بیسی (چٹھی) کے مسئلہ پر سود ہونے کا اشکال اور جواب:
Question
ہند و پاک کے دیہات میں خواتین میں ایک معاملہ معروف اور مشہور ہے کہ خواتین ایک خاتون کے پاس مثلاً: ایک ہزار روپے جمع کرتی ہیں پھر ہر مہینے قرعہ ڈالا جاتا ہے، اگر ۲۴ خواتین جمع کرتی ہیں تو پہلے ۲۴ ہزار ایک خاتون کو مل جاتے ہیں لیکن آئندہ یہ خاتون روپے جمع کرتی رہے گی تاکہ ۲۴ ہزار جمع ہو جائیں، اس میں سود نہیں ہوتا ہے، صرف تقدیم و تاخیر ہوتی ہے، ہمارے ہاں بعض علماء اس کو کمی بیشی نہ ہونے کی وجہ سے جائز کہتے ہیں اور بعض مفتیانِ کرام
"كل قرض جر نفعاً فهو ربا"
کہہ کر اس معاملہ کو ناجائز کہتے ہیں، اس لیے کہ بعض کو قرض دینے کی وجہ سے یک مشت زیادہ ملنے کا فائدہ ہوا مثلاً: ۲۴ خواتین نے ہزار ہزار روپے جمع کیے اور ۲۴ ہزار جمع ہو گئے اور قرعہ اندازی سے ایک خاتون کو ۲۴ ہزار مل گئے جن کو وہ بعد میں جمع کرتی رہے گی، شرعاً اس معاملہ کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
Answer
بصورتِ مسئولہ اس طرح کا معاملہ شرعاً جائز اور درست ہے۔ کئی مفتی حضرات نے اس کی تصریح فرمائی ہے؛ ۱۔ مولانا خالد سیف اللہ صاحب نے جدید فقہی مسائل میں، ۲۔ مولانا یوسف لدھیانوی رحمه الله نے آپ کے مسائل اور ان کا حل میں اور ۳۔ فتاوی حقانیہ میں بھی جواز مرقوم ہے۔ عبارات ملاحظہ کیجیے:
جدید فقہی مسائل میں مرقوم ہے:
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ ایک خاص رقم متعین ہوتی ہے، چند افراد اس کے ممبر بنتے ہیں، وہ مقررہ تناسب کے مطابق ہر ماہ رقم ادا کرتے ہیں اور مجموعی رقم ہر ماہ قرعہ اندازی یا باہمی اتفاق رائے سے کسی ایک کو دے دی جاتی ہے۔ مثلاً: دو ہزار کی چٹھی ہو، دس آدمی شریک ہوں تو دس ماہ تک ہر شخص دو سو روپے جمع کرے گا اور ہر ماہ کسی ایک کو یک مشت رقم مل جایا کرے گی۔ یہ صورت مباح ہے، اس لیے کہ اس کے نا درست ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے، جو شخص مدت کی تکمیل سے پہلے چٹھی کی رقم حاصل کرتا ہے اس کی حیثیت مقروض کی ہے اور دوسرے ارکان کی قرض دہندہ کی، قرض دینے والا اس کو ایک مدت کی مہلت دیتا ہے، اسی طرح اس پر کوئی نفع حاصل نہیں کرتا، یہ نہ صرف جائز ہے بلکہ انسانی ہمدردی اور اسلامی اخلاق کا تقاضہ بھی ہے۔ (جدید فقہی مسائل:
۱
/
۳۷۲
)۔
فتاوی حقانیہ میں مرقوم ہے:
چند افراد کا اس طرح ہر ماہ برابر برابر رقم جمع کر کے قرعہ اندازی کے ذریعہ کسی ایک کو دینا امدادِ باہمی اور قرض ہے، اس میں تملیک اور تملک نہیں ہوتا بلکہ ہر ایک شریک چاہتا ہے کہ اس بار جمع کی گئی رقم مجھے مل جائے، تو رفعِ نزاع اور خوش دلی کے لیے قرعہ اندازی کر لیتے ہیں، جہاں سب شرکاء کے حقوق مساوی ہوں وہاں طیبِ خاطر کے لیے قرعہ ڈالنا جائز ہوتا ہے۔ (فتاوی حقانیہ:
٦
/
۲۰۰
)۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مذکور ہے:
سوال: جو لوگ کمپنی کے نام پر دس آدمی ۳۲ روپیہ فی کس جمع کرتے ہیں، مہینے کے بعد قرعہ اندازی کر کے ممبران میں سے جس کا نام نکل آئے تو مبلغ ۶۰۰۰ روپیے دے دیتے ہیں، جب کہ اس کی جمع شدہ رقم ۹۶۰ روپیے ہوتی ہے، کیا یہ جائز ہے یا ناجائز؟ جس ممبر کی کمیٹی نکل آئی وہ یومیہ ۳۲ روپے دیتا رہتا ہے اس وقت تک جب تک ۶۰۰۰ روپے پورے نہیں ہوتے؟
جواب: یہ کمپنی کا طریقہ قرض کے لین دین کا معاملہ ہے میں تو اس کو جائز سمجھتا ہوں۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۷
/
۳۷۵
، طبع جدید)۔
كل قرض جر نفعاً
کے بارے میں فقہاء نے لکھا ہے کہ عقد میں مشروط نفع ممنوع ہے جو غیر مشروط ہو وہ ممنوع نہیں اور یہاں تو سرے سے نفع ہے ہی نہیں ہاں تقدیم تاخیر ہے وہ بھی قرعہ اندازی کا نتیجہ ہے۔ مشروط نہیں ہے۔ ملاحظہ ہو تبیین الحقائق کے حاشیہ میں مرقوم ہے:
قوله ومن وضع درهماً عند بقال، قال الكرخي رحمه الله في مختصره في كتاب الصرف: وكل قرض جر منفعة لا يجوز، مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحاً أو يقرض قرضاً على أن يبيع به بيعاً؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحاً من غير أن يشترط عليه جاز، وكذلك لو باعه شيئاً، ولم يكن شرط البيع في أصل العقد جاز ذلك، ولم يكن به بأس إلى هنا لفظ الكرخي في مختصره، وذلك لأن القرض تمليك الشيء بمثله فإذا جر نفعاً صار كأنه استزاد فيه الربا فلا يجوز؛ ولأن القرض تبرع وجر المنفعة يخرجه عن موضعه، وإنما يكره إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد، وإذا لم تكن مشروطة فيه يكون المقترض متبرعاً بها فصار كالرجحان الذي دفعه ــ ﷺ ـــ في بدل القرض، وقد روي عن ابن عمر رضي الله عنه أنه كان يستقرض فإذا خرج عطاؤه أعطاه أجود مما أخذ. (حاشية الشلبي على تبيين الحقائق: ٦/۲۹).
مزید ملاحظہ ہو: (فقہ المعاملات "جدید معاملات کے شرعی احکام:
۱
/
۱۸۳
، و منتخبات نظام الفتاوی:
۱
/
۱۹۵
، و کتاب الفتاوی:
۵
/
۳٤۳
)۔
اشکال اور جواب:
معترضین کہتے ہیں کہ یہ قرض کا معاملہ ہے جس میں مقرض نے رقم دے کر فی الحال زیادہ حاصل کیا اگر چہ بعد میں مقرض حاصل شدہ رقم ادا کرے گا اور یہ قرعہ کے ساتھ مشروط ہے جس کا قرعہ نکلا اس کو اس وقت ادا شدہ رقم سے زیادہ ملے گا اگرچہ بعد میں برابر کر دیا جائے گا؟
الجواب: ۱۔ اشکال کا خلاصہ یہ ہے کہ قرعہ کے ذریعہ سے تقدیم تاخیر میں اہل تقدیم کو قرض کا فائدہ ملا اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معاملہ جائز ہے اور جو رقم کسی ایک آدمی کے پاس جمع ہوتی ہے وہ قرض نہیں بلکہ امانت ہے اور اکثر و بیشتر ہر ایک کی رقم کو الگ الگ نہیں رکھتے بلکہ ملا کر رکھتے ہیں تو جب امانت کو مودع کی اجازت سے ملا دیں تو یہ بہت سارے فقہاء کے نزدیک شرکت بن جاتی ہے تو یہ رقم جمع کرنے والوں کے درمیان مالِ شرکت بن گئی جس سے شرکاء قرعہ اندازی کے ساتھ فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں جیسے مختلف حضرات آپس میں کھجوروں کو ملا کر کے کھاتے اور فائدہ اُٹھاتے ہیں۔
۲۔ اگر کسی کے پاس امانت رکھی جائے اور اجازت کے ساتھ دوسرے کے مال کے ساتھ خلط ملط ہو جائے تو امام ابو حنیفہ رحمه الله اس کو قرض کہتے ہیں اور صاحبین رحمه الله اس کو شرکت کہتے ہیں اور بہت سارے فقہاء نے صاحبین رحمه الله کے قول کو اختیار کیا ہے اس معاملہ میں لوگوں کے عرف و عادت کی وجہ سے صاحبین رحمه الله کا قول ہی بہتر ہے، مجلۃ الاحکام العدلیۃ جو خلافتِ عثمانیہ کا قانون تھا اس میں صاحبین رحمه الله کے قول کو لیا ہے، اسی طرح تنویر الابصار، در مختار، صاحب بحر، ابن ہمام، صاحب منحۃ الخالق نیز مولانا فتح محمد صاحب نے عطر ہدایہ میں ص ۲۰۸، پر اور مولانا احسن نانوتوی نے حاشیہ کنز الدقائق میں صاحبین رحمه الله کے قول کو اختیار کر کے اس کو شرکت تسلیم کیا ہے۔
دلائل اور حوالہ جات ملاحظہ کیجیے: قرعہ اندازی کا حکم:
جب حقوق مساوی ہوں تو تقدیم تاخیر کے لیے قرعہ اندازی جائز اور درست ہے ہاں ابطالِ حق یا احقاقِ باطل کے لیے ناجائز ہے۔ ملاحظہ ہو صاحب در مختار فرماتے ہیں:
ويكتب أساميهم ويقرع لتطيب القلوب فمن خرج اسمه أولاً فله السهم الأول ومن خرج ثانياً فله السهم الثاني إلى أن ينتهي إلى الأخير. وفي الشامي: قوله لتطيب القلوب أشار إلى أن القرعة غير واجبة
الخ. (الدر المختار مع رد المحتار: ٦/۲٦۲، سعيد).
وقال في مجمع الأنهر: وإنما يقرع لتطيب القلوب ونفي تهمة الميل عن نفسه فلا يكون ذلك في معني القمار. (مجمع الأنهر: ۳/۳۷۳، ط: بيروت).
بدائع الصنائع
میں مرقوم ہے:
ومنها أن يقرع بينهم بعد الفراغ من القسمة ويشترط عليهم قبول من خرج سهمه أولاً فله هذا السهم من هذا الجانب من الدار ومن خرج سهمه بعده فله السهم الذي عليه يليه هكذا ثم يقرع بينهم، لا لأن القرعة يتعلق بها حكم بل لتطييب النفوس ولورود السنة بها، ولأن ذلك أنفي للتهمة فكان سنة. (بدائع الصنائع: ۷/۱۹، كتاب القسمة، سعيد).
بہت سارے فقہاء نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ مودِع کی اجازت سے مال ملانے سے مودَع شریک بن جاتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
قال في الدر المختار: وكذا لو خلطها المودع بجنسها أو بغيره بماله أو مال آخر بغير إذن المالك بحيث لا تتميز إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف
وإن بإذنه اشتركا شركة أملاك. (الدر المختار: ۵/٦٦۸، سعيد).
فتح القدير
میں ہے:
وإن اتفقا على الخلط ورضيا به، وهو جنس واحد مكيل أو موزون صار عيناً مشتركة. (فتح القدير: ۵/۳۹٤، مكتبة رشيديه كوئته).
وقال في البحر: وإن خلطها بإذنه كان شريكاً له. (البحر الرائق: ۷/۲۷٦، كوئته).
مولانا محمد احسن نانوتوی نے کنز کے حاشیہ میں بحوالہ فتح القدیر اس کو شرکت تسلیم کیا ہے۔ (کنز، حاشیہ
٤
، ص
۳٤۸
)۔
وللمزيد راجع: (شرح المجلة للشيخ محمد خالد الأتاسي: ۳/۲٦۷، وفتح القدير: ۵/۳۷۸، وحاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۲/۵۱۲، ورد المحتار: ٤/۳۰۰، سعيد، والبحر الرائق: ۵/۱٦۷).
وفي رد المحتار: قوله الهلاك على مالكه، فلا يرجع بنصف الهالك على الشريك الآخر حيث بطلت الشركة ولو الهلاك في يد الآخر؛ لأن المال في يده أمانة، بخلاف ما لو هلك بعد الخلط؛ لأنه يهلك على الشركة لعدم التمييز، ط عن الاتقاني. (رد المحتار: ٤/۳۱۵، وكذا في ملتقي الأبحر: ۳٦۹).
وقال في المبسوط: وكل واحد منهما أمين في يده من مال صاحبه واشتراط الضمان على الأمين باطل. (المبسوط: ۱۱/۱۵۷، ط إدارة القرآن).
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں مرقوم ہے: سوال: میرے پاس لوگوں کی بیسیاں جمع ہوتی ہیں، یعنی کمیٹیاں، بہت سے لوگ یا میری سہیلیاں قرض مانگتی ہیں، یعنی وہ قرض ادا کرنے کے لیے، یا بیماری میں علاج کے لیے، اسکول و کالج کی یا امتحان کی فیس کی ادائیگی کے لیے یا اور کسی مد میں، میں ان کو دے دیتی ہوں، وہ بھی حسبِ وعدہ واپس مل جاتا ہے، کیا یہ عمل شرعاً جائز ہے کیوں کہ رقم دوسروں کی ہوتی ہے؟
جواب: آپ کے پاس بیسی کی رقم جو جمع ہوتی ہے، وہ امانت ہے اگر آپ تمام حصہ داروں سے یہ اجازت لے لیں کہ آپ اس رقم کو خرچ کر سکتی ہیں تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل:
۷
/
۲۱۱
)۔
ضرورت اور تعامل کی وجہ سے فقہاء نے صاحبین رحمه الله کے قول کو اختیار فرمایا ہے، اور بوقتِ ضرورت یہ جائز ہے فقہاء نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ چند حوالے ملاحظہ فرمائیں:
فتاوی شامی میں ہے:
لا يعدل عن قول الإمام إلى قولهما أو قول أحدهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل بخلافه كالمزارعة. (فتاوى الشامي: ۱/۳۵۹، ط: سعيد).
مزید ملاحظہ ہو: (البحر الرائق:
۱
/
۲٤٦
)۔
نیز صاحبین کا قول بھی امام صاحب کے قول سے خارج نہیں بلکہ عینِ قولِ ابی حنیفہ رحمه الله ہے۔
ملاحظہ ہو علامہ شامی فرماتے ہیں:
إن أقوال أصحاب الإمام غير خارجة عن مذهبه، فقد نقلوا عنهم أنهم ما قالوا قولاً إلا هو مروي عن الإمام كما أوضحت ذلك في شرح منظومتي في رسم المفتي. (فتاوى الشامي: ٤/۳٦۲، ط: سعيد. وكذا في العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية: ۱/۱۰۹).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.