کھیل کی ابتدا کے لیے قرعہ اندازی کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #247Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

اسلامی کھیل میں فریقین میں سے کون پہلے کھیلے گا اس کی تعیین کے لیے قرعہ اندازی کرنا اور اس کے لیے پانسہ استعمال کرنا درست ہے یا نہیں؟ یاد رہے کہ اس میں کسی کا حق ضائع کرنا نہیں ہے بلکہ فقط حق کی تعیین مطلوب ہے ۔

Answer

بصورتِ مسئولہ کھیل کی ابتدا میں قرعہ اندازی کر کے معلوم کرنا کہ کون پہلے کھیلے گا یہ جائز اور درست ہے، اور اس کے لیے پانسہ کا استعمال بھی درست ہے، قرعہ اندازی تعیین حق کے لیے ہو تو جائز ہے ہاں ابطالِ حق یا احقاقِ باطل کے لیے ناجائز ہے ۔ آنحضرت ﷺ سفر میں جاتے وقت ازواجِ مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے تھے، اور جس کے نام کا قرعہ نکلتا وہ زوجہ رفیق سفر ہوتیں ۔
ملاحظہ ہو صحیح بخاری شریف میں ہے:

عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: كان رسول الله ﷺ إذا أراد أن يخرج أقرع بين أزواجه فأيتهن خرج سهمها خرج بها رسول الله ﷺ. (صحيح البخاري: ۲/٦۹٦).

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

أنه ينبغي إجراء القرعة في المهاياة زماناً لا جل البدء يعني أي أصحاب الحصص ينتفع أولاً كذلك ينبغي في المهاياة مكاناً تعيين المحل بالقرعة أيضاً

فلذلك ينبغي للقاضي أن يجري القرعة نفياً للتهمة، أن إجراء القرعة في المهاياة هو لتطييب القلوب فقط. (درر الحكام: ۳/۲۰۰، دار الكتب العلمية).
وفي المبسوط للإمام السرخسي رحمه الله: وإنما يقرع تطييباً لقلوبهما ونفياً لتهمة الميل عن نفسه فلا يكون ذلك في معني القمار. (المبسوط: ۱۷/۷٦، دار الفكر).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.