ایک مردہ کی قبر میں دوسرے مردہ کو دفن کرنے کا حکم:

2 min readFatwa Vol 2 #521Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

اگر قبر کے اندر کسی مردے کی ہڈیاں ظاہر ہو جائیں تو اس میں دوسرے مردہ کو دفن کر سکتے ہیں یا نہیں؟

Answer

میت کو دفن کرنے کے لیے کسی دوسرے مردے کی قبر کو نہیں کھودا جائے گا، اگر کھدائی کے وقت قبر میں کچھ ہڈیاں ظاہر ہوں تو ان کو ایک طرف کر کے دوسری میت کو دفن کرنے کی گنجائش ہے دوسری علیحدہ قبر کھودنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ملاحظہ ہو شامی میں ہے:

ولا يحفر قبر لدفن آخر إلا إن بلي الأول فلم يبق له عظم إلا أن لا يوجد فتضم عظام الأول ويجعل بينهما حاجز من تراب

قال في الإمداد: ويخالفه ما في التتارخانية: إذا صار الميت تراباً في القبر يكره دفن غيره في قبره، لأن الحرمة باقية، وإن جمعوا عظامه في ناحية ثم دفن غيره فيه تبركاً بالجيران الصالحين ويوجد موضع فارغ يكره ذلك، قلت: لكن في هذا مشقة عظيمة فالأولى إناطة الجواز بالبلا إذ لا يمكن أن يعد لكل ميت قبر لا يدفن فيه غيره وإن صار الأول تراباً لا سيما في الأمصار الكبيرة الجامعة وإلا لزم أن تعم القبور السهل والوعر على أن المنع من الحفر إلى أن لا يبقي عظم عسر جداً وإن أمكن ذلك لبعض الناس، لكن الكلام في جعله حكماً عاماً لكل أحد فتأمل. (شامي: ۲/۲۳۳، مطلب في دفن الميت، سعيد. وكذا في فتح القدير: ۲/۱٤۱، دار الفكر. والفتاوى الهندية: ۱/۱٦۷. والبحر الرائق: ۲/۱۹٥)

فتاوی محمودیہ میں ہے:
اگر قبر اتنی پرانی ہو جائے کہ میت بالکل مٹی بن جائے تو اس قبر میں دوسری میت کو دفن کرنا درست ہے، ورنہ بلا ضرورت ایسا کرنا منع ہے اور بوقتِ ضرورت جائز ہے اور ایسی حالت میں جب میت کی ہڈیاں وغیرہ کچھ قبر میں موجود ہوں تو ایک طرف علیحدہ قبر میں رکھ دی جائیں ۔ (فتاوی محمودیہ: ۹/۹۷، مبوب و مرتب) ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.