مسجد نہ ہونے کی صورت میں مصلے میں اعتکاف کرنے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #276Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

کیا سنت اعتکاف کے لیے مسجدِ شرعی کا ہونا ضروری ہے اگر کوئی شخص کسی قریبی مصلے میں اعتکاف کرے جو شرعی مسجد نہیں تو سنت اعتکاف کا ثواب ملے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

اعتکاف کے صحیح ہونے کے لیے مسجدِ شرعی کا ہونا ضروری ہے، عارضی عبادت خانہ یا مصلے میں مسنون اعتکاف ادا نہیں ہوگا ۔ ملاحظہ ہو در مختار میں مرقوم ہے:

هو لغة: اللبث وشرعاً لبث، المكث ذكر ولو مميزاً في مسجد جماعة هو ما له إمام ومؤذن أديت فيه الخمس أو لا، وعن الإمام اشتراط أداء الخمس فيه. (الدر المختار: ۲/٤٤۰، ط: سعيد، وكذا في الهداية مع العناية: ۲/۳۰۸).

فتاوی ہندیہ میں مذکور ہے:

وأما شروطه ومنها مسجد الجماعة فيصح في كل مسجد له أذان، وإقامة هو الصحيح كذا في الخلاصة، وأفضل الاعتكاف ما كان في المسجد الحرام ثم في مسجد النبي عليه الصلاة والسلام، ثم في بيت المقدس ثم في الجامع ثم فيما كان أهله أكثر وأوفر كذا في التبيين. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۱۱).

بہشتی زیور میں مرقوم ہے:
اعتکاف کے لیے تین چیزیں ضروری ہیں: (۱) مسجدِ جماعت میں ٹھہرنا ۔ (۲) بہ نیت اعتکاف ٹھہرنا، پس بے قصد وارادہ ٹھہر جانے کو اعتکاف نہیں کہتے، چونکہ نیت کے صحیح ہونے کے لیے نیت کرنے والے کا مسلمان اور عاقل ہونا شرط ہے لہٰذا عقل واسلام کا شرط ہونا بھی نیت کے ضمن میں آگیا ۔ (۳) حیض و نفاس سے خالی اور پاک ہونا اور جنابت سے پاک ہونا ۔ (بہشتی زیور، ص ۹۵۹، ط: دار الاشاعت) ۔
کتاب الفتاوی میں مذکور ہے:
جب آپ نے اس جگہ کے بارے میں باضابطہ مسجدِ شرعی ہونے کی نیت نہیں کی ہے، بلکہ عارضی طور پر اسے عبادت گاہ کی حیثیت دی ہے، تو اس میں اعتکاف کرنا درست نہیں، اعتکاف مسجدِ شرعی میں ہے اور وہ بھی ایسی مسجد جس میں پنج وقتہ نماز باجماعت ادا ہوتی ہو ۔ (کتاب الفتاوی: ۸/۳۹٦) ۔
ہاں اگر کسی بستی میں مسجدِ شرعی نہیں ہے بلکہ مصلی ہے اسی میں پنج وقتہ نماز باجماعت ادا کرتے ہیں، تو اگر اس میں اعتکاف کر لیا جائے تو امید ہے کہ اعتکاف کا ثواب حاصل ہو جائے ۔ چنانچہ مفتی عبد الرحیم صاحب فرماتے ہیں:
جب کہ بستی میں مسجد ہی نہیں ہے تو جس مکان میں پنج وقتہ نماز باجماعت ادا کرنے کا انتظام ہو اس میں اعتکاف کیا جائے، امید ہے کہ سنتِ مؤکدہ کا ثواب ملے گا، نہ کیا تو کوتاہی کا بار رہے گا جتنا ہو سکے کر گزرنا چاہیے قبول کرنا اللہ تعالی کے اختیار میں ہے ۔
قالوا لما سقط عن المرأة في صلاتها المسجد الجامع كذلك سقط في اعتكافها المسجد الجامع أيضاً. (رسائل الأركان، ص: ۲۲۹)، فقط والله تعالى أعلم بالصواب.
نوٹ: جس مکان میں نماز باجماعت ادا کرتے ہیں وہاں جماعت کا ثواب مل جائے گا، لیکن مسجد کے ثواب سے محرومی رہے گی، اس لیے مسجد بنانے کی کوشش جاری رکھیں ۔ (فتاوی رحیمیہ: ٤/۱۳۷، ط: مکتبۃ الاحسان، دیوبند) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.