روزہ کے بغیر مسنون اعتکاف کا حکم:

2 min readFatwa Vol 3 #233Urdu
Vol. 3كتاب الصومباب(٦): اعتکاف کا بیان

Question

ایک بوڑھا شخص جو شیخ فانی ہونے کی وجہ سے یا سخت بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتا ہے تو اس کا مسنون اعتکاف صحیح ہوگا یا نہیں؟

Answer

مسنون اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے لہذا صورتِ مسئولہ میں بوڑھے میاں کا اعتکاف نفلی ہو جائے گا سنت ادا نہ ہو گی ۔
ملاحظہ ہو فتاوی شامی میں ہے:

ومقتضي ذلك أن الصوم شرط أيضاً في الاعتكاف المسنون لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر ينبغي أن لا يصح عنه، بل يكون نفلاً فلا تحصل به إقامة سنة الكفاية. (الشامي: ۲/٤٤۲، باب الاعتكاف، سعيد).

فتاوی محمودیہ میں ہے:
عشرۂ اخیرہ کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، اگر بغیر روزہ کے یہ اعتکاف کیا تو یہ اعتکاف مسنون نہیں ہوگا، بلکہ نفل بن جائے گا، البتہ اگر ایک دن روزہ نہ رکھا تو صرف ایک دن کے اعتکاف کی قضاء لازم ہو گی ۔ (فتاوی محمودیہ: ۱۰/۲۲۰، مبوب و مرتب)۔
فتاوی رحیمیہ میں ہے:
سوال: عشرۂ اخیرہ کے اعتکاف کا قصد ہے، لیکن روزہ رکھنے کی سکت نہیں ہے، تو بدون روزہ رکھے اعتکاف صحیح ہے یا نہیں؟
الجواب: مسنون اعتکاف کے لیے روزہ شرط ہے، لہذا روزہ کے بغیر اعتکاف نفلی ہے، مسنون اعتکاف نہیں ہے ۔ (فتاوی رحیمیہ: ۳/۱۱۰ کتاب الاعتکاف)۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.