عورتوں کے لیے اجتماعی اعتکاف کا حکم:
Question
کیا یہ بات درست ہے کہ عورتیں رمضان کے آخری عشرہ میں کسی مکان میں جمع ہو جائیں جس میں کوئی غیر محرم نہ ہو اور اس طرح اعتکاف کریں کہ ان میں ایک عالمہ فاضلہ ہو جو دوسری عورتوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے اور ان کے شوہر مسجد میں اعتکاف کریں، تو یہ جائز ہوگا یا نہیں؟
Answer
بصورتِ مسئولہ عورت کو اصل حکم یہ ہے کہ اپنے گھر کے کو نے میں جو نماز کے لیے مخصوص ہو اعتکاف کرے، لیکن اگر شوہر راضی ہو اور چند خواتین مل کر ایک عالمہ فاضلہ کو تعلیم و تعلم اور وعظ و نصیحت کے لیے منتخب کر لے اور اس مقصد کے لیے جمع ہو جائیں جس میں فتنہ وغیرہ کا کوئی خدشہ نہ ہو اور پردہ وغیرہ کا مکمل اہتمام کریں تو اس اجتماعی اعتکاف کی اجازت ہو گی ۔
صحیح احادیث میں عورتوں کے جمع ہونے کا ذکر ہے ۔ ملاحظہ ہو :
عن عائشة رضي الله تعالى عنها قالت: كان النبي ﷺ، يعتكف في العشر الأواخر من رمضان فكنت أضرب له خباء فيصلي الصبح ثم يدخله فاستأذنت حفصة رضي الله عنه عائشة رضي الله عنه أن تضرب خباء فأذنت لها فضربت خباء فلما رأته زينب ابنة جحش ضربت خباء فلما أصبح النبي ﷺ رأي الأخبية فقال: ما هذا فأخبر فقال النبي ﷺ آلبر ترون بهن فترك الاعتكاف ذلك الشهر ثم اعتكف عشراً من شوال. (رواه البخاري، رقم: ۲۰۳۳، باب اعتكاف النساء).
ازواجِ مطہرات نے حضور ﷺ سے استفادہ کی خاطر اجتماعی اعتکاف کے لیے مسجد میں خیمے لگائے لیکن حضور ﷺ نے درجِ ذیل چند وجوہات کی بنا پر اس کو پسند نہیں فرمایا ۔
عمدۃ القاری میں مرقوم ہے:
وقال القاضي عياض: إنما قال هذا الكلام إنكاراً لفعلهن لأنه خاف أن يكن مخلصات في الاعتكاف بل أردن القرب منه المباهات به ولأن المسجد يجمع الناس ويحضره الأعراب والمنافقون وهن محتاجات إلى الدخول والخروج فيبتذلن بذلك ولأنه إذا رآهن عنده في المسجد فصار كأنه في منزله بحضوره مع أزواجه وذهب المقصود من الاعتكاف وهو التخلي عن الأزواج ومتعلقات الدنيا أو لأنهن ضيقن المسجد بأخبيتهن ونحوها. (عمدة القاري: ۸/۲۷٦، ط: ملتان).
(وكذا في فتح الباري: ٤/۲۷٦ وفي شرح الزرقاني: ۲/۲۸۱، ط: بيروت، وشرح النووي على مسلم: ۸/٦۹، ط: بيروت).
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.