تجارتی شیرز پر زکوٰۃ کا حکم:
Question
شیرز جو تجارتی سرمایہ ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے یا نہیں؟
Answer
شیرز جو تجارتی سرمایہ ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے ۔
ملاحظ ہو جدید فقہی مباحث میں ہے:
فقہی تصریحات اور اصول کے اعتبار سے زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت اصل رقم اور منافع کی جو مالیت ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہو گی، اس لئے کہ تجارتی اموال میں اصل سرمایہ اور منافع دونوں پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اس میں بازار کی قیمت کا اعتبار نہیں کیا جائے گا البتہ اگر کوئی شخص شیرز کی خرید و فروخت کا کاروبار ہی کرتا ہے تو ایسی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت بازار میں اس شیرز کی جو قیمت ہو گی اس قیمت کے اعتبار سے زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ (جدید فقہی مباحث: ٦/۲۵۱، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیہ) ۔
ایضاح المسائل میں ہے:
اگر کسی نے کسی کمپنی میں حصص و شیرز خرید کر شرکت کر لی ہے تو اس کے راس المال اور منافع دونوں پر زکوٰۃ واجب ہے ۔ امداد الفتاوی ۲/۲۱ ۔ (ایضاح المسائل: ۱۰٦، نعیمیہ) ۔
کتاب الفتاوی میں ہے:
چونکہ شیرز مالِ تجارت کی نمائندگی کرتے ہیں اور مالِ تجارت میں زکوٰۃ واجب ہے، اس لئے حصص میں اس کی مارکیٹ کی قیمت کے لحاظ سے زکوٰۃ واجب ہو گی ۔ (کتاب الفتاوی: تیسرا حصہ ص: ۲٦۸، نعیمیہ) ۔
مزید ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ: ۹/٤۲۰، جامعہ فاروقیہ، فتاوی رحیمیہ: ۲/۱٤، فتاوی دار العلوم دیوبند: ٦/۱٤۰ ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.