حرمین شریفین میں عورتوں کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا:

3 min readFatwa Vol 2 #169Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (٦): امامت کا بیان

Question

آج کل عورتیں حرمین شریفین میں نماز پڑھتی ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

Answer

افضل اور بہتر یہ ہے کہ عورتیں حرمین شریفین میں نماز پڑھنے کے لیے نہ آئیں ۔ البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلا خوف وغیرہ تو آ سکتی ہے، نیز طواف اور زیارتِ روضۂ مبارک کے لیے آنا درست ہے اور نماز کا وقت ہو جائے تو وہیں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، عام حالات میں کمرے میں ہی نماز پڑھنا افضل ہے احادیث سے بھی اس کی فضیلت معلوم ہوتی ہے ۔ ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

(٤) عن أم حميد امرأة أبي حميد الساعدي رضي الله تعالى عنها عن النبي ﷺ أنه قال لها: قد علمت أنك تحبين الصلاة معي وصلا تك في بيتك خير من صلاتك في حجرتك وصلا تك في حجرتك خير من صلاتك في دارك وصلا تك في دارك خير من صلاتك في مسجد قومك وصلا تك في مسجد قومك خير من صلاتك في مسجد ي. فأمرت، فبني لها مسجد في أقصي شيء من بيتها وأظلمه، فكانت تصلي فيه حتى لقيت الله عزوجل. إسناده حسن. (صحيح ابن خزيمة: ۲/۸۱٥/۱٦۸۹، المكتب الإسلامي. ورواه الإمام أحمد. وابن حبان. كذا في كنز العمال: ۷/٦۷٦)

علامہ ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمه الله نے مستقل باب قائم کیا جس کا عنوان یہ ہے کہ مسجد نبوی ﷺ میں اگر چہ نماز کی بہت فضیلت ہے لیکن عورتوں کے لیے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے اور فضیلت والی حدیث میں مرد مراد ہیں نہ کہ عورتیں ۔ ملاحظہ ہو :

باب اختيار صلاة المرأة في حجرتها على صلاتها في دارها وصلا تهافي مسجد قومها على صلاتها في مسجد النبي ﷺ وإن كانت صلاة في مسجد النبي ﷺ تعدل ألف صلاة في غيرها من المساجد، والدليل على أن قول النبي ﷺ: صلاة في مسجد ي هذا أفضل من ألف صلاة فيما سواه من المساجد" أراد به صلاة الرجال دون صلاة النساء:
أخبرنا أبو طاهر

عن عبد الله بن سويد الأنصاري عن عمته امرأة ابن حميد الساعدي أنها جاءت النبي ﷺ فقالت: يا رسول الله إني أحب الصلاة معك فقال

الخ كما مر. (رواه ابن خزيمة: ۲/۸۱٥/۱٦۷۹، وإسناده حسن، المكتب الإسلامي)

احسن الفتاوی میں ہے:
مکہ مکرمہ میں عورت کو گھر میں نماز پڑھنے پر وہی اجر ملے گا جو مردوں کے لیے مسجد حرام میں نماز پر ہے ۔
نیز مذکور ہے: مسجد نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے پر جہنم، عذاب اور نفاق سے بشارت صرف مردوں کے لیے نماز جماعت کے ساتھ مخصوص ہے، عورتوں کے لیے مسجد نبوی کی ب جائے گھر میں نماز پڑھنا افضل ہے ۔ (احسن الفتاوی: ۳/۳٤، باب صفۃ الصلاۃ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
فصل سوم
جماعتِ ثانیہ کے احکام

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.