شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم:
Question
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درجِ ذیل مسئلہ کے بارے میں: ۔ آج کل شیئرز کی خریدو فروخت کثرت سے ہوتی ہے، تو کیا شیئرز کی تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یعنی کوئی شخص کچھ شیئرز خریدے کہ قیمت بڑھنے کی صورت میں نفع کے ساتھ فروخت کر دے گا تو اس کا کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
موجودہ دور میں شیئرز کی خرید و فروخت ایک اہم اور مالی اعتبار سے نفع آور کاروبار بن گیا ہے، حصص کبھی تو براہِ راست کمپنی سے خریدے جاتے ہیں، کبھی ایجنسیوں کے واسطے سے لیے جاتے ہیں اور کبھی شخصی طور پر لوگ اپنا خریدا ہوا حصہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کرتے ہیں، یہ تینوں ہی صورتیں جائز اور درست ہیں، ان تمام صورتوں میں شیئرز کے مالکان یا تو خود شیئرز پر قبضہ کر چکے ہیں یا کمپنی کے مینجر اور منتظمین نے وکالۃً اس کی طرف سے شیئرز کی اصل ملکیت پر قبضہ کیا ہے ۔
اور کسی چیز کی خرید و فروخت کے لیے ضروری ہے کہ فروخت کنندہ یا تو خود اس کا مالک ہو یا مالک کی طرف سے وکیل بالبیع ہو یہ دونوں باتیں یہاں متحقق ہیں ۔
پھر یہ خرید و فروخت اس روپیئے کی خرید و فروخت نہیں ہے، جس کی دستاویز خریدارانِ حصص کو حاصل ہوئی ہے، بلکہ یہ سامان کا وثیقہ اور اس سامان کی خرید و فروخت ہے جس کی ابتدائی قیمت کمپنی نے مقرر کی تھی، تو اب کسی قدر فرق کے ساتھ بھی فروخت کیا جائے اور اصل قیمت میں کتنی ہی کمی بیشی کے ساتھ بیچا جائے، سود کا تحقق نہیں ہوگا ۔
اور جب اصولی طور پر شیئرز کی خرید و فروخت جائز ٹھہری تو اب حکم کا مدار کمپنی کی نوعیت پر ہوگا، اگر کمپنی جائز کاروبار کرتی ہو تو اس کا شیئر خریدنا جائز ہوگا، کمپنی کے اصل مالکان مسلم ہوں یا غیر مسلم، اور اگر وہ ناجائز اور غیر شرعی کاروبار کرتی ہو جیسے شراب سازی مجسمہ سازی وغیرہ تو اس کے شیئرز خریدنا جائز نہ ہوگا ۔
شیئرز کی تجارت میں چند ضروری باتوں کی نشاندہی:
(۱) شیئرز سرٹیفکٹ پر قبضہ ہو چکا ہو، یا کسی بھی طرح یقینی طور پر شیئر ہولڈر کی بقدر حصص ملکیت کمپنی میں ثابت ہو چکی ہو، جس کی علامت یہ ہے کہ کمپنی کو اگر بالفرض نقصان ہو تو اس نقصان کا ضمان قانوناً شیئر ہولڈر پر بھی آتا ہو، چنانچہ شیئرز پر حقیقۃً قبضہ کے بغیر یا یقینی طور پر ملکیت ثابت ہوئے بغیر انہیں آگے بیچنا جائز نہیں ۔
تنبیہ: فی زماننا شیئرز کی تجارت اکثر انٹرنیٹ کے ذریعہ ہوتی ہے، اور شیئرز خریدنے کے بعد فوراً خریدار کے اکاؤنٹ سے رقم کٹ جاتی ہے اور شیئرز کی ملکیت کی خبر بذریعہ ای میل اس کو موصول ہو جاتی ہے، خریدار اس کے بعد شیئرز کی خریداری کی رسید بھی نکال سکتا ہے جو کہ حکمی قبضہ کے مترادف ہے، نیز بائع کے سرٹیفکٹ اسی وقت سے معطل سمجھے جاتے ہیں، لہذا اب آگے فروخت کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے، اگر چہ سرٹیفکٹ اب تک موصول نہیں ہوئے ۔
بذریعہ انٹرنیٹ اکاؤنٹ میں منتقلی کو معاییر شرعیہ میں قبضہ حکمی قرار دیا ۔
إن كيفية قبض الأشياء تختلف بحسب حالها واختلاف الأعراف فيما يكون قبضاً لها، فكما يكون القبض حسياً في حالة الأخذ باليد أو النقل أو التحويل إلى حوزة القابض أو وكيله يتحقق أيضاً اعتباراً وحكماً بالتخلية مع التمكين من التصرف، ولو لم يوجد القبض حسياً، فقبض العقار يكون بالتخلية وتمكين اليد من التصرف، فإن لم يتمكن المشتري من المبيع فلا تعتبر التخلية قبضاً، أما المنقول فقبضه بحسب طبيعته. (المعايير الشرعية، ص ۱۲۲).
(۲) بعض حضرات کا شیئرز کی خرید و فروخت میں در حقیقت خریدنا اور بیچنا مقصود ہی نہیں ہوتا، (مبیع و ثمن کا کوئی وجود ہی نہیں ہے) ان کے پیش نظر سرٹیفکٹ وصول کرنا ہوتا ہی نہیں اور نہ ہی یہ حضرات سرٹیفکٹ وصول کرتے ہیں، بلکہ محض زبانی کلامی اس پوری کاروائی سے مقصد انتہا اور نتیجہ کے اعتبار سے فرق برابر کرنا ہوتا ہے تو یہ صورت بھی جوا اور سٹا بازی ہونے کی وجہ سے بالکل حرام ہے ۔
(۳) حاضر سودے جائز ہیں، خواہ سرمایہ کاری کی نیت سے ہو، چاہے شیئرز بیچ کر نفع کمانے کی نیت سے ہو ۔
(٤) شارٹ سیل، یعنی بیع غیر مملوک جائز نہیں ہے، اگر بیچنے والے کی ملکیت میں شیئرز نہیں ہیں، اور وہ شارٹ سیل یا بلینک سیل کر رہا ہے تو یہ "بیع مالایملک" ہونے کی وجہ سے ناجائز اور باطل ہو گی ۔
(۵) اگر بیچنے والے کی ملکیت میں شیئرز ہیں اور وہ ان کی ڈیلیوری (ادائیگی) بھی لے چکا ہے، اور آئندہ کی تاریخ کے لیے آج ہی ایجاب و قبول کے ذریعے بیع کی تکمیل کر رہا ہے، جسے فارورڈ سیل (Forward sale) "البیع المضاف الی المستقبل" کہا جاتا ہے، یعنی وہ آئندہ کی تاریخ کے لیے ہے اس وجہ سے یہ ناجائز ہے ۔
(٦) فیوچر سیل، بھی ناجائز ہے ۔ یہ سٹا ہی ہے، اس کا ذکر (۲) کے تحت گزرا، یعنی شیئرز کی ایسی بیع و شراء کہ شیئرز لینا دینا مقصود نہ ہو، محض نفع و نقصان برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہو، تو یہ بھی ناجائز ہے ۔
(۷) ایک اہم قابل توجہ بات اس میں یہ ہے کہ شیئر ہولڈر اگر شرکت ختم کرنا چاہے اور کمپنی سے نکلنا چاہے تو کسی دوسرے کو فروخت کیے بغیر نکل نہیں سکتا ہے ۔ لیکن کمپنی کا پہلے سے یہ معاہدہ ہوتا ہے اور معاہدہ کی پابندی ضروری ہے، اس وجہ سے اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔
(۸) اگر کمپنی کچھ سودی لین دین میں ملوث ہو تو اس کے سالانہ اجلاس میں آواز اٹھائی جائے ۔
(۹) جب منافع تقسیم ہو تو اس وقت جتنا نفع کا جتنا حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو، اس کو صدقہ کر دیا جائے ۔
(۱۰) بعض حضرات کے ہاں یہ بھی ضروری ہے کہ قیمتِ اسمیہ سے کم و بیش پر بیچنے کے لیے کمپنی کے اثاثے صرف نقد کی شکل میں نہ ہوں ۔
(۱۱) کمپنی کے قواعد میں یہ بات شامل ہوتی ہے کمپنی مختلف بینکوں سے سودی قرضہ حاصل کرے گی ۔ اگر یہ بات صحیح ہو تو یہ ناجائز ہے اس کی وجہ سے سب شرکاء سود لینے کے گناہ میں ملوث ہوں گے ۔
لیکن چونکہ یہ سودی معاملہ معمولی اور قلیل مقدار میں ہوتا ہے اور بذاتِ خود مقصود بھی نہیں ہوتا بلکہ ضمناً اور تبعاً ہوتا ہے، نیز بسا اوقات بڑی کمپنیوں کو حکومتی قوانین کی بنا پر یا دفع ضرر (مثلاً ظالمانہ ٹیکس میں تخفیف وغیرہ) کے لیے مجبوراً لینا پڑتا ہے لہذا اس کی گنجائش ہو سکتی ہے، پھر غیر مسلموں کی کمپنی ہو تو اس میں مزید تخفیف ہو گی ۔ جیسا کہ حضرت مولانا ظفر احمد تھانوی رحمه الله نے امداد الاحکام (٤/۳۹۷ ۔ ٤٤۰) میں تفصیلی بحث فرمائی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ غالب کا اعتبار کرتے ہوے گنجائش ہے ۔ البتہ کمپنی کی آمدنی میں جو معمولی مقدار سود کی ہو تو مالکانِ حصص کو حاصل شدہ منافع میں سے بقدرِ رقم صدقہ کر دینا چاہیے ۔
(۱۲) کمپنی کا مینجر (manager) تنخواہ کے ساتھ جو "الاونس" لیتا ہے وہ مجہول ہوتا ہے ۔ لیکن اگر وہ فیصد کے اعتبار سے معلوم ہو تو اس کی گنجائش ہے ۔
تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں: (جدید فقہی مسائل: جلد اول، و جلد چہارم ۔ واسلام اور جدید معیشت و تجارت، ص ۱۰۳ ۔ ۱۱۲ ۔ جدید فقہی مباحث: ج۱٦، ادارۃ القرآن ۔ و فتاوی عثمانی، جلد سوم ۔ و ایضاح النوادر، حصہ اول ۔ و امداد الفتاوی، جلد سوم ۔ و امداد الاحکام: ٤/۳۹۹ ۔ و نئے مسائل اور علمائے ہند کے فیصلے، ص۱۱۱، و اہم فقہی فیصلے، ۱۰۹، و عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل اور ان کا حل: ۲/۲۳۵، و جدید معاملات کے شرعی احکام، جلد اول) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.