کیرم بورڈ کھیلنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 7 #243Urdu
Vol. 7باب (۸): ما يتعلق بأحكام الألعاب و اللهو واللعب

Question

عام طور پر نماز ِ عشاء سے فارغ ہونے کے بعد کچھ نوجوان مل کر تھوڑی دیر کے لیے ایک جگہ جمع ہو کر کیرم بورڈ کھیلتے ہیں، اس کی وجہ سے نہ تو فرائض و حقوق ضائع ہوتے ہیں اور نہ ہی جوا وغیرہ کوئی ناجائز امر شامل ہوتا ہے، ویسے ہی تفریح مقصود ہوتی ہے، تو کیا ایسا کھیل کھیلنا جائز ہو گا یا نہیں؟

Answer

کیرم بورڈ میں بذاتِ خود کوئی قباحت نہیں ہے، ہاں بعض اوقات اس میں انہماک اتنا ہو جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے فرائض سے غفلت ہونے لگتی ہے، یہ انہماک ممنوع ہے، ورنہ اگر محض تفریح کے لیے کچھ دیر کھیل لیا جائے جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو یہ جائز اور درست ہے ۔
حضرت مفتی محمد شفیع صاحب احکام القرآن میں فرماتے ہیں:

اعلم أن الشريعة المصطفوية السمحة البيضاء لا تمنع الارتفاقات المصالح التي فطرت عليها الطبيعة البشرية ولا ترتضي الرهبانية والتبتل، بل تقتضي المدنية والمعاشرة الصالحة، نعم: تمنع الغلو في المسليات والانهماك فيها بحيث يلهي عن الضروريات الدينية أو المعاشية، ومن المعلوم أن من الحاجات المفطور عليها الإنسان تمرين البدن وترويح القلب وتفريحه ساعة فساعة، ومن ههنا قال عليه الصلاة والسلام: "روحوا القلوب ساعة فساعة"، أخرجه أبو داود في مراسيله عن ابن شهاب مرسلاً، وأبو بكر المقري في فوائده، والقضاعي عنه عن أنس رضي الله عنه. (أحكام القرآن: ۳/۱۹٤).

کفایت المفتی میں ہے:
اگر کیرم میں بازی (یعنی ہار جیت کی کوئی قیمت) نہ لگائی جائے محض تفریح کی غرض سے تھوڑی دیر کھیل لیا جائے اور اس کی وجہ سے کسی ضروری اور مذہبی کام میں خلل نہ آئے تو مباح ہو گا ۔ (کفایت المفتی: ۹/۲۰٤، دار الاشاعت) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر ہار جیت نہ ہو اور احکامِ شرعیہ میں اس کی وجہ سے خلل نہ آئے تو کبھی کبھی وحشت اور دل بہلانے کے لیے اس کھیل (کیرم) کی گنجائش ہے، تاہم اس کی عادت نہ ڈالی جائے، اور اس کو چھوڑنے کی کوشش کی جائے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۹/۵۳٦، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.