کمپنی کے شیئرز کی تجارت کا حکم:
Question
ایک کمپنی بڑے پیمانہ پر شیئرز کی تجارت کرتی ہے، اور چونکہ شیئرز میں بہت زیادہ منافع ہیں اس لیے لوگ اس میں زیادہ سے زیادہ حصہ لیتے ہیں، لیکن اس میں کچھ شرائط لگائی گئی ہیں جن کی وجہ سے بعض علماء اس کے جواز میں تامل فرماتے ہیں ۔ شرائط ملاحظہ ہو: ۔
(۱) تین سال تک کسی اور کو نہیں بیچ سکتے ہیں ۔
(۲) افریقی کو جن میں ہندوستانی بھی شامل ہیں، فقط ان کو فروخت کر سکتے ہیں، کسی اور کو نہیں ۔
ان شرائط کی وجہ سے بعض علماء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع میں شرط لگانے سے منع فرمایا ہے لہذا یہ ناجائز ہے؟
بينوا توجروا.
Answer
اگر یہ کمپنی تجارت کرتی ہے اور کمپنی سودی بھی نہیں ہے، اور یہ معاملہ بھی سودی نہ ہو تو ان شرائط کی وجہ سے معاملہ ناجائز نہیں ہوگا، کیوں کہ پہلی شرط کا تقاضا معاملہ کی توقیت ہے یعنی تین سال تک اس کو بیچ نہیں سکتے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تین سال تک شرکت ہے اور معاملہ مؤقت ہے، اس کے بعد اگر چاہے تو بیچ دے اور اگر چاہے تو شرکت باقی رکھے یا ختم کر دے ۔
اور دوسری شرط صرف افریقیوں یا ہندوستانی کو فروخت کرنے میں متعاقدین کا فائدہ ملحوظ نہیں بلکہ قومی مفاد ملحوظ ہے، نیز یہ شرط مفضی الی النزاع نہیں، اس لیے اس کی بھی گنجائش ہے ۔
ملاحظہ ہو ہدایہ میں ہے:
ولو كان لا يقتضيه العقد ولا منفعة فيه لأحد لا يفسده وهو الظاهر من المذهب كشرط أن يبيع المشتري الدابة المبيعة لأنه انعدمت المطالبة فلا يودي إلى الربا ولا إلى المنازعة. (الهداية: ۳/۵۹، باب البيع الفاسد).
شرح مجلہ میں ہے:
وحاصل ما ذكره الفقهاء في البيع مع الشرط أن الشرط الذي يقترن به البيع إما أن يقتضيه العقد وإما أن لا يقتضيه العقد لكن يلائمه وإما ان لا يقتضيه العقد ولا يلائمه لكن قد جري العرف باشتراطه، وإما أن لا يقتضيه العقد ولا يلائمه ولا جري العرف باشتراطه لكن لا منفعة فيه لا حد، فالبيع في هذه الوجوه الأربعة صحيح، والشرط معتبر في الوجوه الثلاثة الأولى منها، ويلغو في الوجه الرابع. (شرح المجلة لمحمد الأتاسي: ۲/۵۹).
وفيه أيضاً: البيع بشرط ليس فيه نفع لأحد المتعاقدين يصح والشرط لغو، مثلاً بيع الحيوان على أن لا يبيعه المشتري لا خر أو على شرط أن يرسله في المرعي صحيح، والشرط لغو. (شرح المجلة: ۲/٦۵، المادة: ۱۸۹).
شرکتِ موقتہ کا حکم:
قال في الهندية: وإن وقتا هل يتوقت بالوقت المذكور، روي بشر عن أبي يوسف رحمه الله عن أبي حنيفة رحمه الله أنه يتوقت والطحاوي ضعف هذه الرواية، وصححها غيره من المشايخ، وهو الصحيح. (الفتاوى الهندية: ۲/۳۰۲).
وفي الهداية: المضاربة عقد يقع على الشركة بمال من أحد الجانبين ومراده الشركة في الربح
إن وقت للمضاربة وقتاً بعينه يبطل العقد بمضيه، لأنه توكيل فيتوقت بما وقته والتوقيت مفيد، فإنه تقييد بالزمان فصار كالتقييد بالنوع والمكان. (الهداية: ۳/۲٦۱، ۲۵۷).
فتاوی شامی میں ہے:
وإن وقتا لذلك وقتاً بأن قال: ما اشتريت اليوم فهو بيننا صح التوقيت، فما اشتراه بعد اليوم يكون للمشتري خاصة وكذا لو وقت المضاربة لا نها والشركة توكيل، والوكالة مما يتوقت. (فتاوى الشامي: ٤/۳۱۲، سعيد).
خلاصہ یہ ہے کہ پہلی شرط مفسدِ عقد نہیں ہے اس وجہ سے کہ متعاقدین کا فائدہ نہیں ہے بلکہ اس سے قومی مفاد وابستہ ہے، اور یہ فقہاء کی بیان کردہ شروطِ فاسدہ میں داخل نہیں ہے ۔ اور دوسری شرط در حقیقت شرط نہیں ہے، بلکہ شرکتِ موقتہ ہے اور فقہاء کے ہاں شرکتِ موقتہ جائز ہے ۔ لہذا یہ بیع و شرط نہیں ہے جس کی ممانعت حدیث شریف میں وارد ہوئی ہے ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.