باسکٹ بال اور والی بال کھیلنے کا حکم:
Question
یہ بات تو معلوم ہے کہ مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جہاد کی تیاری کرے اپنی قدرت اور وسعت کے مطابق ان طریقوں کو اختیار کرتے ہوے جو احادیث میں وارد ہیں مثلاً: گھڑ سواری، تیر اندازی، تیراکی، دوڑ، وغیرہ لیکن اگر فی زماننا کوئی شخص جدید کھیل مثلاً: فٹ بال، باسکٹ بال وغیرہ کھیل کر جہاد کے لیے ورزش کی نیت کرے تو درست ہو گا یا نہیں؟
Answer
شریعتِ مطہرہ نے ایسے کھیل کھیلنے کی اجازت دی ہے جن سے جسمانی ورزش ہوتی ہو، اور صحت پر مفید اثر پڑتا ہو، اور طبی نقطہ نظر سے مفید ہوں، جب کہ ما قبل میں ذکر کردہ اصول و ضوابط کی رعایت کی جائے، مثلاً: ان کی وجہ سے فرائض اور حقوقِ واجبہ میں کوتاہی نہ ہو، ستر کی رعایت کی جائے، ہار جیت پر کوئی شرط نہ لگائی جائے، تضییع اوقات نہ ہو، قصداً کفار کی مشابہت نہ اختیار کی جائے وغیرہ تو ان شرائط کی رعایت کے ساتھ باسکٹ بال، فٹ بال، والی بال وغیرہ جائز اور درست ہیں، نیز ان میں جسمانی ورزش بھی ہے اور جہاد کے لیے تیاری کی نیت سے بفحوائے حدیث: "
إنما الأعمال بالنيات"،
اجر و ثواب کا مستحق ہو گا ۔
نیز حدیث شریف میں آتا ہے: "
المومن القوي خير وأحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كلٍ خير
". (رواه مسلم، رقم: ۲٦٦٤)
یعنی طاقتور مومن کمزور مومن سے افضل اور اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ محبوب ہے ہاں خیر سے کوئی ایمان والا محروم نہیں ۔ اس حدیث کی رو سے بھی ورزش کی نیت سے اجر و ثواب ملے گا ۔
کفایت المفتی میں ہے:
اگر ستر کھولنے اور نماز کے قضا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو والی بال کھیلنے کی ورزش کی نیت سے شرعاً گنجائش ہے، جسمانی ورزش جس میں کوئی بات خلاف شریعت نہ ہو جائز ہے، ورزش کے بہت سے طریقے ہیں جن میں بعض طریقے ایسے ہیں کہ وہ کسی خاص قوم کفار کے ساتھ مخصوص ہیں: مثلاً: کرکٹ، فٹ بال، ہاکی وغیرہ کہ ان میں یورپین کفار کی مشابہت کی وجہ سے کراہت ہے (کفایت المفتی: ۹/۲٦۹، ط: دار الاشاعت) ۔
پرانے زمانہ میں ان کھیلوں میں کفار کے ساتھ تشبہ کی بات تھی آج کل تو مسلمانوں میں اس قدر رائج ہیں کہ اب تشبہ باقی نہیں رہا، ہاں قصداً تشبہ اختیار کرنے میں کراہت ہو گی ۔ جیسا کہ حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی رحمه الله نے فٹ بال کے بارے میں فرمایا ہے کہ: یہ کام نصاری کے قومی شعار یا مذہبی رسوم نہیں ہیں اس لیے اگر ورزش کی مصلحت سے کھیلا جائے تو مضائقہ نہیں اگر نصاری کے ساتھ تشبہ کی نیت سے ہو تو مکروہ ہو گا (امداد الاحکام: ٤/ ۳٦۷، باب اللعب و الغنا و التصاویر) ۔
البتہ جہاد کے لیے تیاری کے جو اسباب حدیث سے ثابت ہیں ان کا اختیار کرنا اولی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.