بحالتِ اعتکاف عورت کا فقط مصلے پر بیٹھنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #275Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

ایک مولوی صاحب نے عورت کے اعتکاف کے بارے میں بتلایا کہ جس مصلے پر نماز پڑھتی ہے دن رات اسی مصلے پر بیٹھی رہے، بغیر ضرورت کے کمرہ میں نہیں گھوم سکتی ۔ اب آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ عورت کا محل اعتکاف پورا کمرہ ہے یا فقط مصلی؟ بینوا توجروا ۔

Answer

فقہاء کرام کی عبارات سے پتا چلتا ہے کہ عورت گھرکی مسجد میں اعتکاف کرے، اور گھرکی مسجد وہ پورا کمرہ ہے جو نماز کے لیے مخصوص ہے، تو جس طرح مرد حضرات پوری مسجد میں بلا ضرورت گھوم سکتے ہیں، اسی طرح عورتیں بھی مخصوص پورے کمرے میں بلا ضرورت گھوم سکتی ہیں، اگر عورت کا محل اعتکاف صرف وہ مصلی ہو جس پر وہ نماز پڑھتی ہے تو اس میں حرجِ عظیم ہے ۔ ملاحظہ ہو عمدۃ القاری میں ہے:

عند أبي حنيفة رحمه الله إنما يصح اعتكاف المرأة في مسجد بيتها وهو الموضع المهيأ لها في بيتها لصلاتها. (عمدة القاري: ۱۷/۱۹٤، باب الاعتكاف في العشر الأواخر).

در مختار مع رد المحتار میں مرقوم ہے:

امرأة في مسجد بيتها

ولا تخرج من بيتها إذا اعتكفت فيه قوله في مسجد بيتها، وهو المعد لصلاتها الذي يندب لها ولكل أحد اتخاذه كما في البزازية. (۲/٤٤۱، سعيد).
وفي الفتاوى الهندية: والمرأة تعتكف في مسجد بيتها إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل لا تخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي. (الفتاوى الهندية: ۱/۲۱۱).
وللاستزادة انظر: (بدائع الصنائع: ۲/۱۱٤، سعيد، وتبيين الحقائق: ۱/۳۵۰، ط: إمداديه، ملتان).

واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.