شیخ فانی کے لیے مسنون اعتکاف کا حکم:

1 min readFatwa Vol 3 #502Urdu
Vol. 3ابواب الصوم سے متعلق متفرق مسائل:باب (٦): نکاح کے متفرق مسائل

Question

ایک بوڑھا شخص جو شیخ فانی ہونے کی وجہ سے یا سخت بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا، لیکن اعتکاف میں بیٹھنا چاہتا ہے تو اس کا مسنون اعتکاف ہوگا یا نہیں؟

Answer

مسنون اور واجب اعتکاف دونوں کے لیے روزہ شرط ہے بایں وجہ اس بوڑھے شخص کا مسنون اعتکاف درست نہیں ہوگا، ہاں نفل اعتکاف ہو جائے گا۔

قال في الشامية: ومقتضي ذلك أن الصوم شرط أيضاً في الاعتكاف المسنون، لأنه مقدر بالعشر الأخير، حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر ينبغي أن لا يصح عنه، بل يكون نفلاً، فلا تكون به إقامة سنة الكفاية. (فتاوى الشامي: ۲/٤٤۲، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں مرقوم ہے:
یہ اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اگر بغیر روزہ کے یہ اعتکاف کیا تو یہ اعتکافِ مسنون نہیں ہوگا، بلکہ نفل بن جائے گا۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۲۲۰، جامعہ فاروقیہ)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.