دفن کرنے کے بعد اجتماعی دعا کا حکم:

3 min readFatwa Vol 2 #523Urdu
Vol. 2كتاب الصلاةباب (۱۹): احکام الجنائز

Question

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ میت کو دفن کرنے کے بعد اجتماعی دعا کرنا ثابت ہے؟ اگر ثابت ہے تو تحریر کیجیے تاکہ مسئلہ واضح ہو جائے اور شکوک دور ہو جائیں ۔

Answer

میت کو دفن کرنے کے بعد لوگوں کے رخصت ہونے سے پہلے دعا کا ثبوت ابو داود شریف کی روایت میں موجود ہے، اور اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ دعا اجتماعی تھی ۔
ملاحظہ ہو حدیث شریف میں ہے:

عن عثمان بن عفان رضي الله عنه قال: كان النبي ﷺ إذا فرغ من دفن الميت وقف عليه فقال: استغفروا لأخيكم واسئلوا له بالتثبيت فإنه الآن يسأل. (رواه أبو داود: ۲/۱۰۳، باب الاستغفار عند القبر للميت في وقت الانصراف، سعيد)

بذل المجہود میں اس کے عنوان کی تشریح یوں ہے: "
باب الاستغفار عند القبر للميت في وقت الانصراف أي الرجوع عن دفنه. (بذل المجهود: ٤/۲۱٦)

فتح الباری میں ہے:

في حديث ابن مسعود رضي الله عنه رأيت رسول الله ﷺ في قبر عبد الله ذي البجادين، الحديث وفيه "فلما فرغ من دفنه استقبل القبلة رافعاً يديه" أخرجه أبو عوانة في صحيحه. (فتح الباري: ۱۱/۱٤٤، باب الدعاء مستقبل القبلة، دار نشر الكتب، لا هو ر)

در مختار میں ہے:

ويستحب حثيه من قبل رأسه ثلاثاً، وجلوس ساعة بعد دفنه لدعاء وقراءة بقدر ما ينحر الجزور ويفرق لحمه. وفي الشامي: وكان ابن عمر رضي الله عنه يستحب أن يقرأ على القبر بعد الدفن أول سورة البقرة وخاتمتها. (الدر المختار مع الشامي: ۲/۲۳۷، مطلب في دفن الميت، سعيد)

کفایت المفتی میں یہ مسئلہ وضاحت سے مذکور ہے:
سوال:
في سنن أبي داود كان النبي ﷺ إذا فرغ من دفن الميت وقف على قبره

الخ
، مرقومہ بالا حدیث سے مغفرت مانگنا جمعاً ثابت ہوتا ہے یا فرادی فرادی؟
جواب: ہاں اس حدیث کے سیاق سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ تمام حاضرین ایک ساتھ دعا کرتے تھے، کیوں کہ دفن سے فارغ ہونے کے بعد واپس آنے کا موقع تھا لیکن حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضور
ﷺ
واپسی میں کچھ تاخیر و توقف فرماتے تھے اور میت کی تثبیت و مغفرت کی خود بھی دعا فرماتے تھے اور حاضرین کو بھی اس وقت دعا کرنے کا حکم کرتے تھے الخ ۔ (کفایت المفتی: ٤/۷۱، فصل ہفتم، دار الاشاعت)
نیز ملاحظہ ہو: فتاوی محمودیہ ۹/۱٤۸، مبوب و مرتب ۔ فتاوی دار العلوم دیوبند ۵/٤۰۰، مدلل و مکمل دار الاشاعت ۔
واللہ سبحانہ و تعالی اعلم

Ask DU Zakariyya

Fatawa SA is an independent, read-only index of fatawa already published by Darul Iftaa, Darul Uloom Zakariyya. It is not a fatwa service. For your own situation, ask the issuing Darul Ifta directly.