میت کے گھر طعامِ حاجت کا حکم:
Question
اگر میت والے اپنے اہل و عیال اور جو قریبی رشتہ دار دور سے آئے ہوں ان کے لیے گھر میں ادنی یا متوسط درجے کا کھانا پکائیں، تو شرعاً اس کا کیا حکم ہے؟
کیونکہ باہر کے رشتہ دار جب اہل میت کے لیے کھانے کا انتظام کرتے ہیں اور میت کے گھر کھانا بھیجتے ہیں تو اس میں درجِ ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
(۱) دکھاوے کے لیے کئی قسم کا کھانا پکاتے ہیں ۔
(۲) وہ ادلے بدلے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مساوات قائم رکھنا مشکل ہے، اور تفاوت کی صورت میں غیبت اور بد گوئی کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔
(۳) اگر میت کے گھر کھانا آ جائے تو گھر میں موجود عورتیں اپنے گھروں اور اعزہ کے لیے ان میں سے کچھ بھیجتی ہیں جس کی وجہ سے بسا اوقات کھانا کم پڑ جاتا ہے اور کھانا بھیجنے والوں کے لیے شرمندگی ہوتی ہے ۔
(٤) کھانا بھیجنے والوں پر فکر سوار رہتی ہے کہ کتنے کھانے والے ہوں گے، کھانا پورا ہو گا یا نہیں، یہ فکر بخار کی طرح سوار رہتی ہے اور کھانا پورا ہونے تک پریشان رہتے ہیں ۔
Answer
باہر کھانے کا انتظام کرنے میں مذکورہ بالا خرابیاں ہوں، اور میت کے رشتہ دار وغیرہ دور و دراز سے آئے ہوں تو ان کے لیے گھر میں ادنی یا متوسط درجے کا کھانا پکانے کی شرعاً اجازت ہے، جب کہ اس میں درج ذیل شرائط پائے جائیں:
(۱) عام اجتماع نہ ہو ۔
وروي الإمام أحمد رحمه الله وابن ماجه بإسناد صحيح عن جرير بن عبد الله قال: "كنا نعد الاجتماع عند أهل الميت وصنعهم الطعام من النياحة".
(۲) ادنی یا متوسط کھانا پکائیں جس طرح عام دنوں میں پکاتے ہیں اعلی درجے کا کھانا نہ پکائیں ۔
لأنها أيام تأسف فلا يليق بها ما كان للسرور. (
فتاوی خانیہ) ۔
(۳) ایام کی تخصیص نہ ہو ۔
ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع
(الفتاوى البزازية على هامش الهندية: ٤/۸۱).
تخصیصِ ایام کی وجہ سے فقہاء نے اس کو مکروہ کہا ہے ۔ (فتاوی حقانیہ: ۲/٤۹) ۔
اگر کوئی یہ اشکال کرے کہ گھر میں تعزیت کے ایام میں ضرورت اور حاجت کا کھانا پکانے کا شریعت میں کیا ثبوت ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ درجِ ذیل روایات سے اس کا ثبوت ملتا ہے:
(۱) حضرت ابو ذر رضي الله عنه کی وفات کے وقت حضرت عبد اللہ بن مسعود رضي الله عنه اور ان کے ساتھی حاضر ہوے تو حضرت ابو ذر رضي الله عنه کے فرمانے پر ان کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا ۔
عبارت ملاحظہ فرمائیں:
فبينما هم كذلك لا يقدرون على دفنه إذ قدم عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه من العراق في جماعة من أصحابه فحضروا موته وأوصاهم كيف يفعلونه وقيل قدموا بعد وفاته فولوا غسله ودفنه، وكان قد أمر أهله أن يطبخوا لهم شاة من غنمه ليأكلوه بعد الموت. (البداية والنهاية: ۷/۱۷۷، طبعة ملونة، بيروت).
(۲) تاریخ مدینہ دمشق میں ہے:
واطبخي هذا اللحم، فإنه سيشهدني قوم صالحون يلون دفني فأقريهم، فلما دفنا دعينا إلى الطعام، فأكلنا. (تاريخ مدينة دمشق: ٦٦/۲۱۸، وفي إسناده مجهول).
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ کے اہل و عیال ان کی تدفین پر قادر نہیں تھے اسی اثنا میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے رفقاء عراق سے آئے اور حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ نے ان کو تکفین و تجہیز کی وصیت کی اور ایک روایت میں ہے کہ ان کی وفات کے بعد آئے، اور ان کے غسل و تدفین کا انتظام کیا اور انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا تھا کہ ان کے لیے بکریوں میں سے ایک بکری ذبح کرنا تاکہ ان کی وفات کے بعد وہ حضرات کھالیں ۔ (البدایہ و النہایہ) ۔
تاریخ دمشق میں ہے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالی عنہ نے بیوی سے کہا گوشت پکا لیں، کیوں کہ میری تدفین میں نیک لوگ حاضر ہوں گے تو ان کو مہمانی کھلا دیں، جب ہم دفنانے سے فارغ ہوے تو توہ میں (یعنی ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ اور ان کے رفقاء کو ) طعام کے لیے بلایا گیا اور ہم نے کھا لیا ۔ (تاریخ دمشق) ۔
(۳) ترمذی شریف میں ہے:
عن عبد الله بن جعفر رضي الله تعالى عنه قال: لما جاء نعي جعفر رضي الله تعالى عنه قال النبي ﷺ: اصنعوا لا هل جعفر طعاماً فإنه قد جاءهم ما يشغلهم. (رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن: ۱/۱۹۵، باب ما جاء في الطعام يصنع لا هل الميت).
ابن ماجہ شریف میں ہے:
قال: إن آل جعفر قد شغلوا بشأن ميتهم فاصنعوا لهم طعاماً قال عبد الله: فما زالت سنة حتى كان حديثاً فترك. (رواه ابن ماجه: ۱۱۵، باب ما جاء في الطعام يبعث إلى أهل الميت).
شامی میں ہے:
ويستحب لجيران أهل الميت والأقرباء الأباعد تهيئة طعام لهم يشبعهم يومهم وليلهم لقوله ﷺ: "اصنعوا لا ل جعفر طعاماً فقد جاءهم ما يشغلهم. (حسنه الترمذي وصححه الحاكم. (الشامي: ۲/۲٤۰، مطلب في الثواب على المصيبة، سعيد. وكذا في الفقه على المذاهب الأربعة: ۱/٤۳٤).
ایک روایت میں تین دن کا ذکر ہے، ملاحظہ ہو مرقات میں ہے:
وقيل: يحمل لهم طعام إلى ثلاثة أيام مدة التعزية. (مرقاة: ٤/۹۲، إمدادية، ملتان).
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ باہر کے لوگ اہل میت کے لیے کھانا بھیج سکتے ہیں، لیکن جب اس میں خرابیاں ہوں تو اہل میت خود اپنے لیے اور دور و دراز سے آنے والے رشتہ داروں کے لیے کھانا پکا سکتے ہیں کیوں کہ مطلقاً کھانا پکانا منع نہیں بزازیہ میں ہے:
وإن اتخذ طعاماً للفقراء كان حسناً. (الفتاوى البزازية: ٦/۳۷۹)
اس سے معلوم ہوا کہ فقراء کے لیے کھانا پکانا مستحسن ہے، اسی طرح المغنی لابن قدامہ کی عبارت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ضرورت کے وقت دور و دراز سے آنے والے رشتہ داروں کے لیے کھانا تیار کرنا جائز ہے، ملاحظہ ہو:
فإن دعت الحاجة إلى ذلك جاز فإنه ربما جاءهم من يحضر ميتهم من القرى والأماكن البعيدة ويبيت عندهم. (المغني لابن قدامة الحنبلي: ۲/٤۱۳)
یعنی اگر پکانے کی ضرورت ہو تو پکانا جائز ہے کیوں کہ کبھی دور سے اور دیہات سے تعزیت اور جنازہ کے لیے لوگ آئیں گے اور ان کے پاس رات گزاریں گے تو ان کے کھانے کا انتظام جائز ہے ۔
(٤) بخاری شریف میں ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها زوج النبي ﷺ، أنها كانت إذا مات الميت من أهلها، فاجتمع لذلك النساء ثم تفرقن إلا أهلها وخاصتها، أمرت ببرمة من تلبينة، فطبخت، ثم صنع ثريد فصبت التلبينة عليها ثم قالت: كلن منها فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: "التلبينة مجمة لفؤاد المريض تذهب ببعض الحزن". (بخاري شريف: ۲/۸۱۵/۵۲۰٦، باب التلبينة. ومسلم شريف: ۲/۲۲۷، باب لكل داء دواء واستحباب التداوي).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی برادری میں کوئی میت ہو جاتی تھی اور عورتیں جمع ہو جاتی تھیں پھر جب عورتیں چلی جاتی تھیں اور صرف گھر کی عورتیں اور خاص عورتیں رہ جاتی تھیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تلبینہ پکواتی تھیں اور اس میں روٹی توڑ کر ثرید بنایا جاتا تھا پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی تھیں کہ کھاؤ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ یہ مریض کے دل کو سکون اور راحت پہنچاتا ہے اور غم کو کچھ ہلکا کرتا ہے ۔ (تلبینہ: بھوسی یا شہد یا گڑ ملا ہوا آٹے کا پتلا حلوہ) ۔
فتاوی محمودیہ میں ہے:
طعام اہل میت وہ ہے جو رواجاً اہل میت کے ذمہ تیجہ، چہلم وغیرہ کے طور پر لازم کر دیا جائے، اہل میت کو میت کی تجہیز و تکفین اور غم و حزن کی وجہ سے پکانے کی فراغت نہیں تو ایک دن دو وقت کا کھانا قرابت دار لوگ ان کے پاس بھیج دیں، اگر اہل میت خود بھی پکائیں تب بھی منع نہیں، جو شخص بطور مہمان تعزیت کے لیے آیا ہے، اہل میت اس کو اپنے ساتھ کھلائیں گے وہ منع نہیں، یہ خیال کہ تین روز تک اہل میت کے گھر کوئی چیز نہ پکائی جائے اغلاط العوام میں سے ہے ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۲۷۸، مبوب و مرتب) ۔
پاکستان میں پنج پیری حضرات میت کے گھر میں طعام پکانے اور لوگوں کے کھلانے میں بہت متصلب و متشدد ہیں، لیکن وہ بھی طعام حاجت کو جائز کہتے ہیں نشر المرجان مولانا افضل خان پنج پیری کی کتاب ہے اس پر مولانا عبد اللہ پنج پیری کی تعلیقات ہیں وہ لکھتے ہیں:
و يجوز لا هل الميت صنع الطعام لا نفسهم إذا لم يحمل لهم أحد من الجيران والأقارب طعاماً أيام مدة التعزية. (حاشية نشر المرجان: ص ٤۳۰،
اصل کتاب پر مولانا محمد طاہر رحمه الله پنج پیری کی تقریظ ہے) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.