: وأما الميسر فهو كل المغالبات التي يكون فيها عوض من الطرفين. (تيسير الكريم الرحمن، ص: ۸۱).
احکام القرآن میں ہے
:
لا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار وأن المخاطرة من القمار قال ابن عباس رضي الله عنه: إن المخاطرة قمار وإن أهل الجاهلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه. (أحكام القرآن للجصاص: ۱/۳۷۹، سهيل).
فتاوی الشامی میں ہے:
لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخري وسمي القمار قماراً لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد. (فتاوى الشامي: ٦ /٤۰۳، وكذا في البحر الرائق: ۸ /٤۸٦).
امداد الفتاوی میں ہے:
تعليق الملك على الخطر والمال من الجانبين. (إمداد الفتاوى: ۳/۱٦۱، ومثله في جواهر الفقه: ۲/۳٤۲).
مزید ملاحظہ ہو: (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤ / ۷۲) ۔
چونکہ صورتِ مسئولہ
"تعليق الملك بالخطر من الجانبين"
میں داخل نہیں، کیوں کہ مشتری نے اپنا مال دے کر اس کا عوض سامان کی صورت میں وصول کر لیا اب فقط بائع کی طرف سے انعام کے حصول کے لیے نام نکلنے کی شرط ہے اس وجہ سے یہ قمار نہیں ہے ۔
اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
اتنی بات جان لینی چاہیے کہ قمار اس وقت ہوتا ہے جب ایک طرف سے ادائیگی یقینی ہو اور دوسری طرف محتمل ہو لیکن جہاں دونوں طرف سے ادائیگی متیقن ہو اور پھر کوئی فریق کہے کہ قرعہ اندازی کروں گا تو یہ قمار نہیں ہے دو تاجر ہیں وہ کہتے ہیں کہ جو ہم سے سامان خریدے گا ہم ہر ایک کو ایک پرچی دیں گے اور پھر بعد میں کسی وقت قرعہ اندازی کریں گے تو اب یہ قمار نہیں ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤ / ۷٦) ۔
مفتی اعجاز احمد صمدانی فرماتے ہیں:
اگر کسی شخص نے اپنے مال کا حقیقی عوض حاصل کر لیا اور پھر انعام بھی مل گیا تو یہ جوا نہیں ہے ۔ (غرر کے اثرات، ص: ۳۸٦، و مثلہ فی جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱ / ۱۲٦) ۔
مفتی تقی عثمانی رحمه الله فرماتے ہیں:
انعام یا قرعہ اندازی میں شرکت کے لئے کوئی فیس وصول نہیں کی گئی تو یہ قمار نہیں ہے قرعہ اندازی تقسیم انعامات کے لئے جائز ہے ۔ (فتاوی عثمانی: ۳ / ۳٤۲) ۔
لیکن قابل اشکال بات یہ ہے کہ شارحِ مجلہ نے
"تعليق الملك بالخطر من جانب واحد"
تملیکات میں ہو تو اس کو بھی ناجائز اور ممنوع قرار دیا ہے اس کا کیا حل ہو گا؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ شارحِ مجلہ کی دیگر عبارات اور دیگر کتب کی عبارات کو بنظر غائر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے ۔ اس قاعدہ سے مستثنیات بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک جانب سے شرط لگانا درست ہے اگر چہ اس میں تملیک کا پہلو ہو ۔
ملاحظہ فرمائیں شرحِ مجلہ میں ہے:
وما كان من الإطلاقات كالإذن بالتجارة وكالوكالة أو الولايات كالقضاء والإمارة
أو ما كان من التحريضات صح تعليقه بالملائم وذلك كقول المولي لعبده إن قبضت لي من فلان الألف التي لي عليه فقد أذنت لك بالتجارة
وإن وصل إليك كتابي فقد عزلتك وكقول الإنسان للدائن إذا جاء مديونك من سفره فأناْ كفيل لما لك عليه
وأما غير الملائم كأن هبت الريح أو دخلت الحمام فلا يصح. (شرح المجلة: ۱/۲۳۳).
مذکورہ بالا قاعدہ سے معلوم ہوا کہ تحریضات و ترغیبات میں ایک جانب سے ملائم للعقد شرط لگانا جائز اور درست ہے اور صورتِ مسئولہ میں بھی تحریض کا ایک پہلو بایں معنی ہو سکتا ہے کہ اپنی تجارت کو مشہور کرنے اور فروغ دینے کے لیے خریداروں کو ابھارنا ہے اور قرعہ اندازی پر انعام کی شرط ملائم للعقد ہے لہذا یہ درست ہونی چاہیے ۔
نیز یہ تبرع مشروط کی طرح ہے کیوں کہ بائع جو انعام دیتا ہے وہ کسی چیز کے عوض میں نہیں ہے بلکہ ابتدائی تبرع ہے اور تبرع میں شرط لگانا جائز ہے کہ جس کا نام نکلے گا وہ انعام حاصل کرے گا جیسا کہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ رضي الله عنه کی ضیافت شرط لگائی تھی اور حضرت ابو بکر رضي الله عنه کے ساتھ حضرت براء رضي الله عنه کے والد نے شرط لگائی تھی وغیرہ ۔ ملاحظہ ہو مسلم شریف میں ہے:
عن أنس رضي الله عنه أن جاراً لرسول الله ﷺ فارسياً كان طيب المرق فصنع لرسول الله ﷺ ثم جاء يدعوه، فقال: وهذه لعائشة رضي الله تعالى عنها فقال: لا، فقال رسول الله ﷺ: لا، فعاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: لا، قال رسول الله ﷺ: لا، ثم عاد يدعوه، فقال رسول الله ﷺ: وهذه، قال: نعم في الثالثة، فقاما يتدافعان حتى أتيا منزله. (رواه مسلم: ۲/۱۷٦).
حدیثِ بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک شخص نے آنحضرت ﷺ کو دعوتِ طعام پیش کی آپ ﷺ نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی بھی شرط لگائی اس نے انکار کر دیا پھر تیسری مرتبہ میں اجازت دے دی تو آپ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے ہمراہ تشریف لے گئے ۔
اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت عازب رضی اللہ تعالی عنہ سے اونٹ کا پالان خریدا اور عازب رضي الله عنه سے درخواست کی کہ اپنے بیٹے براء رضي الله عنه سے کہ دے کہ یہ پالان میرے ساتھ لے چلے، عازب رضي الله عنه نے کہا نہیں مگر اس شرط پر کہ آپ ہجرت کا واقعہ سنا دیں، حضرت ابو بکر صدیق رضي الله عنه نے ہجرت کا واقعہ سنایا اور حضرت براء رضي الله عنه پالان لے گئے ۔
ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن البراء رضي الله عنه قال: اشتري أبو بكر رضي الله عنه من عازب رضي الله عنه رحلاً بثلاثة عشر درهماً، فقال أبو بكر رضي الله عنه: لعازب رضي الله عنه مر البراء فليحمل إلى رحلي، فقال عازب: لا، حتى تحدثنا كيف صنعت أنت ورسول الله ﷺ حين خرجتما من مكة والمشركون يطلبونكم، قال: ارتحلنا
الخ. (رواه البخاري ۱/۵۱۵، في مناقب المهاجرين).
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
یہ انعام دکاندار کی طرف سے تبرع ہے کسی چیز کا عوض نہیں ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱ /۱۲٦) ۔
اشکال: شرحِ مجلہ کے قاعدہ سے مترشح ہوتا ہے کہ تملیکات میں شرط من جانبٍ واحدٍ لگانا درست نہیں اور ہبہ کو بھی تملیکات میں شمار کیا گیا ہے جب کہ ہبہ تبرع ہے تو پھر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تبرعات میں شرط لگانا بھی ناجائز ہے؟
الجواب: شرحِ مجلہ کی مزید تفصیلی عبارت سے پتا چلتا ہے کہ تملیکات جن کو شرط کے ساتھ مشروط کیا جاتا ہے وہ دو قسم پر ہیں:
(۱) وہ معاملہ جس میں مبادلۃ المال بمال ہو ۔
(۲) جس میں مبادلۃ المال بمال نہ ہو ۔
پھر ان دونوں کا حکم جداگانہ ہے یعنی وہ معاملات جو قسمِ اول کی قبیل سے ہیں وہ شرط فاسد کی وجہ سے خود فاسد ہو جاتے ہیں ۔ لیکن جو قسمِ دوم کی قبیل سے ہیں ان میں شرطِ فاسد جو غیر ملائم ہو لغو ہو کر معاملہ خود صحیح ہو جاتا ہے ۔ یعنی ہبہ میں موہوب لہ کی ملکیت اس پر ثابت ہو جائے گی ۔ اور شامی کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ شرط سے غیر ملائم شرط مراد ہے، یعنی شرط ملائم رکھنا درست ہے اور شرط غیر ملائم ہبہ میں باطل ہو جاتی ہے ۔
ملاحظہ فرمائیں شرح مجلہ میں ہے:
لكن ما كان فيه مبادلة مال بمال يبطل أيضاً بالشرط الفاسد كالبيع وما ليس كذلك كالهبة والصدقة والإبراء
لا يبطل بالشرط الفاسد بل يصح ويلغو الشرط. (شرح المجلة: ۱/ ۲۳٤).
اور تبرعات قسمِ دوم کے قبیل سے ہیں اس وجہ سے شرط غیر ملائم خود لغو ہو گی اور معاملہ صحیح ہوگا ۔
تنبیہ: قابل توجہ بات یہ ہے کہ شرح مجلہ میں تبرعات میں بظاہر ہر قسم کی شرط کو فاسد قرار دیا گیا ہے جب کہ علامہ شامی رحمه الله کی تحریر سے واضح ہوتا ہے کہ تبرعات میں شرطِ ملائم صحیح اور درست ہے اور شرطِ غیر ملائم فاسد ہے ۔ لہذا شرح مجلہ کی عبارت کو شرط غیر ملائم پر محمول کر لیں تو اشکال رفع ہو جائے گا ۔
ملاحظہ ہو الدر المختار میں ہے:
ويصح تعليق هبة وحوالة وكفالة وإبراء عنها بملائم. (الدر المختار: ۵/۲۵۵).
دوسری جگہ مذکور ہے:
وما يصح ولا يبطل بالشرط الفاسد
قوله والهبة والصدقة كوهبتك هذه المائة أو تصدقت عليك على أن تخدمني سنة فتصح ويبطل الشرط لأنه فاسد وفي جامع الفصولين ويصح تعليق الهبة بشرط ملائم
ولو مخالفاً تصح الهبة لا الشرط. (الدر المختار مع رد المحتار: ۵ /۲٤۹، سعيد).
اور احادیثِ مذکورہ سے بھی پتا چلتا ہے کہ تبرعات میں شرطِ ملائم لگانا صحیح اور درست ہے ۔
اشکال (۲): گھڑ دوڑ تیر اندازی وغیرہ مسابقہ پر نیز تعلیمی مسابقہ پر انعامات حاصل کرنا تحریضات اور ترغیبات کی قبیل سے ہے اس میں کسی ایک صفت کو ترقی دینا مقصود ہے مثلاً پہلی صورت میں جہادی تربیت اور دوسری صورت میں علمی ترقی جب کہ آپ کی (مسئولہ) صورت میں کسی صفت کی ترقی مقصود نہیں ۔
ملاحظہ ہو فتاوی الشامی میں ہے:
فيباح في كل الملاعب أي التي تعلم الفروسية وتعين على الجهاد لأن جواز الجعل فيما مر إنما ثبت بالحديث على خلاف القياس فيجوز ما عداها بدون الجعل. (فتاوى الشامي: ٦/٤۰۲، سعيد).
الجواب: (۱) اس کا جواب یہ ہے کہ جن مواقع میں انعام مقرر کیا جاتا ہے ان کی تین قسمیں ہیں: (الف) مسابقات کی قبیل سے ہو اور مسابقہ مفید بھی ہو تو اس میں ایک جانب سے انعام مقرر کرنا بالاتفاق جائز اور درست ہے ۔ بلکہ بہتر ہے ۔
(ب) مسابقات کی قبیل سے ہے لیکن وہ مسابقہ نہ تو معاونِ جہاد ہے اور نہ چنداں مفید ہے ۔ اس میں ایک جانب سے انعام مقرر کر نا بہتر نہیں ہے، اگر چہ مسابقہ جائز اور درست ہے، تاکہ اس کام کی حوصلہ شکنی ہو ۔
(ج) جو تبرعات، تحریضات اور ترغیبات کی قبیل سے ہو اور اس میں یک طرفہ انعام مقرر کیا جائے تو علامہ شامی رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ جائز اور درست ہے ۔
قال ابن عابدين رحمه الله: ألقى شيئاً وقال: من أخذه فهو له فلمن سمعه أو بلغه ذلك القول أن يأخذه
لأنه أخذه على وجه الهبة وقد تمت بالقبض. (فتاوى الشامي: ٤/۲۸۵، سعيد).
دیگر فقہاء بھی جواز کے قائل ہیں:
فتاوی سراجیہ میں ہے:
رجل قال لآخر من أكل من مالي فهو في حل قيل لا يحل لأحد أن يأكل والفتوى على أنه يحل. (الفتاوى السراجية، ص: ٤۰۳).
عالمگیری میں ہے:
إذا وضع الرجل مقداراً من السكر أو عدداً من الدراهم بين قوم وقال من شاء أخذ منه شيئاً أو قال من أخذ منه شيئاً فهو له فكل من أخذ منه شيئاً يصير ملكاً له. (الفتاوى الهندية: ۵ /۳٤۵).
اور مسئلہ مبحوث عنہا قسمِ سوم میں سے ہے بنا بریں اس میں یک طرفہ انعام لگانا جائز اور درست ہے اگر چہ کسی صفت کی ترقی مقصود نہیں ہے ۔
اشکال (۳): حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی رحمه الله کی ایک عبارت سے عدمِ جواز مترشح ہوتا ہے وہ عبارت درج ذیل ہے:
اس کاروبار کا خلاصہ خرید و فروخت بشرطِ انعام ہے اور شریعت میں ایسی خریدو فروخت ناجائز ہے جس میں کوئی ایسی خارجی شرط لگائی جائے جس میں فریقین معاملہ میں سے کسی ایک کا نفع ہو ۔ (آپ کے مسائل اور انکا حل: ٦ / ۲۷۷) ۔
الجواب: بظاہر حضرت مولانا رحمه الله کی عبارت سمجھ میں نہیں آتی اس لئے کہ انعام تجارت کے ساتھ مشروط نہیں ہوتا ۔ اگر کوئی شخص انعامی کوپن نہ لینا چاہے تو کوئی جبر نہیں ہے اور سامان اس کو بغیر کوپن کے بھی حاصل ہو جاتا ہے ۔ پھر حضرت کا یہ فرمانا کہ خرید و فروخت بشرط انعام ہے یہ بات بھی سمجھ میں نہیں آتی، پھر یہاں انعام مشروط نہیں ہے بلکہ موہوم ہے مشروط ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مشتری انعام کا مستحق ہو حالانکہ ایسا نہیں ہے ۔
حضرت مفتی نظام الدین رحمه الله کی تحریر سے بھی جواز معلوم ہوتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ زیادتی مشروط نہیں ہوتی بلکہ یہ انعام تبرع محض ہے ۔ ملاحظہ ہو:
پھر جب اس زیادتی کے ملنے کا یقین بھی نہیں ہوتا اور نہ اس کا مطالبہ ہی ہوتا ہے اور نہ سب کو وہ زیادتی مل ہی جاتی ہے بلکہ محکمہ محض اپنی صواب دید اور محض اپنے ضابطہ کے مطابق کچھ نمبرات کے لئے زائد رقم دینے کا اعلان کرتا ہے اور جن کا نام نکلتا ہے صرف ان کو دے دیتا ہے یہ زیادتی منجانب محکمہ تبرع ہے اور تبرع جائز ہوتا ہے ممنوع نہیں، لہذا یہ زیادتی لینا جائز ہو گا ۔ پھر حدیث شریف کل قرض جر نفعاً کا مصداق وہ جر ہوگا جس میں نفع عقد معاملہ میں مشروط ہو اور یہاں ایسا نہیں ہے ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱ / ۱۹٤، ۱۹۵) ۔
اشکال (٤): بعض مرتبہ انعام نقد رقم کی شکل میں حاصل ہوتا ہے اور یہ سود ہے اس لئے کے اس نے جتنی رقم ادا کی تھی اس سے کئی گنا زیادہ ہے اور یہ زیادتی بلا عوض حاصل ہوئی ہے اس لئے سود ہے ۔
ملاحظہ ہو تبیین الحقائق میں ہے:
الربا فضل مال بلا عوض في معاوضة مال بمال. (تبيين الحقائق: ٤/۸۵، ط: ملتان).
الجواب: صورت مسئولہ کو سود میں داخل کرنا بے سود ہے کیوں کہ سود اس کو کہتے ہیں کہ جو معاوضہ مالیہ میں زیادتی مشروط ہو ۔ جب کہ مسئلہ مبحوث عنہا میں زیادتی مشروط نہیں ہے بلکہ موہوم ہے نہ ہر ایک کو ملتی ہے نہ ہر ایک اس کے مطالبہ کا حق رکھتا ہے ۔ مزید براں خریدار کا معاملہ سامان کے عوض ہوتا ہے اس نے نقد کے عوض سامان اور مبیع کو حاصل کر لیا انعام کے ساتھ بظاہر اس کا کوئی تعلق نہیں رہا ۔ صرف اتنی بات ہے کہ خریدار کی فہرست میں ہو نے کی وجہ سے قرعہ اندازی میں نام نکلنے پر بائع کی طرف سے محض تبرعاً ایک انعام حاصل ہوگا جو کہ موہوم ہے ۔ ربا کی تعریف ملاحظہ فرمائیں ہدایہ میں ہے:
الربا هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه. (الهداية: ۳/۷۸).
العنایہ شرح الہدایہ میں ہے:
الربا في اللغة هو الزيادة
وفي الاصطلاح هو الفضل الخالي عن العوض المشروط في البيع. (العناية: ۳ / ۷، ومثله في الدر المختار: ۵/ ۱٦۸، سعيد).
معجم لغۃ الفقہاء میں ہے:
الربا كل زيادة مشروطة في العقد خالية عن عوض مشروع. (معجم لغة الفقهاء، ص ۲۱۸، وكذا في التعريفات الفقهية، ص ۱۰۲).
حضرت مفتی نظام الدین رحمه الله فرماتے ہیں: شرعاً ربا کے معنی میں جتنی عبارتیں فقہاء نے نقل فرمائی ہے ان سب کا حاصل یہ ہے کہ اموالِ ربویہ میں عقدِ معاوضہ کا معاملہ ہو اور اسی عقد میں کسی جانب کو زیادتی بلا عوض ہو (یعنی) جس میں نفع عقد معاملہ میں مشروط ہو ۔ (منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱ / ۱۹۵) ۔
مزید براں یہ معاملہ قابل اشکال اس وقت ہوگا جب کہ انعام نقد کی صورت میں ہو اگر انعام کسی اور جنس کی شکل میں ہو تو پھر کوئی اشکال کی بات نہیں ہے کیوں کہ مذہب احناف میں ربا کے متحقق ہونے کے لئے دونوں جانب میں ہم جنس ہونا ضروری ہے ۔
ملاحظہ ہو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں:
فالعلة عندنا الكيل مع الجنس أو الوزن مع الجنس. (الهداية: ۳/۷۸).
وفي معجم لغة الفقهاء: ربا الفضل بيع شيء من الأموال الربوية بجنسه متفاضلاً. (معجم لغة الفقهاء، ص: ۲۱۸).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.