انعامی بانڈز کا حکم:
Question
انعامی بانڈز کا ایک طریقہ یہ ہے کہ لوگ ۱۰، ۱۰ رینڈ جمع کرتے ہیں اور پھر ایک آدمی یا چند آدمیوں کو انعام ملتا ہے اور باقی لوگوں کی رقم ڈوب جاتی ہے یہ تو قمار کی ایک شکل ہے، دوسری شکل یہ ہے کہ جو ۱۰، ۱۰ رینڈ جمع کرتے ہیں وہ واپس مل جاتے ہیں اور قرعہ اندازی کے طریقہ پر بعض کو انعام ملتا ہے اس میں بظاہر قمار نہیں ہے کیوں کہ رقم نہیں ڈوبی اور بظاہر سود بھی نہیں اس لیے کہ سود کی تعریف:
الفضل المشروط الخالي عن العوض"
۔ اور یہاں فرداً فرداً کسی کے ساتھ شرط نہیں لگائی کہ آپ کو اتنی زائد رقم دیں گے اس دوسری صورت کا شرعاً کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
انعامی بانڈز کی مروجہ یہ دونوں صورتیں ناجائز ہیں ۔
ملاحظہ فرمائیں اسلام اور جدید معاشی مسائل میں ہے:
بعض حضرات نے انعامی بانڈز کو جائز کہا ہے اس نقطہ نظر سے دیکھا کہ چونکہ یہاں تعلیق التملیک علی الخطر نہیں ہے کیوں کہ جتنے پیسے دیے ہیں وہ ہر حال میں مل جائیں گے لہذا یہ قمار نہیں ہے تو یہ جائز ہو گیا، لیکن یہ خیال درست نہیں ہے کیوں کہ یہاں اگر چہ قمار بذاتِ خود نہیں ہے لیکن اس میں ربا ہے اس لیے کہ اگر اس کا نام قرعہ اندازی میں نکل آتا ہے تو اس کو مثلاً اگر سو روپے دیے تھے اس کے عوض میں ایک لاکھ ایک سو روپے ملیں گے ۔
بعض حضرات کو یہ شبہ ہوا کہ یہ سود بھی نہیں ہے اس لیے کہ جب میں نے بانڈز لیا تھا تو میرے ساتھ کوئی مشروط زیادتی کا معاملہ نہیں تھا ۔
اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ مجموعہ مقروضین کے ساتھ زیادتی مشروط ہے اور اگر چہ صراحت نہیں ہوتی کہ ہم اس کے اوپر کوئی منافع دیں گے لیکن عمل ہوتا ہے اور وہ عمل مستمر اور تعامل ہے کہ جب کوئی شخص اپنا قرض واپس لیتا ہے تو حکومت اس کو کچھ زیادہ دیتی ہے، لہذا یہاں اگر چہ لفظوں میں شرط نہیں تھی لیکن
"المعروف كالمشروط"
میں آگیا ۔
عموماً یہ ہوتا ہے کہ حکومت ہر بانڈز والے کے بانڈز پر سود لگاتی ہے پھر سب کے سود کو اکٹھا کر کے قرعہ اندازی کے ذریعہ افراد میں تقسیم کر دیا جاتا ہے، دوسرے الفاظ میں یہ کہا جائے کہ سود کو قمار کی شکل میں تقسیم کرتے ہیں، اگر چہ وہ شرعاً قمار اس لیے نہ ہوا کہ سود ملکیت ہے ہی نہیں لیکن اس میں قمار کی روح موجود ہے اور قمار سود پر ہو رہا ہے کہ ایک آدمی کا سود یا بہت سارے آدمیوں کا سود ملا کر ایک شخص کو قرعہ اندازی کے ذریعہ دے دیا گیا اس واسطے یہ ناجائز ہے ۔ (اسلام اور جدید معاشی مسائل: ٤/۱۱ ۔ ۷۸) ۔
فتاوی بینات میں ہے:
پرائز بانڈز کی خرید و فروخت کرنا اور اس سے ملنے والا انعام حاصل کرنا از روئے شرع ناجائز اور حرام ہے ۔ (فتاوی بینات: ٤/۲۲۷) ۔
مزید ملاحظہ ہو: (جدید فقہی مسائل: ۱/۲٦۳) ۔
خلاصہ یہ ہے کہ انعامی بانڈز کی پہلی صورت قمار میں داخل ہونے کی وجہ سے ممنوع اور ناجائز ہے اور دوسری صورت میں سود شامل ہونے کی وجہ سے ممنوع ہے، لہذا دونوں صورتوں سے بچنا لازم اور ضروری ہے ۔
جدید معاملات کے شرعی احکام میں ہے:
ایک اسکیم جو ۲۵۰ سے ۳۰۰ ممبران پر مشتمل ہوتی ہے، ہر ممبر ۳۰۰ روپے ماہوار دیتا ہے، ہر ماہ قرعہ اندازی ہوتی ہے جس کا نام نکل آئے اس ۱۵۰۰۰ روپے یا اتنی مالیت کے برابر دوسری چیز دی جاتی ہے اور اس سے باقی قسطیں نہیں لی جاتیں ۔
اس اسکیم میں بھی دو احتمال ہیں یا تو ہر ممبر کو انعامی رقم ملنا یقینی ہو گا یا اصل رقم کے ڈوبنے کا خطرہ ہو گا، اگر ملنا یقینی ہے تو یہ "سود" ہے کیوں کہ رقم جمع کروانے والے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس کی یہ رقم اور زیادہ رقم لے کر آئے اور اسکیم چلانے والے بھی اس کی ترغیب اور لالچ دلاتے ہیں کہ ممبر قرعہ اندازی میں حصہ لے نام نکلنے پر زائد رقم حاصل کرے ۔ اگر اصل رقم کے ڈوبنے کا خطرہ ہے تو یہ جوا ہے، سود اور جوا دونوں حرام ہیں، ان سے بچنا فرض ہے ۔ (جدید معاملات کے شرعی احکام: ۱/۲٦٤) ۔
البتہ حضرت مفتی نظام الدین صاحب رحمه الله کے تفصیلی فتوی (جو منتخباتِ نظام الفتاوی: ۱/۱۹۵، پر درج ہے) سے مترشح ہوتا ہے کہ یہ دوسری صورت جس میں رقم پوری ملتی ہے سود میں داخل نہیں ہے، اس کا لینا جائز اور درست ہے، اس مسئلہ کی مزید وضاحت عنقریب سپردِ قرطاس کی جائے گی ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.