دفن کرنے کے بعد تین دن اہل میت کے گھر ٹھہرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 9 #232Urdu
Vol. 9باب… )۲( نماز سے متعلق متفرق مسائل

Question

میت کو دفن کرنے کے بعد میت کے گھر کچھ ایام ٹھہرنا تاکہ میت کے گھر والوں کو تسلی دے یا دیگر امور پر معاونت کرے، جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ تین دن ٹھہرتے ہیں، اس کی کیا دلیل ہے؟

Answer

دفن کے بعد یا پہلے اہل میت کی تعزیت کرنا سنت ہے، لیکن تین دن ٹھہرنا مکروہ اور غیر مستحسن ہے، ہاں جو رشتہ دار دور دراز سے سفر کر کے آئے ہوں اور ایک دن میں واپس جانا مشکل ہو تو ان کے لیے گنجائش ہے، تاکہ میت کے گھر والوں کو تسلی دے سکیں اور دیگر کاموں پر مدد کر سکیں تو یہ درست ہے ۔
فتاوی شامی میں منقول ہے:

وفي الإمداد: وقال كثير من متأخري أئمتنا: يكره الاجتماع عند صاحب الميت، ويكره له الجلوس في بيته حتى يأتي إليه من يعزي، بل إذا فرغ ورجع الناس من الدفن، فليتفرقوا، ويشتغل الناس بأمورهم، وصاحب البيت بأمره. (فتاوى الشامي: ۲/۲٤۱، سعيد).
(وكذا في حاشية الطحطاوي، ص ٦۱٦، قديمي).
وفي موضع آخر: روى الإمام أحمد وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله رضي الله عنه قال: كنا نعد الاجتماع إلى أهل الميت، وصنعهم الطعام من النياحة. (فتاوى الشامي: ۲/۲٤۰).

کفایت المفتی میں مذکور ہے:
اہل میت کے گھر ضیافت کھانے کی جو رسم پڑ گئی ہے، یہ یقیناً واجب الترک ہے، صرف اہل میت کے وہ عزیز و اقارب جو دور دور سے آئے ہوں اور ان کی امروز واپسی نہ ہو سکے یا اہل میت کی تسلی کے لیے ان کا قیام ضروری ہو، وہ میت کے گھر کھانا کھا لیں تو خیر باقی تمام تعزیت کرنے والوں کو اپنے اپنے گھروں کو واپس جانا چاہیے نہ میت کے گھر قیام کریں، نہ ضیافت کھائیں ۔ (کفایت المفتی: ٦/۵۵، جامعہ فاروقیہ) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.