کسی میت کو اس کے رشتہ دار کی قبر میں دفن کرنے کا حکم:
Question
بعض لوگ اپنے رشتہ دار کوکسی دوسرے رشتہ دار کی قبر میں دفن کرتے ہیں یہ صحیح ہے یا نہیں؟
Answer
اگر غالب گمان ہے کہ میت بوسیدہ ہو کر خاک ہو گئی ہو گی تو اس وقت دوسری میت کو اس میں دفن کرنا درست ہے ورنہ نہیں ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:
قال في الفتح ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا ان بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب
وقال الزيلعي: ولوبلي الميت وصار تراباً جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء على ه
قلت: فالأولى إناطة الجواز بالبلا إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره وإن صار الأول تراباً لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة. (شامي: ۲/۲۳۳، مطلب في دفن الميت، سعيد. وكذا في فتح القدير: ۲/۱٤۱، دار الفكر. والبحر الرائق: ۲/۱۹٥. وفتاوى الهندية: ۱/۱۹٥)
فتاوی دار العلوم دیوبند میں ہے:
دیدہ و دانستہ پرانی قبر کو بحالت موجود گی میت کے بدون ضرورت کے کھودنا جائز نہیں اور اگر اتفاقاً قبر کھودتے ہوے دوسری میت کی ہڈیاں نکلیں تو ان کو ایک طرف کریں اور کس قدر بیچ میں پر دہ رکھ کر دوسری میت کو دفن کریں یہ جائز ہے کیوں کہ مردہ کے بوسیدہ ہونے کے بعد جواز ہی مختار ہے چنانچہ شامی میں بعد نقل اقوالِ علماء یہ لکھا ہے:
فالأولى إناطة الجواز بالبلا إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره. (
فتاوی دار العلوم دیوبند: ۵/۳۸۵، مسائل دفن، مدلل مکمل، دار الاشاعت) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم
Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.