برائے تعزیت آنے والے مہمان کے لیے کھانے کا انتظام والی روایت کی تحقیق:
Question
فتاوی دار العلوم زکریا جلد سوم ص ٦۵ پر یہ مسئلہ لکھا گیا ہے کہ میت کے گھر میت کے گھر والوں کے لیے اور تعزیت کے لیے آنے والوں کے لیے کھانے کا انتظام درست ہے اور اس کی دلیل میں حضرت ابو ذر رضی الله عنه کی وفات پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضي الله عنه اور ان کے ساتھیوں کے لیے کھانے کا انتظام کیا تھا وہ واقعہ پیش کیا گیا ہے ۔ جب کہ بعض علماء یہ اشکال کرتے ہیں کہ یہ واقعہ تاریخ کی بہت ساری کتابوں، مثلاً: دلائل النبوۃ للبیہقی (۵/۲۲۲)، و تاریخ مدینہ دمشق (٦٦/۲۱۸) و المستدرک للحاکم (٤/۱۱۳)، و حلیۃ الاولیاء (۱/۱٦۹)، و تاریخ طبری (۳/۱۳۸)، وغیرہ میں مذکور ہے لیکن ان میں سے جن روایات میں کھانا پکانے اور کھلانے کا ذکر ہے ان کی اسانید میں سیف بن عمر ہیں جو انتہائی ضعیف بلکہ متروک راوی ہے، پھر اس واقعہ سے استدلال کیسے ہو سکتا ہے؟ بینوا توجروا ۔
Answer
حضرت ابو ذر رضی الله عنه کی وفات کے بعد حضرت حضرت عبداللہ بن مسعود رضی الله عنه اور ان کے ساتھیوں کے کھانا پکانے اور کھلانے والی روایت کی اسانید میں سیف بن عمر انتہائی ضعیف اور متروک راوی ہے، لیکن طعامِ حاجت اور طعامِ صدقہ دوسری روایات سے ثابت ہے، اور ان میں سے بعض روایات اسی واقعہ کے ساتھ مذکور ہیں، مثلاً: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی تلبینہ والی روایت ملاحظہ ہو بخاری شریف میں ہے:
عن عائشة رضي الله تعالى عنها زوج النبي ﷺ: أنها كانت إذا مات الميت من أهلها، فاجتمع لذلك النساء، ثم تفرقن إلا أهلها وخاصتها، أمرت ببرمة من تلبينة فطبخت، ثم صنع ثريد فصبت التلبينة عليها، ثم قالت: كلن منها، فإني سمعت رسول الله ﷺ يقول: التلبينة مجمة لفؤاد المريض، تذهب ببعض الحزن. (رواه البخاري: ۲/۸۱۵/۵٤۱۷).
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ جب ان کی برادری میں کسی کا انتقال ہو جاتا تھا تو عورتیں جمع ہو جاتی تھیں، پھر جب عورتیں چلی جاتیں، اور گھر کی اور بعض مخصوص عورتیں رہ جاتی تھیں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا تلبینہ پکواتی تھیں اور ثرید بنا کر اس پر تلبینہ ڈال کر فرماتی کھاؤ، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ یہ مریض کے دل کو سکون اور راحت پہنچاتا ہے اور کچھ غم کو ہلکا کرتا ہے ۔
حضرت ابو ذر
رضي الله عنه
کی وفات پر کھانا پکانے اور کھلانے والی روایت کی تحقیق ملاحظہ ہو تاریخ مدینہ دمشق میں ہے:
أخبرنا أبو القاسم بن السمرقندي (ثقة) أنا أبو الحسين بن النقور (صدوق) أنا المخلص (ثقة) أنا أبوبكر بن سيف (ثقة) أنا السري بن يحيى (صدوق) أنا شعيب بن إبراهيم (مجهول) نا سيف بن عمر (ضعيف جداً) عن إسماعيل بن رافع (ضعيف) عن محمد بن كعب أن رسول الله ﷺ قيل له عام تبوك تخلف أبو ذر وهو في الطريق فطلع فقال: يرحم الله أبا ذر يمشي وحده ويموت وحده ويبعث وحده قال: فلما حضرت أبا ذر الوفاة
واطبخي هذا اللحم فإنه سيشهدني قوم صالحون يلون دفني فاقريهم فلما دفناه دعينا إلى الطعام فأكلنا. (تاريخ مدينة دمشق: ٦٦/۲۱۸).
رجال کی تحقیق ملاحظہ کیجیے:
ظ الحافظ أبو القاسم إسماعيل بن أحمد بن عمر بن أبي الأشعث السمرقندي (م ۵۳٦ هـ). انظر: (تاريخ الإسلام: ۱۱/٦۵۰)، تاريخ دمشق: ۸/۳۵۷).
ظ أحمد بن محمد بن أحمد بن عبد الله بن النقور، أبو الحسين البغدادي البزار، (م ٤۷۰ هـ)، انظر: تاريخ الإسلام (۱۰/۲۸۸)، الثقات للقاسم بن قطلوبغا (۱/٤۷٤)، تاريخ بغداد (۵/۱٤٦).
ظ محمد بن عبد الرحمن بن العباس بن عبد الرحمن بن زكريا، محدث العراق، أبو طاهر البغدادي الذهبي المخلص، (م ۳۹۳ هـ)، انظر: تاريخ الإسلام (۸/۷۳۲، والثقات للقاسم بن قطلوبغا: ۱/۸/٤۱۷، وتاريخ بغداد: ۳/۱۲٤).
ظ أحمد بن عبد الله بن يوسف، أبو بكر السجستاني الفارض (م ۳۱٦ هـ)، انظر: (تاريخ الإسلام ۷/۳۰۲، وتاريخ بغداد: ٤/٤٤۸).
ظ السري بن يحيى بن السري بن مصعب، أبو عبيدة، ابن أخي هناد بن السري، الكوفي الدارمي، انظر: تاريخ الإسلام: ٦/۵٤۷، والثقات للقاسم بن قطلوبغا: ٤/٤۲۷.
ظ شعيب بن إبراهيم الكوفي، قال الذهبي في الميزان (۲/۲۷۵) راويه كتب سيف عنه، فيه جهالة، كذا في ديوان الضعفاء (ص ۱۸۷)، وذكره ابن عدي في الكامل: (۵/٦)، وقال ليس بالمعروف، وله أحاديث وأخبار وفيه بعض النكرة وفيها ما فيه تحامل على السلف.
ظ سيف بن عمر التميمي الأسيدي، ويقال الضبي الكوفي، قال يحيى بن معين: ضعيف الحديث. وقال أبو حاتم: متروك بابة الواقدي. وقال أبوداود: ليس بشيء. وقال ابن حبان: اتهم بالزندقة. وقال الحاكم: سيف بن عمر الضبي، اتهم بالزندقة، وهو ساقط في رواية الحديث. وروى ابن حبان بإسناد أنه كان يضع الحديث. وقال ابن عدي: عامة حديثه منكر. انظر: تاريخ الإسلام: ٤/٦٤۱، وميزان الاعتدال: ۲/۲۵۵، والكامل: ٤/۵۰۷.
ظ إسماعيل بن رافع بن عويمر. قال سفيان بن عبد الملك، عن ابن المبارك: ليس به بأس، ولكنه يحمل عن هذا وهذا ويقول: بلغني، ونحو هذا، وقال عمرو بن علي: منكر الحديث، في حديثه ضعيف. وقال يحيى بن معين: ضعيف. وقال أبو حاتم: منكر الحديث. انظر: تهذيب الكمال: ۳/۸۹، والتاريخ الكبير: ۱/۳۵٤، وتاريخ دمشق: ۸/۳۹٦.
ظ محمد بن كعب بن سليم القرظي أبوحمزة (م ۱۲۰ هـ)، انظر: سير أعلام النبلاء: ۵/٦۵، وتهذيب التهذيب: ۲٦/۳٤۰.
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.