ماہنامہ کے خریداروں کے لیے انعام کا حکم:
Question
ریڈرس ڈائجسٹ ایک ماہنامہ ہے جو حضرات پیشگی رقم ادا کر کے خریدتے ہیں ان کے درمیان قرعہ اندازی کر کے جس کا نام بر آمد ہوتا ہے اس کو انعام ملتا ہے کیا یہ طریقہ جائز ہے یا نہیں؟ اور نام نکلنے پر انعام حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں؟
Answer
اگر ڈائجسٹ قیمۃً خریدا گیا اور ڈائجسٹ کے منتظمین نے یہ کہا ہو کہ جس کا نام نکلے اس کو ہم فلاں چیز بطورِ انعام دیں گے تو شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ یہ تبرعِ مشروط کے قبیل سے ہے یعنی ڈائجسٹ خریدنے والوں پر ہم احسان کریں گے جو قرعہ اندازی کے ساتھ مشروط ہوگا جیسے طالبِ علم کو داخلہ بشرطِ فیس دیا جاتا ہے، اس قرعہ اندازی میں قمار نہیں پایا جاتا کیونکہ قمار والے قرعہ میں کوئی مستحق محروم اور کوئی مستحقِ مال ہوتا ہے، جب کہ یہاں کوئی بھی مستحق نہیں، اس لیے کہ رقم کے عوض وہ ڈائجسٹ کے مستحق ہیں جو ان کو مل چکا ہے ۔
امداد الاحکام میں ہے:
پس ارشاد ہوا کہ معاہدہ مذکورہ کہ خریدار کوسال بھرکے برابر چالومارکو کا مال خریدتے رہنے کی حالت میں دو تین روپیہ سیکڑہ مثلاً سال کے تمام پر رعایت دی جائے اور دورانِ سال دوسری جگہ ایک مرتبہ بھی خریدنے میں بالکل کچھ نہ دیا جائے شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: یہ معاہدہ جائز ہے کیوں کہ خریدار کو سال تمام پر جو کمیشن ہر سکیڑہ پر دیا جاتا ہے وہ بائع کی طرف سے تبرع ہے خریدار کا حق لازم نہیں، اور تبرع کوکسی شرط سے مشروط کرنا جائز ہے ۔ (امداد الاحکام:
۳
/
۳۸٦
) ۔
دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں:
سوال: مدارس میں فیس داخلہ اور فیس ماہواری طلبہ سے لینا جائز ہے یا نہیں؟
الجواب: جائز ہے کیوں کہ یہ اجرت نہیں بلکہ چندہ ہے اور چندہ میں شرط جائز ہے کیوں کہ اس سے جبر لازم نہیں آتا جس کو شرط منظور نہ ہو گی اس کو عدمِ داخلہ کا اختیار ہوگا ۔
ودليله أنه عليه السلام قال لمن أضافه وعائشة رضي الله تعالى عنها، قال: لا، قال: فلا إذن، قال في الثالثة وعائشة رضي الله تعالى عنها قال: نعم
۔ (امداد الاحکام:
۳
/
٦۰٦
) ۔
حدیث شریف کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص آنحضور ﷺ کی دعوت کرنا چاہتا تھا، آنحضور ﷺ نے ان ہاں جانے کے لیے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کے جانے کی شرط رکھی جس کو تیسری مرتبہ میزبان نے قبول کر لیا، رسول اللہ ﷺ کا تشریف لے جانا تبرع تھا جس کو حضرت عائشہ رضي الله عنه کے جانے کے ساتھ مشروط فرمایا ۔
(امداد الاحکام حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمه الله کی نگرانی میں تحریر شدہ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله کے فتاوی کا مجموعہ ہے ۔
"ماہنامہ "البلاغ" جمادی الاولی
۱٤۳۲
ھ میں حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ترمذی صاحب رحمه الله کا ایک مضمون شائع ہوا ہے اس میں حضرت نے فرمایا: حقیقت میں یہ امداد الاحکام حضرت تھانوی رحمه الله کے امداد الفتاوی کا تتمہ ہے ۔ البلاغ، ص
٤۰
) ۔
مذکورہ بالا معاملہ میں اگر کوئی اور خرابی نہ ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.