عورتوں کے لیے مسجد جانے کا حکم:
Question
قرآن اور سنت کی روشنی میں عورتوں کا مسجد میں نماز کے لیے جانا کیا حکم رکھتا ہے؟
Answer
قرآن اور سنت کی روشنی میں یہی معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کو گھر میں بلکہ گھر کے کونے میں نماز پڑھنا افضل ہے، مساجد جانا جب کہ زمانہ پُرفتن ہے اور فحاشیاں عام ہیں پر دہ نشین خواتین کے لیے زیبا نہیں نیز شریعت مطہرہ نے اس کو پسند نہیں کیا ۔
دلائل ملاحظہ ہوں:
(۱) قرآن کریم میں اللہ تعالی ازواجِ مطہرات (جو کہ تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں) کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وقرن في بيوتكن﴾
یعنی گھر میں قرار سے رہو، لہذا دوسری خواتین کو کہاں لائق ہے کہ مساجد میں نماز کے لیے جائیں جب کہ وہاں مردوں کا اختلاط بھی ہوتا ہے ۔
نیز احادیث میں نبی پاک ﷺ کی تعلیمات عورتوں کے حق میں بھی یہی ہیں کہ گھر کے کونے میں نماز پڑھیں یہ شریعت کا منشا ہے اور آپ نے گھر میں نماز پڑھنے کو پسند فرمایا ہے، اسی میں آپ
ﷺ
کی سنت کی اقتداء ہے اور اتباعِ سنت میں کامیابی ہے جیسا کہ حضرت ام حمید رضی اللّٰہ تعالی عنہا وغیرہ نے آپ ﷺ کی تعلیم پر عمل کیا اور پوری زندگی گھر میں نماز پڑھی ۔
(۲) ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
(
۱) عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: قال رسول الله ﷺ: صلاة المرأة في بيتها خير من صلاتها في حجرتها وصلاتها في حجرتها خير من صلاتها في دارها وصلاتها في دارها خير من صلاتها خارج. رواه الطبراني في الأوسط ورجاله رجال الصحيح خلا زيد بن مهاجر. (مجمع الزوائد: ۲/۳٤، باب خروج النساء إلى المساجد، دار الفكر)
(۲) عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في دارها وصلاتها في دارها أفضل من صلاتها فيما سواها ثم قال: إن المرأة إذا خرجت استشرفها الشيطان. رواه الطبراني في الكبير ورجاله رجال الصحيح. (مجمع الزوائد: ۲/۳٤، باب خروج النساء إلى المساجد، دار الفكر)
(۳) ابو داؤد شریف میں ہے:
عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: صلاة المرأة في بيتها أفضل من صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها. وفي هامشه: مخدعها هو البيت الصغير الذي يكون في داخل البيت، وقال السندي: هو البيت الذي يخبأ فيه خير المتاع وهو الخزانة داخل البيت). (رواه أبو داود: ۱/۸٤ باب التسديد في ذلك)
(٤) عن أم حميد رضي الله تعالى عنها امرأة أبي حميد الساعدي رضي الله عنه عن النبي ﷺ أنه قال لها: قد علمت أنك تحبين الصلاة معي وصلا تك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك وصلا تك في حجرتك خير من صلاتك في دارك وصلا تك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك وصلا تك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجد ي. فأمرت، فبني لها مسجد في أقصي شيء من بيتها وأظلمه، فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عزوجل. إسناده حسن. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱٥/۱٦۸۹، المكتب الإسلامي. ورواه الإمام أحمد. وابن حبان، كذا في كنز العمال: ۷/٦۷٦)
(۵) صحیح ابن خزیمہ میں ہے:
عن أم سلمة رضي الله تعالى عنها زوج النبي ﷺ قال: خير مساجد النساء قعر بيوتهن. إسناده حسن. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱۳ /۱٦۸۳، المكتب الإسلامي)
(٦) عن عبد الله رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: إن المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان وأقرب ما تكون من وجه ربها وهي في قعر بيتها. إسناده صحيح. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱۳/۱٦۸٥، المكتب الإسلامي)
(۷) عن عبد الله رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "إن أحب صلاة تصليها المرأة إلى الله في أشد مكان في بيتها ظلمة. قال الهيثمي: رواه الطبراني في الكبير ورجاله موثوقون وإسناده حسن. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱٦/۱٦۹۱، باب اختيار صلاة المرأة في أشد مكان من بيتها ظلمة، المكتب الإسلامي)
حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کا منشا ء بھی یہی تھا کہ فتنہ و فساد کی وجہ سے عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنا چاہیے، چنانچہ فرماتی ہیں کہ اگر رسول اللہ ﷺ دیکھ لیتے آج کل عورتوں نے کیا نئی چیزیں شروع کر دی ہیں تو ضرور منع فرماتے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:
عن عمرة قالت: سمعت عائشة رضي الله تعالى عنها تقول: لو راي رسول الله ﷺ ما أحدث النساء بعده لمنعهن المساجد كما منعت نساء بني إسرائيل، فقلت ما هذه؟ أو منعت نساء بني إسرائيل؟ قالت: نعم. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱۸/۱٦۹۸، المكتب الإسلامي. ورواه البخاري: ۱/۱۲۰. والمسلم: ۱/۱۸۳)
علامہ ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمه الله نے مستقل باب قائم کیا جس کا عنوان یہ ہے کہ مسجد نبوی ﷺ میں اگر چہ نماز کی بہت فضیلت ہے لیکن عورتوں کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے اور فضیلت والی حدیث میں مرد مراد ہیں نہ کہ عورتیں ۔ ملاحظہ ہو :
باب اختيار صلاة المرأة في حجرتها على صلاتها في دارها وصلاتها في مسجد قومها على صلاتها في مسجد النبي ﷺ وإن كانت صلاة في مسجد النبي ﷺ تعدل ألف صلاة في غيرها من المساجد، والدليل على أن قول النبي ﷺ: صلاة في مسجد ي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد" أراد به صلاة الرجال دون صلاة النساء:
أخبرنا أبو طاهر
عن عبد الله بن سويد الأنصاري عن عمته امرأة ابن حميد الساعدي أنها جاءت النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله إني أحب الصلاة معك فقال
الخ كما مر. (رواه ابن خزيمة: ۲/۸۱٥/۱٦۷۹، وإسناده حسن، المكتب الإسلامي)
ایک حدیث میں ہے کہ عورتوں کو جماعت سے نماز پڑھنے کے بجائے اکیلے نماز پڑھنے میں پچیس درجہ زیادہ ثواب ملتا ہے ۔ ملاحظہ ہو :
"صلاة المرأة تفضل على صلاتها في الجمع خمساً وعشرين درجة. (الفردوس بمأثور الخطاب: ۲/۳۸۹/۳۸۲٦، عن ابن عمر، دار الكتب العلمية)
ایک اشکال اور اس کا جواب:
اشکال: اگر کوئی اشکال کرے کہ زمانہ نبوی میں تو عورتیں مساجد میں جایا کرتی تھیں پھر موجودہ دور میں روکنے کی کیا وجہ ہے؟
الجواب: یقیناً دورِ نبوی میں عورتیں مساجد میں نماز وغیرہ کے لیے جایا کرتی تھیں، لیکن موجودہ دور میں چند وجوہات کی بنا پر روکا جاتا ہے:
(۱) دورِ نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم پر نزولِ وحی کا سلسلہ جاری تھا مسجد نبوی تعلیمِ دین کا مرکز تھی اور احکام اسلام بتدریج نازل ہوتے تھے اور جس طرح احکام نازل ہوتے آپ ﷺ مسجد میں بیان فرماتے اور صحابہ ان کو عمل میں لاتے، جس طرح مرد مکلف ہیں اسی طرح عورتیں بھی مکلف ہیں لہذا ان کو بھی احکامِ اسلام جاننے کی ضرورت تھی اس وجہ سے نماز میں شامل ہوتیں تاکہ جو نئے احکام نازل ہوں وہ آپ کی زبانی سنیں اور عمل میں لائیں اور امت کی دیگر آنے والی خواتین تک پہنچائیں، چنانچہ اسی طرح ہوا کہ صحابیات اور ازواجِ مطہرات کے ذریعہ دین کا بڑا حصہ امت تک پہنچا جو احادیث پڑھنے پڑھانے والوں پر مخفی نہیں ہے ۔
لہذا یہ مقصدِ عظیم پوشیدہ تھا، اس زمانہ میں تعلیم و تبلیغ گھر گھر ہو رہی ہے اور وسائل بھی بے شمار مہیا ہو چکے ہیں اب خواتین کو مسجد تک جانے اور تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں ۔
(۲) زمانہ نبوی خیر القرون کا زمانہ تھا افشائے شر سے اطمینان تھا، فتنہ و فساد کا سدِ باب تھا اس وقت مسجد میں جانا پر امن تھا کسی خطرہ کا اندیشہ نہ تھا لہذا دورِ نبوی کو موجودہ دور پر قیاس کرنا کیسے درست ہوگا؟
جب کہ روزانہ نئے نئے فتنے سر اٹھا رہے ہیں عریانی اور فحاشی کا سیلاب موجزن ہے افشائے شر کے وسائل زیادہ ہیں خیر کی امیدیں کم ہیں فساق و فجار کا غلبہ زیادہ ہے، نیز عورتوں کے فیشن دن بدن ترقی کرتے جا رہے ہیں، ایسے دور میں مسجد جانے کے لیے گھر سے نکلنا فتنہ سے خالی نہیں، اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اگر اس زمانہ کی عورتوں کو دیکھ لیتے کہ کیا کیا ایجاد کیا ہے تو ضرور منع فرماتے، حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کا زمانہ بھی دورِ نبوی سے قریب کا تھا اگر اس زمانہ کا حال ماں عائشۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہا کو معلوم ہو جائے تو ایک سیکنڈ کی اجازت گوارا نہ فرمائیں ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ زمانہ جاہلیت پلٹ کر آ رہا ہے تو خلافِ صواب نہ ہوگا ۔
(۳) زمانہ نبوی میں صحابیات مساجد میں جاتی تھیں وہ بہت اہتمام کے ساتھ جایا کرتی تھیں اور ہر جگہ پر ان کی رہنمائی ہوتی تھی مثلا:
(۱) پردہ کا کافی لحاظ ہوتا تھا روایت میں آتا ہے کہ سوتی موٹی چادریں اس طرح لپیٹ لیتی تھیں کہ صرف ایک آنکھ راستہ دیکھنے کے لیے نظر آتی تھی اور پورا جسم موٹی چادر میں پوشیدہ ہوتا تھا اور موجودہ دور کی خواتین کا پردہ ایک تزیین ہے ۔
(۲) بناؤ سنگار کے ساتھ آنے کی اجازت نہ تھی بلکہ میلی کچیلی مسجد جایا کرتی تھیں ۔
ملاحظہ ہو: صحیح ابن خزیمہ میں ہے:
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: وليخرجن إذا خرجن تفلات، إسناده حسن. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱۱/۱٦۷۹، باب الأمر بخروج النساء إلى المساجد تفلات، المكتب الإسلامي)
خوشبو لگا کر جانا ممنوع تھا ۔ ملاحظہ ہو صحیح ابن خزیمہ میں ہے:
عن زينب امرأة عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "إذا شهدت أحداكن المسجد فلا تمس طيبا". (۲/۸۱۱/۱٦۸۰)
وعن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه عن النبي ﷺ قال: "أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا ريحها فهي زانية، وكل عين زانية" إسناده حسن. (۲/۸۱۲/۱٦۸۱)
اس روایت میں ہے کہ اگر عورت عطر لگا کر باہر نکلی اور کسی اجنبی مرد کو خوشبو پہنچی تو وہ عورت زانیہ ہے ۔ کتنی سخت وعید ہے ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ عورت عطر لگا کر مسجد جائے تو نماز ہی نہ ہو گی ۔ ملاحظہ ہو :
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال مرت بأبي هريرة رضي الله عنه امرأة وريحها تعصف، فقال لها: إلى أين تريدين يا أمة الجبار قالت: إلى المسجد، قال: تطيبت؟ قالت: نعم قال: فارجعي فاغتسلي فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "لا يقبل الله من امرأة صلاة خرجت إلى المسجد وريحها تعصف حتى ترجع فتغسل" إسناده حسن. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱۲/۱٦۸۲، المكتب الإسلامي)
(٤) اختلاط سے روکا گیا تھا، مردوں کو حکم تھا کہ نماز کے بعد کچھ انتظار کر لیں تاکہ عورتیں نکل جائیں اس کے بعد مرد نکلیں تاکہ راستہ میں اختلاط نہ ہو ۔
حدیث شریف میں ہے:
كان رسول الله ﷺ إذا سلم يمكث في مكانه يسيراً قال ابن شهاب: فنري والله أعلم لكي ينفذ من ينصرف من النساء. (رواه البخاري: ۱/۱۱۷/۸٤۱)
(
۳)
فقہاء کی عبارات اور اکابرین کے فتاوی:
طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
ولا يحضرن الجماعات لما فيه من الفتنة والمخالفة لقوله ﷺ: "صلاة المرأة في بيتها أفضل في صلاتها في حجرتها وصلاتها في مخدعها أفضل من صلاتها في بيتها" فالأفضل لها ما كان أستر لها لا فرق بين الفرائض وغيرها كالتراويح إلا صلاة الجنازة
قوله (والمخالفة) أي مخالفة الأمر لأن الله تعالى أمرهن بالقرار في البيوت فقال تعالي: ﴿وقرن في بيوتكن﴾ الأحزاب ۳۳. وقال ﷺ: "بيوتهن خير لهن لوكن يعلمن". (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: ۱/۳۰٤، فصل في بيان الأحق بالإمامة، قديمي كتب خانه)
امداد الفتاح میں ہے:
ولا يحضرن الجماعات مطلقاً في كل الأوقات والعجوز كالشابة في المنع من حضور الجمع والأعياد وغيرها، لا نها ممنوعة عن البروز ولذلك كانت صلاتها في جوف بيتها أفضل من صلاتها في صحن دارها. (إمداد الفتاح: ۳٤٥ بيان من تكره إمامتهم، بيروت)
طحطاوی علی الدر المختار میں ہے:
أما في زماننا فالمفتي به منع الكل في الكل حتى في الوعظ ونحوه (قوله لفساد الزمان) ولذا قالت عائشة رضي الله تعالى عنها للنساء حين شكون إليها من عمر رضي الله عنه لنهيه لهن عن الخروج إلى المساجد: لو علم النبي ﷺ ما علم عمر رضي الله عنه ما أذن لكن في الخروج، قهستاني. (حاشية الطحطاوي على الدر المختار: ۱/۲٤٥، باب الإمامة، كوئٹه)
عالمگیری میں ہے:
والفتوى اليوم على الكراهة في كل الصلوات لظهور الفساد، كذا في الكافي، وهو المختار كذا في التبيين. (فتاوى عالمگيري: ۱/۸۹ الباب الخامس في الإمامة، الفصل الخامس في بيان مقام الإمام والمأموم)
شامی میں ہے:
(قوله على المذهب المفتي به) أي مذهب المتأخرين، قال في البحر: وقد يقال هذه الفتوى التي اعتمدها المتأخرون مخالفة لمذهب الإمام وصاحبيه، فإنهم نقلوا أن الشابة تمنع مطلقاً اتفاقاً، وأما العجوز فلها حضور الجماعة إلا في الظهر والعصر والجمعة أي وعندهما مطلقاً، فالإفتاء بمنع العجائز في الكل مخالف للكل، فالاعتماد على مذهب الإمام قال في النهر: وفيه نظر، بل هو مأخوذ من قول الإمام وذلك أنه إنما منعها لقيام الحامل وهو فرط الشهوة بناء على أن الفسقة لا ينشرون في المغرب لا نهم بالطعام مشغولون وفي الفجر والعشاء نائمون، فإذا فرض انتشارهم في هذه الأوقات لغلبة فسقهم كما في زماننا بل تحريهم إياها كان المنع فيها أظهر من الظهر. نهر. (شامي: ۱/٥٦٦، باب الإمامة، سعيد كمپني)
تقریرات الرافعی میں ہے:
(قول الشارح: واستثني الكمال بحثا العجائز) لكن من أطلق قال لكل ساقطة لا قطة، وإذا كانت الفساق تتبع البهائم والموتى في القبور فلان تتبع العجائز المتفانية أولي، فكل من تكلم على حسب حاله وما يشاهد في أهل عصره ومن اتسع إطلاعه منع الكل وهو الصواب ويشهد له حديث عائشة رضي الله تعالى عنها حيث قالت: "لو رأي رسول الله ﷺ ما أحدث النساء لمنعهن المساجد" ولم يفصل. رحمتي. (التحرير المختار: ۱/۷۲، باب الإمامة، سعيد كمپني)
فتح القدیر میں ہے:
لا يقال: هذا حينئذ نسخ بالتعليل. لا نا نقول: المنع يثبت حينئذ بالعمومات المانعة من التفتين، أو هو من باب الإطلاق بشرط فيزول بزواله كانتهاء الحكم بانتهاء علته، وقد قالت عائشة رضي الله تعالى عنها في الصحيح: "لو أن رسول الله ﷺ رأي ما أحدث النساء بعده لمنعهن"
بل عمم المتأخرون المنع للعجائز والشواب في الصلوات كلها لغلبة الفساد في سائر الأوقات. (فتح القدير: ۱/۳٦٥، باب الإمامة، دار الفكر)
عنایہ شرح ہدایہ میں ہے:
والفتوى اليوم على كراهة حضورهن في الصلوات كلها لظهور الفساد. (عنايه على هامش فتح القدير: ۱/۳٦٦، دار الفكر)
جوہرہ میں ہے:
والفتوى اليوم على الكراهة في الصلاة كلها لظهور الفسق في هذا الزمان. (الجوهرة النيرة: ۷۲، باب صفة الصلاة، مكتبه إمدادية ملتان)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:
والمختار في زماننا أن لا يجوز شيء من ذلك لفساد الزمان والتظاهر بالفواحش. (الاختيار لتعلى ل المختار: ٥۹، دار الدعوة استنبول)
مجمع الانہر میں ہے:
الأحكام قد تختلف باختلاف الزمان، ألا يري أن النساء كن يخرجن إلى الجماعات في زمانه عليه الصلوة والسلام وزمان أبي بكر الصديق رضي الله عنه حتى منعهن عمر رضي الله عنه واستقر الأمر عليه وكان ذلك هو الصواب كما في التبيين. (مجمع الأنهر في شرح ملتقي الأبحر: ۲/۳۸٤، باب الأجرة الفاسدة تحت كتاب الإجارة، إحياء التراث العربي)
بدائع الصنائع میں ہے:
أما النساء فلأن خروجهن إلى الجماعات فتنة. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ۱/۱٥٥/فصل في بيان من تجب عليه الجماعة، سعيد)
مبسوط میں ہے:
إن العجوز إذا كان لا يشتهيها شاب يشتهيها شيخ مثلها وربما يحمل فرط السبق الشاب على أن يشتهيها
كما في زماننا فلهذه العلة منعت في الصلوات كلها. (المبسوط للسرخسي: ۲/٤۱، باب صلاة العيدين، إدارة القرآن كراچي)
علامہ عینی رحمه الله نے بھی فتنہ و فساد کی وجہ سے منع فرمایا ہے ۔ ملاحظہ ہو عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں ہے:
قال أصحابنا: لأن في خروجهن خوف الفتنة وهو سبب للحرام، وما يفضي إلى الحرام فهو حرام، فعلى هذا قولهم: يكره مرادهم يحرم، لا سيما في هذا الزمان لشيوع الفساد في أهله. (عمدة القاري: ٤/٦٤٦، باب خروج النساء إلى المساجد)
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
قلت: لو شاهدت عائشة رضي الله تعالى عنها ما أحدث نساء هذا الزمان من أنواع البدع والمنكرات لكانت أشد انكاراً، ولا سيما نساء مصر، فإن فيهن بدعاً لا توصف ومنكرات لا تمنع، منها ثيابهن من أنواع الحرير المنسوجة أطرافها من الذهب والمرصعة باللآلي وأنواع الجواهر، وما على رؤوسهن من الأقراص المذهبة المرصعة والجواهر الثمنية، والمناديل الحرير المنسوج بالذهب والفضة الممدودة، وقمصانهن من أنواع الحرير الواسعة الأكمام جداً، السابلة أذيالها على الأرض مقدار أذرع كثيرة بحيث يمكن أن يجعل من قميص واحد ثلاثة قمصان وأكثر. ومنها: مشيهن في الأسواق في ثياب فاخرة وهن متبخرات متعطرات مائلات متبخترات متزاحمات مع الرجال مكشوفات الوجوه في غالب الأوقات. ومنها: ركوبهن على الحمير الغرة وأكمامهن سابلة من الجانبين في ازر رفيعة جداً. ومنها: غلبتهن على الرجال وقهرهن إياهم وحكمهن عليهم بأمور شديدة، ومنهن نساء يبعن المنكرات بالاجهار، ويخالط الرجال فيها، ومنهن قوادات يفسدن الرجال والنساء ويمشين بينهن بما لا يرض به الشرع، ومنهن: صنف بغايا قاعدات متوصلات للفساد، ومنهن صنف دائرات على أرجلهن يصطدن الرجال
و منهن: مغنيات تغنين بأنواع الملاهي بالأجرة للرجال والنساء، ومنهن: صنف خطابات يخطبن للرجال نساء لها أزواج بفتن يوقعنها بينهم، وغير ذلك من الأصناف الكثيرة الخارجة عن قواعد الشرعية، فانظر إلى ما قالت الصديقة رضي الله تعالى عنها من قولها: لو أدرك رسول الله ﷺ ما أحدث النساء، وليس بين هذا القول وبين وفاة النبي ﷺ إلا مدة يسيرة، على أن نساء ذلك الزمان ما أحدثن جزأ من ألف جزء مما أحدثت نساء هذا الزمان. (عمدة القاري: ٤/٦٤۹/۸٦۹، باب انتظار الناس قيام الإمام العالم تحت أبواب صفة الصلاة، دار الحديث ملتان)
حافظ ابن حجر رحمه الله فرماتے ہیں ملاحظہ ہو فتح الباری میں ہے:
ووجه كون صلاتها في الإخفاء أفضل تحقق الأمن فيه من الفتنة، ويتأكد ذلك بعد وجود ما أحدث النساء من التبرج والزينة، ومن ثم قالت عائشة رضي الله تعالى عنها ما قالت. (فتح الباري: ۲/۳٥۰/۸٦۹، باب انتظار الناس قيام الإمام، دار نشر الكتب الإسلامية لاهور)
اکابرین کے فتاوی سے بھی عورتوں کو مسجد جانے کی ممانعت معلوم ہوتی ہے:
فتح الملهم
میں ہے:
وبالنظر إلى التعليل المذكور منعت غير المزينة أيضاً لغلبه الفساق وليلا وإن كان النص يبيحه لأن الفساق في زماننا أكثر انتشارهم وتعرضهم بالليل وعلى هذا ينبغي على قول أبي حنيفة رحمه الله تفريع منع العجائز ليلا أيضاً، بخلاف الصبح فإن الغالب نومهم في وقته، بل عمم المتأخرون المنع للعجائز والشواب في الصلوات كلها لغلبة الفساد في سائر الأوقات. (فتح الملهم: ۳/٥۲٦، باب خروج النساء إلى المساجد)
نفع المفتی و السائل میں ہے:
الفتوى في زماننا على أنهن لا يخرجن، وإن كن عجائز إلى الجماعات، لا في الليل ولا في النهار، لغلبة الفتنة والفساد وقرب يوم المعاد.
قال مفتي الثقلين: الفتوى اليوم على الكراهة في كل الصلوات، ومتي كره حضورهن المساجد للصلاة فلأن يكره حضورهن في مجلس الوعظ أولى، انتهى.
وفي النهاية: الجملة في هذه المسألة أن النساء كان يباح لهن الخروج إلى الصلاة ثم منعن بعد ذلك لما صار خروجهن سبباً للفتنة.
وفي الكفاية: والفتوى اليوم على الكراهة في الصلوات كلها لظهور الفساد، فمتى كره حضورهن المساجد لأن يكره مجالس العلم خصوصا عند هؤلاء الجهال الذين تحلوا بحلية العلماء أولي، كذا في مبسوط فخر الإسلام، انتهى.
وقال بحر العلوم مولانا عبد الحي في "رسائل الأركان" بعد تطويل الكلام في إفتاء منعهن عن الخروج إلى المساجد: وإنما أطنبنا الكلام لما كان يزعم البعض أنهم أبطلوا النص بالتعليل، وقالوا: إن الحاكم هو الله تعالي، وكان عالماً بما أحدثته النساء، فلا يظهر لقول أم المؤمنين رضي الله تعالى عنها وجه. وليس الأمر كما زعموا، وكون الحاكم هو الله تعالى مسلم، وعلمه بما أحدثته النساء كان متحققاً أيضاً، لكنا نقول: إن حكم الله تعالى على لسان رسوله ﷺ بعدم المنع عن خروجهن للمساجد كان مؤقتاً إلى عدم احتمال الفتنة، فانتفي بانتفائه، ومقصود أم المؤمنين رضي الله تعالى عنها لو كان النساء أحدثن في الزمان الشريف ما أحدثنه الآن لما حكم رسول الله ﷺ بالخروج، لانتفاء ما أناط الله الحكم به، انتهى.
وقال الزيلعي في "تبيين الحقائق في شرح كنز الدقائق" ولا ينكر تغيير الأحكام بتغيير الزمان، كغلق المساجد يجوز في زماننا، انتهى. (فتاوى اللكنوي: ص ۳۱٤. ۳۱۷ ما يتعلق بالجماعة، بيروت)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
اس زمانہ میں بلکہ بہت پہلے سے عورتوں کا جماعت میں شریک ہونے کے لیے مسجد و عید گاہ میں جانا ممنوع و مکروہ ہے ۔ صحابہ کرام ث كے زمانے ہی میں یہ ممنوع ہو چکا تھا، کما ورد فی الحدیث ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند: ۳/٤۹، باب الجماعۃ، مدلل و مکمل)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
فتنہ و فساد کی زیادتی کی وجہ سے ممنوع ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ: "عورتوں کی یہ حالت اگر حضور آ کرم ﷺ ملاحظہ فرماتے تو مسجد میں جانے سے منع فرما دیتے" ۔ بعض اکابر صحابہ رضی اللہ تعالی عنہم نے تو تدبیروں سے اپنی عورتوں کو مسجد میں جانے سے روکا ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ٦/٤۷٤، باب الجماعۃ، جامعہ فاروقیہ)
احسن الفتاوی میں ہے:
عورتوں کے لیے جماعت میں شریک ہونا مکروہ تحریمی ہے ۔ بحوالہ رد المحتار (احسن الفتاوی: ۳/۲۸۳، باب الامامۃ و الجماعۃ)
عمدۃ الفقہ میں ہے:
عورتوں کا جماعت میں حاضر ہونا مکروہ ہے ۔ (عمدۃ الفقہ: ۲/۱۱۵، کتاب الصلوۃ)
فتاوی بینات میں ہے:
حضرت عمر
رضي الله عنه
نے اپنے دور میں جب عورتوں کا داخلہ مسجد میں بند کیا اور عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع فرمایا تو تمام صحابہ کرام
ث
نے اسے پسند کیا اور کسی نے اس پر نکیر نہیں کی، البتہ بعض عورتوں نے حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا سے اس کی شکایت کی تو حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالی عنہا نے فاروقی فیصلہ سے اتفاق کرتے ہوے فرمایا: اگر حضور ﷺ ان چیزوں کو دیکھتے جو اب عورتوں میں نظر آتی ہیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ بھی عورتوں کو مسجد میں آنے سے منع فرماتے ۔ صحیح بخاری ۔ (فتاوی بینات: ۲/۳۲۷، کتاب الصلوۃ، مکتبہ بینات)
درس ترمذی میں ہے:
امام طحاوی رحمه الله فرماتے ہیں کہ عورتوں کو نماز کے لیے نکلنے کا حکم ابتداءِ اسلام میں دشمنانِ اسلام کی نظروں میں مسلمانوں کی کثرت ظاہر کرنے کے لیے دیا گیا تھا اور یہ علت اب باقی نہیں رہی، علامہ عینی رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس علت کی وجہ سے بھی اجازت ان حالات میں تھی جب کہ امن کا دور تھا اب جب کہ دونوں علتیں ختم ہو چکی ہیں لہذا اجازت نہ ہونی چاہیے ۔ چنانچہ علماء متاخرین کا فتوی اسی پر ہے کہ اس زمانہ میں ان کا مساجد کی طرف نکلنا درست نہیں ۔ (درس ترمذی: ۲/۳۲۱، باب فی خروج النساء فی العیدین)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
آنحضرت ﷺ کا بابرکت زمانہ چونکہ شر و فساد سے خالی تھا، ادھر عورتوں کو آنحضرت ﷺ سے احکام سیکھنے کی ضرورت تھی اس لیے عورتوں کو مساجد میں حاضری کی اجازت تھی اور اس میں یہ قیود تھیں کہ با پردہ جائیں، میلی کچیلی جائیں، زینت اختیار نہ کریں اس کے باوجود عورتوں کو ترغیب دی جاتی تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں لیکن جن قیود و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوے آنحضرت ﷺ نے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت دی جب عورتوں نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی ۔ اس بناء پر فقہائے امت نے جو در حقیقت حکمائے امت ہیں عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا ۔ (آپ کے مسائل اور ان کا حل: ۲/۳۰۲، عورتوں کی نماز کے چند مسائل، مکتبہ لدھیانوی) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.