عورتوں کے لیے اہل میت کی تعزیت کے لیے جانے کا حکم:

3 min readFatwa Vol 9 #207Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

اگر شہر میں کسی عورت کا انتقال ہو جائے، تو شہر کی دوسری عورتیں تعزیت کے لیے جاتی ہیں، کچھ تلاوت وغیرہ کرتی ہیں، کیا یہ میت کا حق ہے یا نہیں؟ جانا چاہیے یا نہیں؟ نیز قرآن وغیرہ پڑھ کر بخشنے میں ثواب ہوگا یا نہیں؟ بینوا توجروا ۔

Answer

تدفین سے پہلے یا اس کے بعد میت کے اہل خانہ کی تعزیت کے لیے جانا سنت ہے آنحضرت ﷺ اور صحابیات بالخصوص جنتی عورتوں کی سردار پیکر شرم و حیا حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بھی ثابت ہے، پھر وہاں کچھ تلاوت وغیرہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کر دیا جائے تو میت کو اس کا ثواب پہنچ جاتا ہے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا میت کے گھر تعزیت کے لیے تشریف لے گئیں ۔
ملاحظہ ہو ابو داود شریف میں ہے:

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال: قبرنا مع رسول الله ﷺ يعني ميتاً، فلما فرغنا انصرف رسول الله ﷺ وانصرفنا معه فلما حاذى بابه وقف فإذا نحن بامرأة مقبلة قال: أظنه عرفها فلما ذهبت إذا هي فاطمة رضي الله عنه، فقال لها رسول الله ﷺ: ما أخرجك يا فاطمة من بيتك؟ فقالت: أتيت يا رسول الله أهل هذا البيت فرحمت إليهم ميتهم أو عزيتهم به. (رواه أبو داود، رقم: ۳۱۲۵).

حدیثِ مذکور سے معلوم ہوتا ہے کہ عورتوں کا پردہ کے ساتھ تعزیت کے لیے جانا جائز اور درست ہے، اور اس کے بڑے فضائل وارد ہوے ہیں ۔
کفایت المفتی میں مرقوم ہے:
میت کی تعزیت کے لیے جانا جائز ہے تعزیت تین دن کے اندر ہو سوائے اس کے جو تین دن کے بعد سفر سے آئے مگر وہاں جا کر التزاماً فاتحہ پڑھنا بے ثبوت ہے ۔ (کفایت المفتی: ٤/۱٤۱، ط: دار الاشاعت) ۔
فتاوی رشیدیہ میں مذکور ہے:
ایصالِ ثواب ہر روز درست ہے اور موجبِ ثواب ہے کوئی تاریخ و وقت شرع سے مؤقت نہیں پس اگر کسی دن کو ضروری نہ جانے بلکہ مثل دیگر ایام کے جانے ایصالِ ثواب میں اور عوام کو بھی اس طرح کے ایصالِ ثواب میں ضرر نہ ہو تو کچھ حرج نہیں سب کے نزدیک درست ہے ۔ (فتاوی رشیدیہ، ص ۱۱۸) ۔
تعزیت کے فضائل اور ایصالِ ثواب کے متعلق مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو : (فتاوی دار العلوم زکریا، جلد دوم، و ہشتم) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.